| 84522 | جائز و ناجائزامور کا بیان | رشوت کا بیان |
سوال
ایک طالب علم کسی گورنٹ جاب کیلئے اپلائی کرے، اور وہ اس ٹسٹ اور انٹرویوں کو پاس بھی کریں، اپنی صلاحیت اور قابلیت سے، لیکن اس کے باوجود اگر اسی سے پیسوں کا مطالبہ کیا جائے، 25 سے 20 لاکھ کا ،اوربندہ اس کو دینے پر راضی بھی ہو جائے، تو کیا یہ رشوت میں آتاہے یا نہیں ؟اور اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور راستہ بھی نہ ہو، تو موصوف کو کیا کرنا چاہئیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ بالا طالب علم نے واقعی ٹسٹ پاس کیا ہو، اور رشوت کےعلاوہ اپنے حق کی وصولی کا کوئی دوسرا راستہ نہ ہو ، تو اس کے لیے رشوت دینے کی گنجائش ہے ، جبکہ لینے والے کے لیے بہر صورت حرام ہے۔
حوالہ جات
دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه و ماله و لاستخراج حقّ له ليس برشوة يعني في حق الدافع اهـ. ( ردالمحتار:423/6)
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
29 ٖمحرم الحرام1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


