| 84473 | وصیت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے اورہم دس بہن بھائی ہیں،دوبھائی اورآٹھ بہنیں، جن میں سے ایک بہن کا انتقال والدکی زندگی ہی ہوگیا تھا اورہماری والدہ،دوبھائی اورنو بہنیں زندہ ہیں،والد صاحب نے زندگی میں جائیداد کسی کے نام نہیں کی اورکاروباربھی کسی کے نام نہیں کیا ،والد صاحب کے انتقال کے بعد بیٹوں نے کاروبارسنبھالاتھا مگراب ڈیڑھ سال سے کاروبارکرائے پر دیدیاہے جس کا کرایہ آتاہے وہ کرایہ بیٹے اوروالدہ کو دیاجاتاہے،بیٹیوں کو نہیں دیاجاتا،جب تک بڑے بھائی گھرمیں ساتھ رہتے تھے، اس وقت تک بہنوں کو کھانے پینے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا ،ایک سال پہلے بڑے بھائی الگ ہوگئے اوراپنا کاروبار اورگھر الگ کرلیا ،چھوٹا بھائی مدرسہ میں استاد ہے ،ہم چاربہنیں ٹنڈوآدم میں رہتی ہیں اورتین بہنیں کراچی میں رہتی ہیں ،ٹنڈوآدم میں جو بہنیں ہیں وہ ہرجمعہ گھر جاتی ہیں تو ان کے کھانے پینے کاکوئی انتظام نہیں ہوتا،رات کو اگر دیر سے بھی جائیں تو بھوکی جاتی ہیں ،ہم تین بہنیں جب ٹنڈوآدم سےاپنے والدہ کے پا س جاتی ہیں توہمیں بولاجاتاہےکہ ہم آپ کو ایک ٹائم کا کھانا کھلاسکتے ہیں، ہم جب جاتے ہیں تو کھانا وغیرہ گھر سے بناکر لیکر جاتے ہیں اوروہاں پربھی اپنے کھانے کاانتظام بھی اپنے خرچے پر کرتی ہیں اورکوئی بہن جب گھر جاتی ہے توہ والدہ کو بھی کھانا نہیں دیاجاتاہے اوراس کے علاوہ والدہ کو 24گھنٹوں میں ایک ٹائم کاکھانا دیاجاتاہے ،وہ پورادن اسی پر گزارا کرتی ہیں ،کاروبارکے کرائے کی رقم 14000روپے ہیں جن میں سے 3500روپے چھوٹابھائی اور3500روپےبڑا بھائی لیتاہے اور7000والدہ کو دئیے جاتے ہیں، والدہ کو فالج کا اٹیک ہے ،انہیں پیسوں میں سے وہ اپنا علاج بھی کراتی ہیں ،والدہ کو روٹی سالن ایک ٹائم دیاجاتاہے اوردودھ وغیرہ کچن کا سامان وغیرہ اسی میں سے ان کو پوراکرناہوتاہے ،ایک سال پہلے چھوٹا بھائی عمرہ کرنے کےلیے جارہتے تھے تو ٹندوآدم سے کراچی ایئر پورٹ آنے کےلیے انہوں نے ہمیں دس ہزارروپے دیئےتھے جبکہ گاڑی کا کرایہ 20000تھا تو 10000کے علاوہ جو خرچہ ہوا وہ والدہ کے 7000میں سے کاٹ لیا ،بڑے بھائی کی شکایت یہ رہتی ہے کہ بہنیں میرے گھر رات میں نہیں رکتیں جبکہ اس سال بڑے بھائی حج کرکے آئے ہیں تو ہم کراچی والی بہنیں بڑے بھائی کے گھر میں 6دن رکی ہیں، ہم نے مہمانوں کا انتظام سنبھالا تھا اورہمیں بھی اچھی عزت دی اورجب ہم واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئیں تو بڑے بھائی نے والدہ سے کہا کہ 6مہینے تک کوئی بہن میرے گھر نہیں آنی چائیے اورچھوٹا بھائی بھی مدرسے میں شفٹ ہوگیا اورہماری والدہ ایک ایک ہفتہ الگ الگ بھائی کے گھر رہتی ہیں، جس بھائی کے گھرہوتی ہیں اس کی بیگم بات بات پر جھگڑاکرتی ہے اوروہ چاہتی ہیں کہ والدہ اپنی بیٹیوں کے گھر رہےجبکہ وہ بیٹوں کے ہاں رہنا نہیں چاہتیں ،والدہ کے گھر تالالگادیا گیاہے، ہم بہنیں کراچی سے والدہ کے گھر گئی تھیں تو چھوٹے بھائی نے کہا کہ گیس اوربجلی کٹوادونگا اس وجہ سے کہ اس کا بل کون بھرےگا ،گیس اوربجلی کا بل دویا اڑھائی ہزارتک آتاہے ،ہم بہنوں کو کرائے میں بھی حصہ نہیں دیاجاتاورنہ ہم اس حصہ میں سے بل ادا کردیتے ،اب ہم بہنیں کراچی سے جائیں تو کہاں رکیں ؟ دونوں بھائیوں کےہاں کوئی اولاد نہیں ہیں، دونوں نے بچے گود لیے ہیں ،گھر میں بھی تالالگاہواہے۔ان حالات میں
کیابہنیں اپنے والد صاحب کی جائیداد میں سے اپنے حصوں کا مطالبہ کرسکتیں ہیں؟ جبکہ وہ ہمارا خیال بھی نہیں رکھتے؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بھائیوں کی طرح آپ بہنوں کا بھی اپنے والد کی میراث میں حصہ ہے اوربلاشبہ آپ سب بہنیں اس کا مطالبہ کرسکتی ہیں،اوراسی تناسب سے کرایہ میں بھی آپ بہنوں کا حصہ ہے،البتہ آپ کی غیرشادی شدہ بہن جو والد کی زندگی میں ہی فوت ہوگئی تھی اس کا والد کے میراث میں حصہ نہیں۔
واضح رہے کہ کسی شرعی وارث کو میراث سے محروم نہیں کیاجاسکتا،لہذا آپ کے بھائیوں پر لازم ہے کہ آپ بہنوں کا شرعی حصہ ادا کریں اوراس میں رکاوٹ نہ بنیں،جو شخص کسی وارث کو اس کی میراث سے محروم کرنے کی کوشش کرتاہے وہ درحقیقت اس کی اس وراثت والی حیثیت کو بدلتا ہے، اوراللہ تعالی کے فیصلے کو ناپسند کرتا ہے اور اسے بدلناچاہتا ہے اور یہ بہت بڑا جرم ہے۔
سورۂ نساء میں میراث کے سارے حصے بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِینَ فِیْہَا وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ. وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِینٌ.(۴:۱۳۔۱۴(
’’یہ اللہ کی بتائی ہوئی حدیں ہیں، (اِن سے آگے نہ بڑھو) اور (یاد رکھو کہ) جو اللہ اور اُس کے رسول کی فرماں برداری کریں گے، اُنھیں وہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کریں گے اور اُس کی بتائی ہوئی حدوں سے آگے بڑھیں گے، اُنہیں ایسی آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اُن کے لیے رسوا کر دینے والی سزا ہے۔‘‘
حضرت سلیمان بن موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
«من قطع ميراثا فرضه الله، قطع الله ميراثه من الجنة» سنن سعيد بن منصور (١/ ١١۸)
جس نےاللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی﴿ اپنے وارث کی﴾ میراث کو کاٹ دیااللہ تعالی قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کاٹیں گے۔
ایک اورحدیث میں ہے: حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛جوشخص( کسی کی ) بالشت بھر زمین بھی از راہِ ظلم لے گا،قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں طوق کے طور پرڈالی جائے گی۔
تفصیل بالا کی روسے معلوم ہوا کہ کسی وارث مثلاً بہنوں کو میراث سے محروم رکھنا سراسر ظلم،ناانصافی، حق تلفی اور الله کے احکام سے کھلی بغاوت ہوگی جس سے بچنالازم ہے، ورنہ ساری عمر حرام کھانے کا وبال بھائیوں پر رہے گا اورقیامت کے دن اس کا حساب دینا پڑے گا ۔
مسئولہ صورت میں آپ کےوالد کے کفن دفن کے متوسط اخراجات ،قرض جس میں بیوی کامہر بھی داخل ہے اگر زندگی میں اس کی ادائیگی نہ ہوئی ہواوروصیت کی علی الترتیب ادائیگی کے بعد اگر آپ کے والدمرحوم کےانتقال کے وقت صرف یہی ورثاء ہوں جوسوال میں مذکورہیں توکل منقولہ ،غیرمنقولہ ترکہ میں سےمرحوم کی بیوہ کو 12.5%،ہربھائی کو %13.46اورہربہن کو%6.73دیا جائےگا۔
مسئولہ صورت میں بھائیوں کاوالدہ اوربہنوں کے ساتھ روا رکھاجانےوالاسلوک نہ صرف یہ کہ غیراسلامی ہے،بلکہ غیرت کے بھی سراسرخلاف ہے کہ خود تو کرحج اورعمرے کرتے پھریں اوربے چاری ماں اوربہنوں کوکھانا تک بھی نہ کھلائیں،اگرکوئی اجنبی بھی مہمان بن جائے تواسلام تو اس کی بھی خاطرو مدارات کا حکم دیتاہے، بلکہ اس کو ایمان کی علامت قراردیتاہے چہ جائے کہ وہ ہستی ماں ہویالاچاربہنیں ہوں،ضرورت مند ماں کا نفقہ تو ویسے بھی اولاد پر واجب ہوتاہے، یہ کوئی احسان نہیں ہے،نیز ماں اوربہنوں کی میراث بھی ابھی تک بھائیوں کے پاس ہے،اس کے باوجود بھی ان کےساتھ اس طرح کا رویہ رکھنا انتہائی نامناسب اورغیراسلامی ہے اورمعاشرتی غیرت کے خلاف ہے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں فرمایاہےکہ" جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ اپنے مہمان کی خاطر کرےالخ(مشكاة المصابيح 2/463)۔
حوالہ جات
قال الله تعالي:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْن} [النساء : 11]
وفی مشكاة المصابيح الناشر : المكتب الإسلامي - بيروت - (2 / 197)
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة " . رواه ابن ماجه.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح - (10 / 31)
قال الطيبي رحمه الله تخصيص ذكر القيامة وقطعه ميراث الجنة للدلالة على مزيد الخيبة والخسران ووجه المناسبة أن الوارث كما انتظر فترقب وصول الميراث من مورثه في العاقبة فقطعه كذلك يخيب الله تعالى آماله عند الوصول إليها والفوز بها.
وفيه أیضا:
عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة
من سبع أرضين»".( باب الغصب والعاریة، ج:1، ص:254، ط: قدیمی كتب خانه)
عن أبي حرة الرقاشي عن عمہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ألا لا تظلموا، ألا لا یحل مال امرئ إلا بطیب نفس منہ رواہ البیہقي في شعب الإیمان والدارقطني في المجتبی (مشکاة شریف ص ۲۵۵)
روی الامام احمد فی مسندہ:
علی الید مااخذت حتی تودیہ،رواہ الامام [3] احمد فی مسندہ والائمۃ ابوداؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ فی سننھم و الحاکم فی صحیحہ المستدرك عن سمرۃ بن جندب رضی اﷲ تعالٰی عنہ بسند حسن۔
روى مسلم في صحيحه :
وفی ردالمحتار (ج/۳ص/۳۷۰)
يقع كثيرا في الفلاحين ونحوهم أن أحدهم يموت فتقوم أولاده على تركته بلا قسمة ويعملون فيها من حرث وزراعة وبيع وشراء واستدانة ونحو ذلك، وتارة يكون كبيرهم هو الذي يتولى مهماتهم ويعملون عنده بأمره وكل ذلك على وجه الإطلاق والتفويض، لكن بلا تصريح بلفظ المفاوضة ولا بيان جميع مقتضياتها مع كون التركة أغلبها أو كلها عروض لا تصح فيها شركة العقد، ولا شك أن هذه ليست شركة مفاوضة، خلافا لما أفتى به في زماننا من لا خبرة له بل هي شركة ملك كما حررته في تنقيح الحامدية.ثم رأيت التصريح به بعينه في فتاوى الحانوتي، فإذا كان سعيهم واحدا ولم يتميز ما حصله كل واحد منهم بعمله يكون ما جمعوه مشتركا بينهم بالسوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا كما أفتى به في الخيرية، وما اشتراه أحدهم لنفسه يكون له ويضمن حصة شركائه من ثمنه إذا دفعه من المال المشترك، وكل ما استدانه أحدهم يطالب به وحده.وقد سئل في الخيرية من كتاب الدعوى عن إخوة أشقاء عائلتهم وكسبهم واحد وكل مفوض لأخيه جميع التصرفات ادعى أحدهم أنه اشترى بستانا لنفسه. فأجاب: إذا قامت البينة على أنه من شركة المفاوضة تقبل.
وفی رد المحتار:
الترکۃ في الاصطلاح ماترکہ المیت من الأموال صافیا عن تعلق حق الغیر بعین من الأموال۔ ( کتاب الفرائض، کراچي ۶/۷۵۹، مکتبۃ زکریا دیوبند ۱۰/۴۹۳)
وفی تکملہ فتح الملہم:
إن الأصل الأول في نظام المیراث الإسلامي: أن جمیع ماترک المیت من أملاکہ میراث للورثۃ ۔ (کتاب الفرائض، جمیع ماترک المیت میراث، مکتبۃ اشرفیۃ دیوبند ۲/)
وفی شرح المجلۃ:
إن أعیان المتوفي المتروکۃ عنہ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصہم۔ (شرح المجلۃ لسلیم رستم باز، مکتبۃ اتحاد دیوبند ۱/۶۱۰، رقم المادۃ: ۱۰۹۲)
وفی امداد الاحکام ( 3 / 602)
ایک وارث کے مشترکہ ترکہ میں تجارت کرنے کی ایک صورت کا حکم
الجواب جس شریک نے مضاربت پر روپیہ دیا ہینفع مقررہ اس کی ملک تو ہو گیا لیکن اس میں سے فقط اپنے حصّہ وراثت کے مطابق اس کو حلال ہے اور باقی نفع خبیث ہے۔اس لئے دوسرے ورثاء کو بقدر ان کے حصص دے دے یا محتاجوں کو دے دے۔
و فی العالمگیریۃ(ج؍۵،ص؍۱۸۴)
لو تصرف أحد الورثۃ فی الترکۃ المشترکۃ وربح فاالربح کلہٗ للمتصرف وحدہ ، کذا فی الغیاثیۃ وفیہ ایضاً بعد اسطرٍ سئل أبو بکر عن شریکین جن أحدہما وعمل الآخر بالمال حتی ربح أو وضع ، قال : الشرکۃ بینہما قائمۃ إلی أن یتم إطباق الجنون علیہ ، فإذا قضی ذلک تنفسخ الشرکۃ بینہما ، فإذا عمل بالمال بعد ذالک فالربح کلہ للعامل والوضیعۃ علیہ وہو کالغصب بمال المجنون فیطیب لہ من الربح حصۃ مالہ ولا یطیب لہ من مال المجنون فیتصدق بہ کذا فی المحیط۔ قال الشامی: وفی القھستانی ولہ أن یؤدیہ الی المالک ویحل لہ التناول لزوال الخبث۔
وفی جامع الفصولين (۲؍۱۴۵)
غاب أحد شريكي الدار فأراد الحاضر أن يكسنها رجلاً أو يؤجرها لا ينبغي أن يفعل ذلك ديانة إذ التصرف فيما بيده لو لم ينازعه أحد فلو آجر وأخذ الأجر يرد على شريكه نصيبه لو قدر وإلا تصدق به لتمكن الخبث فيه بحق شريكه فصار كغاصب آجر يتصدق الأجر أو يرده على المالك وأما نصيبه فيطيب له إذ لا خبث فيه.
فی انعام الباری (ج:۶ ص:۴۵۶)
اور یہ معاملہ میراث میں بکثرت پیش آتاہے کہ ایک شخص کا انتقال ہوا اور وہ اپنے دکان چھوڑ گیا اب بکثرت ایسا ہوتاہے کہ اس دکان میں تصرف کرے والا ایک ہوتاہے جو اس کو چلا تا رہتاہے اور نفع آنا رہتاہے اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ وہ نفع کس کا ہے آیا اس کے اندر سارے روثاء شریک ہوں گے یہ صرف اسی کا ہوگا جس نے اس میں عمل کرکے اس کو بڑاھایا عام طور سے فقہاء کا کھنا یہ ہے کہ چونکہ اس نے یہ عمل ورثاء کی اجازت کے بغیر کیا ہے لہذا یہ کسب خبیث ہے اس لئے اس کسب خبیث کو صدقہ کرنا ہوگا بعضی حضرات یہ فرماتے ہیں اور امام بخاری کا رجحان بھی اسی طرف معلوم ہوتاہے کہ جو کچھ بھی نفع ہوا وہ اصل مالک کا ہے لہذا اورثت والے مسئلے میں جو کچھ بھی نفع حاصل ہوگا اس میں تمام ورثاء شریک ہوں گے الی قولہ فی صفحہ 456لیکن متاخرین حنفیہ میں سے علامہ رافعی نے یہ فرمایا کہ چونکہ خبث صاحب مال کے حق کی وجہ سے آیاہے لہذا اگر وہ صدقہ کرنے بجائے صاحب مال کو دیدے تب بھی صحیح ہوجائے گا چنانچہ وراثت والے مسئلے میں اگر ایک وارث متصرف ہوگیا جبکہ حق سارے ورثاء کا تھا تو اس میں اصل حکم تو یہ ہے کہ جو کچھ ربح حاصل ہوا وہ تصدق کرے لیکن اگر تصدق نہ کرے بلکہ ورثاء کو دیدے تو اس کا ذمہ ساقط ہوجائے گا بلکہ یہ زیادہ مناسب ہے تا کہ اس سے تمام ورثاء فائدہ اٹھالیں۔
وفی امداد الاحکام( ج:۳ ص:۳۱۹-۳۲۲)
اگر ہم یہ کہیں کہ واوث کا تصرف اجنبی کے مال میں تصرف کے طرح ہے اور یہ ناجائز ہے تو اس کا جواب بھی یہی ہوگا کر اجنبی کے مال میں تصرف کرکے جو نفع کمایا وہ فقہاء کے ہاں واجب التصدق ہے اور جب مالک معلوم ہو تو مالک کو پہنچا دے اور ورثاء معلوم ہے لہذا شرعی حصوں کے مطابق نفع بھی اصل مالک کے ساتھ تقسیم ہوگا۔
وفی مشكاة المصابيح (2 / 463):
"عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلايؤذ جاره ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا أو ليصمت."
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
30/01/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


