| 84490 | شرکت کے مسائل | شرکت سے متعلق متفرق مسائل |
سوال
ایک شخص کا نام گل محمد ہے، اس کی چار بیٹیاں ہیں، جو بڑی ہیں وہ اپنےوالد کے ساتھ اجارے کی زمین پر کھیتی باڑی کرتی ہیں( ملکیت والی زمین نہیں ہے )اور دوکان میں بھی ہاتھ بٹاتی ہیں، ان چار بیٹیوں کے علاوہ گل محمد کے تین بیٹے بھی ہیں جو ابھی چھوٹے ہیں ،گل محمد کچھ عرصہ کیلئے باہر ملک کمانے کیلئے جاتا ہے ،جبکہ بیٹے اس اجارے والی زمین کو سنبھالتے ہیں ،اس دوران گل محمد اپنی چار بیٹیوں اور دو بڑے بیٹوں کی شادی کرواتا ہے اور ان دو بیٹوں کےلئے ویزےکا بندوبست کرکے اپنے ساتھ مزدوری کیلئے باہر لے جاتا ہےاور چھوٹے بیٹے کو گھر کے کام کاج کیلئے چھوڑدیتا ہے، گل محمد جب اپنے بچوں کو کام پر لگاکر سیٹ کرتا ہے تو خود واپس آکر گاؤں میں مقیم ہو جاتا ہے اور کچھ چھوٹے موٹے کام کرتا رہتا ہے، چھوٹا بیٹا جب باہر جانے اور پیسے کمانے کا مطالبہ کرتا ہے تو باہر کمائی کرنے والے دونوں بھائی اس کو یہ کہہ کر روکتے ہیں کہ ہم آپ کے لئے تو کما رہے ہیں، آپ کمانےکی فکر نہ کریں چھوٹا بھائی بھی مان جاتا ہے اور گاؤں میں چھوٹا موٹا کام کرکے پیسے اپنے والد گل محمد کو دیتا رہتا ہے،باہر والے دونوں بھائی گھر کے اخراجات کےلئے پیسے بھیجتے ہیں جو گھر میں خرچ ہوتے ہیں اور کچھ پیسے بچت کرکے چھوٹے بھائی کے لئے بھیجتے ہیں، جس سے وہ باہمی مشورہ سے اپنے نام پر جائیداد خریدتا ہے ،بیس سال بعد بڑے بھائی یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اب ہماراگزارا ایک گھر میں نہیں ہوسکتا،اس لیے ہر کوئی الگ ہوکر اپنا خرچہ خود اٹھائےگا، والد ابھی زندہ ہے، باہر سعودیہ میں کاروبار بھی ہے اور بینک بیلنس بھی، جب چھوٹا بھائی اس کا مطالبہ کرتا ہے( کیونکہ اس کی آمدن کا کوئی اور مستقل ذریعہ نہیں ہے اور نہ ہی ان زمینوں سے کوئی آمدن ہے جو چھوٹے بھائی کے نام سے خریدی گئی ہیں )تو باہر ملک مزدوری والے دونوں بھائی یہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری اپنی کمائی ہے ،اس میں آپ کاکوئی حق نہیں ہے، ہاں آپ ایک معین زمین فروخت کردیں اوران پیسوں سے کوئی کاروبارشروع کردیں،اب سوال یہ ہےکہ صورت مسئولہ میں بہن بھائیوں کے درمیان باپ کی موجودگی میں تقسیم کی درست اور شرعی تقسیم کی کیا صورت ہوگی؟ جبکہ والد ابھی زندہ ہے ،کیا گاؤں کے عرف کے مطابق صرف تین بھائیوں کے درمیان جائیداد وغیرہ کی تقسیم درست ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والدکواپنی تمام مملوکہ جائیداد (خواہ انہوں نے اپنی کمائی سے خریدی یاترکہ میں ملی یابیٹوں نے ان کومالک بناکردی ) پرمکمل تصرف کااختیارہے،اگروالد اپنی مرضی سےزندگی میں اپنامال اورجائیداد اولاد کے درمیان تقسیم کرناچاہتے ہیں تو شرعی ہدایت یہ ہے کہ ورثہ میں برابری کرتے ہوئے بیٹے اوربیٹیاں سب کواپنی ملکیت میں سےبرابر حصہ دےیاکم ازکم ہرلڑکی کولڑکے کے مقابلے میں نصف دیں،بغیرکسی معقول وجہ کے کسی کوزیادہ دینادرست نہیں،اگرکسی بیٹے یابیٹی کوخدمت زیادہ کرنے کی وجہ سے یااقتصادی لحاظ سے کمزورہونے کی وجہ سے زیادہ دیں توایسی صورت میں کوئی قباحت نہیں اوراگروالدکاانتقال ہوجاتاہے تووالدکی تمام منقولہ اورغیرمنقولہ چیزوں میں تمام بیٹوں اوربیٹیوں کاحق ہوگا،کسی وارث کونہ دینااس کے حق کوغصب کرناہےجوسخت گناہ اورحرام ہے،واضح رہے کہ جوائنٹ فیملی کی صورت میں جوجائیدادخریدی گئیں تھیں ،اگروہ والدکومالک بناکردی جاتی رہیں(جیساکہ عموماہوتاہے) تواس صورت یہ جائیداد والدکے ترکہ میں شمارہوں گی،اوراگرسب کے لئے خریدی گئیں ہیں توپھر جائیدادمیں جتناحصہ والد کی ملکیت میں آتاہے توصرف اس حصہ کوترکہ میں شمارکریں گے،اوراگرکچھ طے نہیں کیاگیاتوخریدی گئی جائیدادمیں جس کاجتنا پیسہ لگاہے،اس حساب سےجائیداد بھی اس کی ہے۔
بھائیوں کی کمائی کے حوالہ سے تفصیل یہ ہے کہ جس بھائی نے جو کمایاہے اوررقم ابھی اس کے پاس یااس کے ذاتی اکاونٹ میں ہے توشرعاوہی اس کامالک ہے،دوسرے بھائی کااس میں حق نہیں،باقی احسان کاتقاضایہ ہے کہ جس بھائی نے گھرمیں رہ کرگھرکے معاملات کودیکھاہے تواس کوبھی معقول رقم دی جائے۔
حوالہ جات
فی خلاصة الفتاوی (400/4):
رجل لہ ابن وبنت اراد ان یھب لھما فالافضل ان یجعل للذکرمثل حظ الانثیین عندمحمد وعند ابی یوسف رحمہ اللہ بینھماسواء ھو المختارلورود الآثار.
وفی رد المحتار (ج 24 / ص 42):
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب ، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار ، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.
وفی رد المحتار (ج 24 / ص 42):
( قوله وعليه الفتوى ) أي على قول أبي يوسف : من أن التنصيف بين الذكر والأنثى أفضل من التثليث الذي هو قول محمد رملي.
وفی رد المحتار (ج 17 / ص 114):
"مطلب : اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية۔
[ تنبيه ] يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز .
فأجاب بأنه بينهما سوية ، وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية ، ولو اختلفوا في العمل والرأي."
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۴/صفر ۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


