| 84507 | سود اور جوے کے مسائل | انشورنس کے احکام |
سوال
میرے دفتر میں پراویڈنٹ فنڈ شروع ہوا ہے، جہاں ہم ہر ماہ 4000 روپے اور دفتر بھی 4000 روپے دیگا ، جس سے کل 8000 روپے پاک قطر تکافل فنڈ میں جمع ہونگے۔ یہ فنڈ مختلف اسلامی منصوبوں میں استعمال کیا جائے گا(اسکا مجھے اندازہ نہیں ہے کہ کیا بھی جائے گا یا نہیں)، اور ہمیں ہر ماہ 18% سے 20% منافع ملے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم 18% سے 20% منافع کے ساتھ ماہانہ 8000 روپے کمائیں گے۔ مجھے یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا یہ منافع حلال (جائز) ہے یا سود سمجھا جائے گا ۔ میں نے پاک قطر تکافل کمپنی سے پتہ کیا تو مجھے صرف یہ جواب ملا کہ یہ سارا نظام مفتی تقی عثمانی صاحب کے زیرنگرانی چل رہا ہے اور پھر مجھے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر سوال میں مذکور فنڈ صرف انویسٹمنٹ کی حد تک تکافل کمپنی کو دیا جاتا ہو اور پھراس پر فیصدی نفع حاصل کیا جاتا ہو ،اور اس کے علاوہ تکافل پالیسی خریدنے اور وقف فنڈ سے اس کی بنیاد پر سہولیات حاصل کرنے کا کوئی سلسلہ نہ ہو تو اس کی اجازت ہوگی کیونکہ انویسٹمنٹ کا یہ ماڈل مستند مفتیان کرام کی نگرانی میں چل رہا ہے ۔
لیکن اس کے ساتھ اگر فنڈ سے تکافل کی سہولت اور اس سے مستفید ہونا بھی شامل ہو تو تکافل کے اس ماڈل کے حوالے سے ہمارے ہاں توقف کی رائے ہے ابھی تک ہم نے جواز کا فتویٰ نہیں دیا ، لہذا اس حوالے سے دوسرے دارلافتاء سے معلوم کیا جا سکتا ہے ۔
حوالہ جات
.
عبدالرحمٰن جریر
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
01/ صفر المعظم /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالرحمن جریر بن محمد شفیق | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


