03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مسوڑھوں سے نکلنے والے خون کا حکم
88375پاکی کے مسائلنجاستوں اور ان سے پاکی کا بیان

سوال

کچھ دنوں سے میرے ساتھ یہ مسئلہ درپیش ہےکہ ایک جانب داڑھ اور سوڑھے میں تکلیف ہے ، جس کی وجہ سے اکثر برش کرتے ہوئےاورکبھی ایسے ہی بغیر برش کے خون نکلتا ہے، جب خون تھوکتا ہوں تو وہ پھیل کر ہونٹوں پر لگ جاتا ہے اور پھر کلی کیلئے پانی لے جاتے ہوئے آس پاس بھی لگ جاتا ہے ۔ یہ خون عام طور پر ہلکا پھلکا نہیں ہوتا ،بلکہ تکلیف کی وجہ سے اچھا خاصا ہوتا ہے اور میری داڑھی ہونٹوں کے آس پاس سے بھی گھنی ہے ۔

راہنمائی فرما دیجیے کہ اب اس جگہ کو پاک کرنے کا کیا طریقہ کار ہوگا ؟ کیا معروف طریقے کے مطابق وضو کے درمیان کلی سے اور چہرے پر پانی ڈالنے سے پاکی حاصل ہو جائے گی ؟ کیونکہ چہرہ دھوتے ہوئے تو پانی مکمل داڑھی میں نہیں جاتا ۔ یا پھر اس طرح خون نکلنے کے کے بعد مکمل داڑھی پر پانی بہانے کی غرض سے غسل کرنا پڑے گا ؟ نیز ایک ہفتے سے پہی صورت حال ہے، ایسے میں پچھلی نمازوں کا حکم واضح فرمادیجئے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب آپ نے مسوڑھوں سے نکلنے والے خون کو باہر تھوک دیا اور تین مرتبہ کلی کی اور پھر داڑھی سمیت چہرے کو تین مرتبہ دھو لیا تو ہونٹ سمیت چہرہ اور داڑھی مکمل طور پر پاک ہوگئے، اس کے بعد کسی قسم کےوہم اور شک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، ایسی صورت میں وہم اور شک ہو جانے سے شرعا ناپاکی کا حکم ثابت نہیں ہوتا،  کیونکہ فقہائے کرام رحمہم اللہ نے یہ اصول لکھا ہے کہ "اليقين لايزول بالشك" یعنی یقینی طور پر ثابت شدہ چیز صرف شک سے ختم نہیں ہوتی،  یعنی جب آپ نے داڑھی سمیت چہرے کو تین مرتبہ دھو لیا تو یقینی طور پر پاکی حاصل ہو گئی، اس کے بعد شیطان جتنے بھی وسوسے ڈالے، شرعاً ان کا کوئی اعتبار نہیں، ان وساوس سے چہرے کی یقینی طور پر ثابت شدہ پاکی کا حکم زائل نہیں ہو گااور ایسی صورت میں آپ کی تمام نمازیں درست شمار ہوں گی، لہذا سابقہ پڑھی گئی نمازوں کو لوٹانے کی ضرورت نہیں۔

 ان وساوس سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ ان کی طرف توجہ نہیں دینی چاہیے، حدیثِ پاک میں ایسے وساوس کو ختم کرنے کے لیے یہاں تک فرمایا گیا ہے کہ جس شخص کو پیشاب کے قطرے نکلنے کا وہم ہوتا ہو اس کو چاہیے کہ وضو کرنے کے بعد پیشاب کی جگہ پر شلوار کے اوپر پانی کے چھينٹے مار دے، پھر اگر پیشاب کا قطرہ نکلنے کا وہم ہو تو یہ سوچے کہ یہ پیشاب کا قطرہ نہیں، بلکہ یہ وہ پانی ہے جو میں نے شلوار کے اوپر سے ڈالا تھا۔ کیونکہ یہ وساوس درحقیقت شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں، لہذا ایسے وہم اور وساوس آنے پر بالکل پریشان نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی ان کے پیچھے  پڑنا چاہیے، بلکہ ایسے خیالات آنے پر کوئی دینی یا دنیوی کام شروع کر دینا چاہیے، تاکہ توجہ اور دھیان دوسری طرف لگ جائے اور ان وساوس سے توجہ ہٹ جائے۔

حوالہ جات

سنن الترمذي ت شاكر (1/ 71، رقم الحديث: 50) شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر:

- حدثنا نصر بن علي، وأحمد بن أبي عبيد الله السليمي البصري، قالا: حدثنا أبو قتيبة سلم بن قتيبة، عن الحسن بن علي الهاشمي، عن عبد الرحمن الأعرج، عن أبي هريرة، أن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " جاءني جبريل، فقال: يا محمد، إذا توضأت فانتضح ". هذا حديث غريب. وسمعت محمدا، يقول: الحسن بن علي الهاشمي منكر الحديث، [ص:72]

وفي الباب عن أبي الحكم بن سفيان، وابن عباس، وزيد بن حارثة، وأبي سعيد. وقال بعضهم سفيان بن الحكم، أو الحكم بن سفيان، واضطربوا في هذا الحديث۔

التنوير شرح الجامع الصغير (5/ 256) مكتبة دار السلام، الرياض:

3557 - " جاءني جبريل فقال: يا محمد، إذا توضأت فانتضح". (ت) عن أبي هريرة.

(جاءني جبريل فقال: يا محمد، إذا توضأت فانتضح) تقدم الحديث في: "أتاني" من حديث أسامة بن زيد وليس هنا زيادة على ما سلف من الأمر بالانتضاح والمراد به رش الفرج بماء قليل بعد الوضوء قيل: وحكمته إزالة الوسواس، قال ابن سيد الناس: وقد صح أن المصطفى - صلى الله عليه وسلم - كان إذا توضأ نضح فرجه بالماء.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

16/صفرالخیر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب