| 84545 | طلاق کے احکام | تین طلاق اور اس کے احکام |
سوال
میری شادی کو سات سال ہو گئے ہیں، میرے تین بچے ہیں: دو بیٹیاں اورایک بیٹا۔ شادی کے کچھ عرصے بعد سے لےکر میرے شوہر کا رویہ میرے ساتھ بہت برا تھا ،لیکن پھر بھی میں اپنے بچوں کے لیے درگزر کرتی رہی ۔ جمعہ کا دن تھا ، میرا شوہر گھرمیں موجود نہیں تھا ،میں اپنے بچوں کو تیار کر رہی تھی، میں نے اپنی بیٹی کو ڈانٹا اور جب تھپڑ مارا تو میرا جیٹھ کمرے میں داخل ہوا ، مجھے گالیاں دیں اور مارا ۔میں نےجب اپنی والدہ کو فون کیا تو اس نے کہا کہ میں آرہی ہوں ۔ اتنے میں میرا دیور آیا اور میر ے ساتھ بہت برا سلوک کیا ۔جب میرا شوہر گھر آیا تو اس نے بھی میری نہیں سنی اور اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر بد تمیزی کی۔ جب والدہ گھر آئی اور مجھے لے کر جانے لگی تو میر ے شوہر نے سب گھر والوں کی موجودگی میں مجھے تین طلاقیں دے دیں ۔اس موقع پر میرا دیور ،میری نندیں ،میرا جیٹھ ،میری والدہ اورساس سب موجود تھے، پھر میری والدہ مجھے گھر لے آئی ۔ اب آپ مجھے شریعت کی روشنی میں بتائیں کہ میری طلاق ہوگئی ہے؟ میری والدہ اور میں جب تھانے گئی تو وہاں شوہر نے پولیس کے سامنے بھی اقرار کیا کہ نے میں نے طلاق دے دی ہے۔
تنقیح : سائلہ کے بقول شوہر نے تین بار یہ جملہ بولا ہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔ مزید یہ کہ شوہر اقرار بھی کررہا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ، لہذا موجودہ صورتحال میں میاں بیو ی ایک دوسرے کے لیے حلال نہیں ، رجوع کی بھی کوئی گنجائش نہیں ، نہ ہی دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں ۔البتہ اگر اتفاقا ایسا ہوکہ طلاق کےبعد تین مکمل ماہواریاں گزرنے کےبعد آپ دوسری جگہ شادی کرلیں، اس میں ہمبستری کےبعد آپ کو طلاق دینےکی شرط نہ لگائی جائے، پھرہمبستری کےبعد دوسرا شوہر ازخود طلاق دے یا فوت ہوجائے تو عدت گزارنے کے بعد پہلےشوہر کےساتھ نئے مہر کےساتھ تجدیدِنکاح جائز ہے۔
حوالہ جات
القرآن الکریم ( سورۃ البقرۃ:230 ):
فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 286):
(وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل وعم التفريق.
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
04 /صفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


