| 84559 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس بارےمیں کہ سائل کی بیٹی مسماۃ (ح)کی رسم منگنی اورنکاح اس کی مرضی اورخوشی سےمؤرخہ 20/02/2024کواسراراحمدولدمحمدبشیرسےہوا،اسی محفل میں4سال بعدرخصتی کاوقت مقررہوا۔
بوقت نکاح دخترمذکورہ کی عمر 16سال تھی۔15/06/2024میں جرگہ میں رخصتی کی تاریخ بھی طےہوگئی۔
26/06/2024کودخترمذکورہ دن 11 بجےگھرسےغائب ہوگئی،جس کی اطلاعی رپورٹ تھانہ میں دےدی گئی،27/06/2024کوکنفرم پتہ چلاکہ دخترمذکورہ وحیدالزمان نامی لڑکےکےساتھ بغرض شادی چلی گئی ہے،جس کی ایف آئی آردرج کروائی گئی،اورمقدمہ اغوابرائےشادی ،زناکاری ،اوربدکاری درج ہوا۔
10یا12 دن بعد بذریعہ وکیل مخالف معلوم ہواکہ دخترمذکورہ نےعدالت میں جاکر وحیدالزمان سےنکاح کرلیاہے،جوکہ 06/08/2024تک غائب ہے،جناب عالی 20/02/2024کوگھرمیں جو نکاح ہوا،اس میں خطبہ نہیں پڑھاگیا،اورنہ ہی نکاح کےکاغذات لکھےگئے۔
اس تقریب میں مقامی قاری محمدبشیر نے80،70 گواہوں کی موجودگی میں لڑکی کےوالداورلڑکےکےوالد سے5مرلہ زمین مہرکےعوض ایجاب وقبول کروایاتھا،آیایہ پہلےوالانکاح مستند نکاح ہےیانہیں ؟
کورٹ میں ہونےوالادوسرانکاح فاسدہےیانہیں ؟قرآن وسنت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔
تنقیح:سائل نےوضاحت کی ہےکہ منگنی کےوقت لڑکی سےباقاعدہ اس کی والدہ نےاجازت لی تھی،اس وقت بھی اور بعدمیں بھی لڑکی اس رشتہ پر راضی تھی،اورمنگنی کےبعد آپس میں بات چیت بھی ہوتی رہی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صوت مسئولہ میں پہلےنکاح میں چونکہ گواہوں کی موجودگی میں لڑکےاورلڑکی کےوالدنےایجاب وقبول کرلیاہے،اور مہربھی متعین ہوگیاتھا،عقدنکاح میں خطبہ پڑھناشرعامسنون ہے،فرض نہیں،اس کےبغیربھی شرعانکاح ہوجاتاہے،لہذاصورت مسئولہ میں پہلانکاح ہوگیاتھا،اس کےبعد صرف رسمی طورپررخصتی باقی تھی۔
چونکہ پہلانکاح شرعامنعقد ہوگیاتھااوراس کےبعد شوہرکی طرف سےطلاق وغیرہ نہیں دےگئی تھی،اوراسی دوران لڑکی نےدوسرانکاح کیاہےتوشرعاکورٹ میں ہونےوالا دوسرانکاح باطل اور کالعدم ہے،اس کااعتبارنہیں ہوگا،لڑکی کادوسرےشوہرکےساتھ رہنا جائزنہیں، جب تک ساتھ رہےگی، زنا کاگناہ ہوگا۔ہاں اگرپہلاشوہرلڑکی کےبھاگنےکی وجہ سےطلاق دےدےتواس کےبعد لڑکی دوسری جگہ دوبارہ نکاح کرسکتی ہے،سابقہ کورٹ والا نکاح پھربھی درست نہیں ہوا۔
حوالہ جات
"حاشية رد المحتار" 3 / 10:وينعقد أي النكاح: أي يثبت ويحصل انعقاده بالايجاب والقبول۔
"رد المحتار "9 / 187:ویندب اعلانہ وتقدیم خطبۃ وکونہ فی مسجد ۔۔۔۔
"رد المحتار "9 / 192:( قوله : وتقديم خطبة ) بضم الخاء ما يذكر قبل إجراء العقد من الحمد والتشهد ، وأما بكسرها فهي طلب التزوج وأطلق الخطبة فأفاد أنها لا تتعين بألفاظ مخصوصة ، وإن خطب بما ورد فهو أحسن
"عمدة القاري شرح صحيح البخاري "29 / 328:وقد ورد في تفسير خطبة النكاح أحاديث أشهرها ما رواه أصحاب السنن عن ابن مسعود قال علمنا رسول الله صلى الله تعالى عليه وآله وسلم التشهد في الصلاة والتشهد في الحاجة الحديث وفيه التشهد في الحاجة إن الحمد لله نستعينه ونستغفره إلى آخره وهذا اللفظ الترمذي ولما ذكره قال حديث حسن وترجم له بقوله باب ما جاء في خطبة النكاح وأخرجه أبو عوانة وابن حبان وصححاه ومن ذلك استحب العلماء الخطبة عند النكاح وقال الترمذي وقد قال بعض أهل العلم إن النكاح جائز بغير خطبة وهو قول سفيان الثورى وغيره من أهل العلم قلت وأوجبها أهل الظاهر فرضا واحتجوا بأنه خطب عند تزوج فاطمة رضي الله تعالى عنها وأفعاله على الوجوب واستدل الفقهاء على عدم وجوبها بقوله في حديث سهل بن سعد قد زوجتها بما معك من القرآن ولم يخطب۔۔۔
"تحفة الأحوذي للمبار كفوري "4 / 201):( باب ما جاء في خطبة النكاح ) ۔۔۔۔ وقال الحافظ في فتح الباري تحت حديث سهل بن سعد الساعدي وفيه أنه لا يشترط في صحة العقد تقدم الخطبة إذا لم يقع في شيء من طرق هذا الحديث وقوع حمد ولا تشهد ولا غيرهما من أركان الخطبة وخالف في ذلك الظاهرية فجعلوها واجبة ووافقهم من الشافعية أبو عوانة فترجم في صحيحه باب وجوب الخطبة عند العقد انتهى
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
12/صفر 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


