| 84538 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
ایک ایسا شخص ہے، جس کے بڑے بھائی نے (جو کراچی میں ہوتے ہیں) اسے پڑھایا لکھایا،اس کی تربیت کی،اسے مولوی بنایا،اس کی شادی کرائی اور اس پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اپنی زندگی کی جمع پونجی ملتان میں کاروبار کیلئے دی ۔اپنی اور اپنی بیوی کی ساری زرعی زمین بھی اس کے حوالے کئے رکھی کہ مستقبل میں معاشی طور پر ہم مستحکم ہو جائیں۔ وقتا فوقتا بڑا بھائی جب کاروبار کے حساب کا مطالبہ کرتا تو یہ ٹال مٹول کرتا اور حساب نہ دیتا جبکہ بڑا بھائی پیچھے دوسرے لوگوں کا مقروض ہونے کی وجہ سے قرضہ بھی خود اتارتا رہا ،لیکن یہ کچھ بھی نہ دیتا۔ کاروبار دودھ والے جانوروں،زراعت اور باغوں کا تھا۔ تقریبا 17 سال تک سب کچھ اس کے پاس رہا جس میں 200 گائے،50 بیگھے(200 کنال) زمین اور کچھ آم کے باغات تھے۔جب بھی کوئی چیز بیچتا تو چپکے سے بیچ دیتا اور جب بڑے بھائی کو پتہ چلتا کہ فلاں چیز بک گئی ہے اور وہ پوچھتا کہ کیوں بیچی؟ تو کہتا :بتاتا ہوں اور پھر بتایا کبھی بھی نہیں۔ بڑے بھائی نے جب دیکھا کہ یہ اب سبھی چیزوں کو بیچے جا رہا ہے اور بتاتا بھی کچھ نہیں ہے تو ذرا سختی سے حساب مانگا تو اس نے باقی ماندہ سب مال بھی تیزی سے بیچ دیا،کچھ جانور بچے ہوئے ہیں ،وہ بھی نہیں دیتا کہ یہ میرا حق ہے۔ باقی جانور سب بغیر اجازت کے بیچ چکا،مشترکہ سامان بھی بیچ چکا حتی کہ کباڑ بھی بیچ دیا لیکن بڑے بھائی کو کچھ بھی نہیں بتایا اور نہ کچھ دیا، الگ سے اپنےکاروبار شروع کر دئیے۔ جب بڑا بھائی اپنے مال کا اور حساب کتاب کا مطالبہ کرتا ہے تو کہتا ہے میں نے کوئی خیانت نہیں کی بس مجھ پر آپ اعتماد کر لیں۔ اس نے آج تک مطالبے کے باوجود نہ حساب دیا ہے نہ کوئی نفع کی رقم اور نہ ہی اصل رقم اور جانور، سب کچھ بیچ چکا ہے اور رقمیں اپنے پاس رکھتا رہا ہے۔بڑا بھائی اس کی وجہ سے ڈپریشن کا شکار ہے اور اس کا تذکرہ ہو تو ان کی طبیعت جھٹ سے خراب ہو جاتی ہے،گھر والوں کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کا تذکرہ ہی نہ ہو تاکہ ان کی طبیعت مزید خراب نہ ہو۔ اب یہ مولوی بھی ہے،اور امامت بھی کرتا ہے،لوگ کہتے ہیں ایسے بندے کے پیچھے ہم کیسے نماز پڑھیں ؟جس نے اتنی بڑی خیانت کی،اپنے بڑے بھائی کو اتنی تکلیف پہنچائی اور کہتا بھی یہ ہے کہ میں نے کچھ غلط نہیں کیا۔اب الٹا اپنے مظلوم بزرگ بڑے بھائی کودھمکیاں بھی دیتا ہے اور کہتا ہے میں تمہیں سکھ سے نہیں جینے دوں گا۔ زبانی جمع خرچ کر کے لوگوں کی زمینیں بھی اس نے اپنی زمین میں ملا رکھی ہیں۔ (اور اس شخص نے حال ہی میں ایک جرگے میں کہا ہے کہ جو غیر شادی شدہ امام ہیں انکی اقتداء میں نماز نہیں ہوتی کیونکہ یہ شرعی مسئلہ ہے ۔) آپ رہنمائی فرمائیں کہ کیا ایسے بندے کے پیچھے نمازیں پڑھی جائیں یا کسی اور کو امام بنایا جائے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکردہ حالات اگر واقع کے مطابق ہیں تو مذکورہ شخص گناہ کبیرہ کا نہ صرف مُرتکب ہے بلکہ مُصر بھی ہےاور یہ گناہ لوگوں پر عیاں بھی ہو چکا ہے، لہذا ایسے فاسق شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔اگر انتظامیہ کے لئے ممکن ہو تو ان پر لازم ہے کہ اس کو برطرف کرکے امامت کے لئے کسی نیک اور متبع سنت امام کو منتخب کرے ،البتہ جب تک متبادل امام نہیں آتا ،عام لوگوں کے لئے نماز میں اس کی اقتداء جائز ہے،بالخصوص جب قریب میں دوسرا پرہیز گار امام میسر نہ ہو اور اس کی اقتدا نہ کرنے کی صورت میں جماعت فوت ہونے کا اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں اس شخص کے پیچھے نماز پڑھنا نہ صرف درست بلکہ اکیلے نمازپڑھنے سے بہتر ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 562):
وفي النهر عن المحيط: صلى خلف فاسق أو مبتدع نال فضل الجماعة، (قوله نال فضل الجماعة)أفادالصلاة خلفهما أولى من الانفراد، لكن لا ينال كما ينال خلف تقي ورع لحديث «من صلى خلف عالم تقي فكأنما صلى خلف نبي»
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 560):
وأما الفاسق فقد عللوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه، وبأن في تقديمه للإمامة تعظيمه، وقد وجب عليهم إهانته شرعا، ولا يخفى أنه إذا كان أعلم من غيره لا تزول العلة، فإنه لا يؤمن أن يصلي بهم بغير طهارة فهو كالمبتدع تكره إمامته بكل حال، بل مشى في شرح المنية على أن كراهة تقديمه كراهة تحريم لما ذكرنا قال: ولذا لم تجز الصلاة خلفه أصلا عند مالك ورواية عن أحمد، فلذا حاول الشارح في عبارة المصنف وحمل الاستثناء على غير الفاسق
الفتاوى الهندية (1/ 86):
الفاسق إذا كان يؤم يوم الجمعة وعجز القوم عن منعه قال بعضهم يقتدى به في الجمعة ولا تترك الجمعة بإمامته وفي غير الجمعة يجوز أن يتحول إلى مسجد آخر ولا يأتم به. هكذا في الظهيرية۔
اسامہ مدنی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
05/ صفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسامہ بن محمد مدنی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


