| 84512 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
زید ایک کمپنی میں کام کرتا تھا، اس کا انتقال ہوگیا ، اس کے ورثا میں ایک بیوہ، دو بیٹے، والدہ، تین بھائی اور چار بہنیں تھیں۔ والدہ زید کے انتقال کے وقت حیات تھی، بعد میں فوت ہوگئی۔ زید کے دو بھائیوں کا بھی انتقال ہوچکا ہے۔
کمپنی کی طرف سے بیوہ کو تین لاکھ روپے ملے، یہ پنشن کی رقم تھی، کمپنی نے یہ رقم دینے سے پہلے مرحوم کی والدہ سے دریافت کیا تھا کہ آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ چنانچہ ان تین لاکھ کے ساتھ ایک لاکھ روپے مرحوم کی بیوہ کے بھائی نے اپنی بہن کو بطورِ تبرع دئیے اور کل چار لاکھ میں بیوہ کے نام پر ایک فلیٹ خریدا گیا؛ تاکہ یہ پیسے ضائع نہ ہوں۔
کچھ عرصہ بعد مرحوم کے بڑے بیٹے نے اس فلیٹ کو تیرہ (13) لاکھ میں بیچ کر کل پچاسی (85) لاکھ میں دوسرا گھر خریدار اور بیرون ملک رہنے کی وجہ سے والدہ ہی کے نام پر لیا، پھر اس گھر کو دو (2) کرورڑ میں بیچ کر تین (3) کروڑ میں اپنے نام سے ایک اور گھر لیا۔
خلاصہ یہ کہ بڑے بیٹے نے دوسرا مکان خریدتے ہوئے فلیٹ کے تیرہ (13) لاکھ کے ساتھ اپنے بہتر (72) لاکھ روپے ملائے تھے اور تیسرا مکان خریدتے ہوئے مزید ایک (1) کروڑ ملائے ہیں۔ دوسرا اور تیسرا مکان خریدتے وقت مرحوم کے بڑے بیٹے نے اپنی جو بھی رقم لگائی، وہ شراکت داری کے طور پر لگائی ہے۔ اب جاننا یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں میراث کی تقسیم کیسے اور کتنے مبلغ پر ہوگی؟ آیا تیرہ (13) لاکھ پر تقسیم ہوگی یا دو (2) کروڑ میں تیرہ (13) کا تناسب نکال کر اس پر تقسیم ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ سوال کے جواب سے پہلے بطورِ تمہید یہ بات سمجھ لیں کہ صورتِ مسئولہ میں زید کے انتقال کے بعد کمپنی نے مرحوم کی بیوہ کو جو رقم دی تھی:-
- اگر مرحوم اپنی زندگی میں اس کا مستحق ہوگیا تھا تو وہ رقم اس کی میراث میں شامل تھی،
جس میں اس کی بیوہ، دونوں بیٹے اور والدہ حصہ دار تھے، لیکن جب والدہ نے اپنا حصہ چھوڑنے پر رضامندی ظاہر کی اور اپنا حصہ بقیہ ورثا کو دینے کا کہا تو اس کا حصہ ختم ہوگیا۔
- اور اگر مرحوم اپنی زندگی میں اس رقم کا مستحق نہیں ہوا تھا، بلکہ کمپنی نے انتقال کے بعد ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ تعاون کے طور پر یہ رقم دی تھی تو اگر انہوں نے صرف مرحوم کی بیوہ کو رقم دی تھی تو پھر یہ صرف اس کی ملکیت تھی۔
- اور اگر کمپنی نے یہ رقم بطورِ تعاون صرف بیوہ کو نہیں، بلکہ بیوہ اور بیٹوں سب کو دی تھی تو پھر وہ سب اس میں برابر برابر شریک تھے۔
پہلی صورت میں تین لاکھ روپے میں مرحوم کی اہلیہ کا آٹھواں حصہ بنتا ہے اور باقی سات حصوں میں سے ساڑھے تین، ساڑھے تین حصے دو بیٹوں میں سے ہر ایک کے بنتے ہیں۔ دوسری صورت میں یہ ساری رقم مرحوم کی بیوہ کی بنتی ہے۔ جبکہ تیسری صورت میں یہ تینوں اس میں برابر کے شریک تھے۔ البتہ مرحوم کی بیوہ کے بھائی نے اپنی بہن کو جو ایک (1) لاکھ روپے تبرع کے طور پر دئیے تھے وہ صرف اس کے تھے۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اب فلیٹ کے تیرہ (13) لاکھ رقم کا حساب صرف تیرہ (13) لاکھ یا صرف دو (2) کروڑ میں تیرہ (13) لاکھ کے تناسب کے اعتبار سے نہیں ہوگا، بلکہ تقسیم کے وقت اس تیسرے گھر کی جو قیمت ہوگی، اس میں تیرہ (13) لاکھ کے تناسب کا اعتبار ہوگا۔
حوالہ جات
۔
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
4/صفر المظفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


