| 84503 | نکاح کا بیان | ولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان |
سوال
میرا نام فرحان ہے۔ میں نے ایک لڑکی سے اس کےولی کی اجازت کے بغیر کورٹ میرج کی ، اور میں لڑکی کے کفو کا بھی نہیں ہوں ، لڑکی پٹھان اور میں پنجابی ہو ں ،دین کے لحاظ سے بھی لڑکی زیادہ ہے ۔لڑکی نے ولی کے بغیر غیر کفو میں نکاح کیا تو یہ نکاح منعقد ہوا یا نہیں ؟ پھر لڑکی کے والد کے کہنے پر کہ کورٹ سے نکاح ختم کریں قرآن پاک کی قسم کھائی کہ میں دوبار ہ نکاح کرو اؤں گا ،میری عزت خراب ہو جائے گی ۔ میرے کزن اور لڑکی کے گھر والوں نے طلاق نامہ بنایا ،مجھے میرے گھر والوں نے ایک ماہ سے ایک جگہ بند کیا تھا ،ایک دن مجھے گاڑی میں بٹھا کر سڑک پر لے گئے اور بولا کہ یہ چیک کرو کیا لکھا ہے، میں نے وہ طلاق نامہ خود کے ساتھ آہستہ آواز میں پڑھا مجھے علم نہیں تھا کہ میری ویڈیو بنا رہے ہیں ،پھر مجھے کہا کہ اس پر دستخط کرو ،میں نے کہا یہ تو جھوٹ ہے، مجھے میرے کزن نے کہا کہ جلدی کرو ،ہمارے پیچھے لڑکی کے گھر والے ہیں، ہم کو جان سے مارنے آ رہے ہیں ،وہ دوبارہ نکاح کریں گے۔ ابھی یہ دستخط نہیں کئے توآپ کو قتل کر دیں گے ۔میں نے کہا: میں کیسے یقین کرو ں ؟مجھے میسج دکھایا کہ دیکھو ،یہ طلاق نامہ لڑکی کے گھر والوں نے بھیجا ہے اور مجھے میرے والد نے بھی کہا کہ وہ دوبارہ سب کے سامنے نکاح کریں گے ،تو میں نے دستخط کردئیے ۔ اب لڑکی کے والد کہتے ہیں کہ طلاق ہوگئی ہے، دوبارہ نکاح نہیں ہو سکتا ۔اور پہلے لڑکی کے گھر والے کہہ رہے تھے کہ نکاح نہیں ہوا ۔ دوسری بات یہ کہ طلاق نامہ میں بھی یہ لکھا تھا کہ میں فرحان ولد اجمل خان نے(۔۔۔لڑکی کا نام) سے اس تاریخ کو نکاح کیا ،جس میں لڑکی کے والدین نہیں تھے ،اسلام میں ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا اور میں اہل تشیع اور لڑکی سنی مسلک سے ہے، ہمارا نکاح جائز نہیں ہے ۔ میں فرحان نے (۔۔ لڑکی کا نام ۔۔۔)کو خاندان کے مشورہ پراپنے سچے دل سے تین بار طلاق طلاق طلاق دی) یہ لکھا تھا جس پر دستخط کروایا اور میں نے جو خود کے ساتھ آہستہ آواز میں پڑھا اس کی ویڈیو میرے کزن نے لڑکی کے گھر والوں کو دی ،اب مجھے یہ بتائیں اگر نکاح نہیں ہوا تو طلاق کیسے ہوگئی؟ میں لڑکی سے بہت پیار کرتا ہوں اور دوبار ہ سے نکاح کرنا چاہتا ہو ں، لڑکی بھی دو بار زہر کھا چکی ہے، لیکن اس کے والد اور بھائی ضد پر ہیں۔ لڑکی کے بھائی کہتے ہیں کہ اگر اس کے ساتھ رشتہ کیا تو ہم خود کی جان لے لیں گے اور میرے والد کا مسلک اہل تشیع ہے ،لیکن ان کا عقیدہ بھی کفریہ نہیں ہے ۔میری والدہ سنی ہے اور میں بھی سنی ہوں، میرا عقیدہ بچپن سے سنیوں والاہے ،اس بات پر بھی لڑکی کے گھر والے کہتے ہیں کہ آپ کیسے سنی ہیں؟ آپ کا والد شیعہ ہے ،آپ کے ساتھ ہماری بیٹی کا نکاح جائز نہیں ،یہ نکاح ہو ہی نہیں سکتا،آپ نے خود کے شیعہ ہونے پر دستخط کئے ہیں۔ اس بارے میں بھی مجھے قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب چاہیے اور لڑکی کے گھر والوں کو بھی کچھ ہدایات دیں ۔
کیا نکاح منعقد ہوا؟
کیا طلاق ہوئی ؟
کیا دوبار ہ نکاح کر سکتا ہو ں؟
کیا میرا نکاح کرنا جائز ہے ؟
اگر لڑکی کے سب اولیاء ضد کریں تو لڑکی کیسے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت میں اگرلڑکا کفو نہیں، یا شیعہ امامیہ سے تعلق رکھتا ہے تو یہ نکاح سرے سے نہیں ہوا ہے،لہذا اس کے بعد کی طلاقوں کا اعتبار نہیں۔اوراگر لڑکا کفو ہے اور سنی ہے تو نکاح کے بعد تین طلاقیں ہوگئی ہیں، اس لئے کہ لڑکے نے طلاق کی تحریر زبانی بھی پڑھ لی ہے، جس کو دوسروں نے بھی سنا ہے، لہذا دونوں صورتوں میں لڑکا لڑکی کے درمیان کوئی نکاح نہیں ہے ۔اور اگرلڑکا سنی ہے مگر کفو نہیں ہےتو دوبارہ نکاح کے لئے لڑکی کے سرپرستوں کی اجازت ضروری ہےاور اگر شیعہ امامیہ سے ہے یا دوسری صورت کے مطابق تیں طلاقیں ہوچکی ہیں تو اب نکاح کی گنجائش نہیں ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 56):
(ويفتى) في غير الكفء (بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان) فلا تحل مطلقة ثلاثا نكحت غير كفء بلا رضا ولي بعد معرفته إياه فليحفظ۔۔۔۔۔(قوله بعدم جوازه أصلا) هذه رواية الحسن عن أبي حنيفة، وهذا إذا كان لها ولي لم يرض به قبل العقد، فلا يفيد الرضا بعده بحر. وأما إذا لم يكن لها ولي فهو صحيح نافذ مطلقا اتفاقا كما يأتي لأن وجه عدم الصحة على هذه الرواية دفع الضرر عن الأولياء، أما هي فقد رضيت بإسقاط حقها فتح، وقول البحر: لم يرض به يشمل ما إذا لم يعلم أصلا فلا يلزم التصريح بعدم الرضا بل السكوت منه لا يكون رضا كما ذكرناه فلا بد حينئذ لصحة العقد من رضاه صريحا، وعليه فلو سكت قبله ثم رضي بعده لا يفيد فليتأمل (قوله وهو المختار للفتوى) وقال شمس الأئمة وهذا أقرب إلى الاحتياط كذا في تصحيح العلامة قاسم لأنه ليس كل ولي يحسن المرافعة والخصومة ولا كل قاض يعدل، ولو أحسن الولي وعدل القاضي فقد يترك أنفة للتردد على أبواب الحكام، واستثقالا لنفس الخصومات فيتقرر الضرر فكان منعه دفعا له (فتح)۔
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 271):
ومنها إسلام الرجل، إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} [البقرة: 221] ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين، إليه وقعت الإشارة في آخر الآية بقوله عز وجل: {أولئك يدعون إلى النار} [البقرة: 221] لأنهم يدعون المؤمنات إلى الكفر، والدعاء إلى الكفر دعاء إلى النار؛ لأن الكفر يوجب النار، فكان نكاح الكافر المسلمة سببا داعيا إلى الحرام فكان حراما.
اسامہ مدنی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
04/ صفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسامہ بن محمد مدنی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


