03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مروجہ پگڑی سسٹم کے تحت لین دین کرنا
84656اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

مالک جائیداد نے پگڑی پر دکانیں بیچ کر اس رقم سے پورے پلاٹ پر مارکیٹ تعمیر کی ،پھر اوپر 2 منزلہ مکان بنا کر رہائش رکھی ، کیا پگڑی  کی یہ رقم لینا دینا جائزہے؟؟  اس مکان میں رہائش اور پگڑی کی دکانوں سے کرایہ وصولی کی حیثیت کیاہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مروجہ پگڑی سسٹم کے تحت دو معاملات ہوتے ہیں ، ایک تو یکمشت بڑی رقم کے عوض پگڑی کو فروخت کیا جاتا ہے ،جو محض ایک حق مجرد ہے، جس کی بیع شرعاً باطل ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں پگڑی کی رقم کے عوض کرایہ داروں کو کرایہ داری کا عقد باقی رکھنے کا کوئی حق شرعاً    ثابت نہیں ہوا ، اور جو رقم لی گئی ہے وہ رقم مالک جائیداد کے ذمہ کرایہ داروں کا قرض ہے ، جو ان ہی کو واپس کرنا ضروری ہے۔

دوسرا معاملہ اس طرح پگڑی کی شرط پر دکانیں ماہوار کرایہ کے عوض کرایہ پر دینا ہے ۔یہ اجارہ  پگڑی کی شرط پر ہونے کی وجہ سے اجارہ فاسدہ ہے ،جس کا حکم یہ ہے کہ اس معاملہ کو فورا ختم کرنا ضروری ہے ۔

جہاں تک مالک جائیداد کے پگڑی کی رقم سے دکانیں اور مکان کی تعمیر کا معاملہ ہے ،تو زمین کے مالک کے لیے اس طرح معاملہ کرنا شرعاً جائز نہیں تھا، لیکن اب جبکہ اس نے اس رقم سے دکانیں اور گھر تعمیر کر لیا ہے، تو یہ عمارت اسی کی ملک ہے ،لہذا اس کا مکان میں رہائش رکھنا اور دکانیں پگڑی کے بغیر کرایہ پر دینا جائز ہے۔  البتہ پگڑی کی یہ رقم کرایہ داروں کو واپس کرنا لازم ہے۔

مذکورہ صورت میں چونکہ پگڑی کی شرط پر دکانوں کے کرایہ کا معاملہ ہوا ہے اس لیے یہ عقد شرعاً فاسد ہے لہٰذا اس صورت میں دکانوں کا کرایہ اجرت مثل یعنی مارکیٹ ویلیو کے برابر یا اس سے کم لینا تودرست ہے،اس سے زائد لینا جائز نہیں ۔چونکہ عام طور پر پگڑی والے معاملے میں کرایے مارکیٹ ریٹ سے کم ہی ہوتے ہیں اس لیےمسئولہ صورت میں ماہوار  کرایہ مالک کے لیے حلال ہوگا ۔

  خوب واضح  رہے کہ پگڑی  کا معاملہ شرعا باطل ہے لہذااس شرط کے تحت کرایہ داری کا یہ معاملہ بدستور ناجائز ہے، جس کو فی الفور ختم کرنا لازمی ہے ، بصورت دیگر یہ معاملہ برقرار رکھنے سے عاقدین گناہ گار ہوتے رہیں گے ۔

البتہ اگر عاقدین اس فاسد شرط کے بغیر معاملہ جاری رکھنا چاہتے ہیں توپگڑی کی جائز متبادل صورت یہ ہو سکتی ہے کہ متعین طور پر پچاس یا سو سال کی ایک طے شدہ مدت کے لیے مکان یادکان کرایہ پر لینے دینے کا معاملہ اس طرح کریں  کہ کچھ  کرایہ ماہوار طور پر طے کر لیں، اورکچھ کرایہ باہمی رضا مندی سے پیشگی لے لیں ۔ اس صورت میں اگر کرایہ دار کسی اور کو یہ مکان یادکان کرایہ پر دینا چاہے تو اصل مالک کی اجازت سے مقررہ پچاس یا سو سال کی مدت تک دے سکتا ہے اور اس صورت میں کرایہ دار مقررہ مدت تک عقد اجارہ باقی رکھنے کے حق سے دستبرداری کا معاوضہ بھی لے سکتا ہے اور مالک مکان یاد کان اس کرایہ دار کو اس مقررہ مدت سے پہلے  بلا عذر شرعی اس جگہ سے نہیں نکال سکتا۔

حوالہ جات

وفي "بحوث في قضايا فقهية معاصرة2/8":

"وأصل الحكم في هذا الخلوعدم الجواز؛لكونه رشوة أوعوضا عن حق مجرد".

منهم. جاء في المحيط البرهاني: ۹۰/۱۲

والتأقيت شرط جوازها (أي: الإجارة)، والتأبيد يبطلها".

تبيين الحقائق، للزيلعي : ٧٩/٦، وراجع أيضاً بدائع الصنائع، كتاب النكاح: ٤٨٦/٢

وقال الزيلعي: لا يجوز أن يضرب لها (أي: للإجارة) أجلاً لا يعيش إليه مثله عادة، لأن الغالب كالمتحقق في حق الأحكام... فصار كالتأبيد معنى، فلا يجوز، لما عرف أن التأبيد يبطلها ) .

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار» (ص395):

وفي الاشباه: لا ‌يجوز ‌الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة،وعلى هذا لا ‌يجوز ‌الاعتياض عن الوظائف بالاوقاف.وفيها في آخر بحث تعارض العرف مع اللغة، المذهب عدم اعتبار العرف الخاص، لكن أفتى كثير باعتباره، وعليه فيفتى بجواز النزول عن الوظائف بمال،وبلزوم خلو الحوانيت، فليس لرب الحانوت إخراجه ولا إجارتها لغيره»

بحوث في قضايا فقهية معاصرة ٨٧/١:

بديل الخلو المتعارف: تحقق مما ذكرنا أن بدل الخلو المتعارف الذي يأخذه المؤجر من مستأجره لا يجوز، ولا ينطبق هذا المبلغ المأخوذ على قاعدة من القواعد الشرعية، وليس ذلك إلا رشوة حراما. نعم: يمكن تعديل النظام الرائج للخلو إلى ما يلي:

يجوز للمؤجر أن يأخذ من المستأجر مقدارا مقطوعا من المال، يعتبر كأجرة مقدمة لسنين معلومة، وهذا بالإضافة إلى الأجرة السنوية أو الشهرية. وتجري على هذا المبلغ المأخوذ أحكام الأجرة بأسرها، فلو انفسخت الإجارة قبل أمدها المتفق عليه لسبب من الأسباب، وجب على المالك أن يرد على المستأجر مبلغا يقع مقابل المدة الباقية من الإجارة.

عبدالرحمن جریر

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

13/ صفر المعظم /1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالرحمن جریر بن محمد شفیق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب