03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدہ کے دوسرے شوہر سے پردہ کاحکم
84591جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

طلاق شدہ عورت کی چھوٹی بیٹی ہے،اگر یہ مطلقہ عورت دوسری شادی کرلیتی ہے تو یہ بچی دوسرے شوہر کے لیے محرم ہوگی یا نا محرم؟اس سے پردہ ہوگا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والدہ جب شادی کرلے اور دوسرے شوہر سے ازدواجی تعلق قائم ہوجائے تو بچی سوتیلے والد کی محرم بن جائے گی،اب اس شخص سے پردہ واجب نہیں،البتہ اگر فتنے کا اندیشہ ہوتو پھر بچی کو ان سے دور رکھنا لازم ہوگا۔

حوالہ جات

أحکام القرآن للجصاص (3/69):

" أن الربائب لايحرمن بالعقد على الأم حتى يدخل بها أو يكون منه ما يوجب التحريم من اللمس و النظر على على ما بيناه فيما سلف هو نص التنزيل في قوله تعالى: فإن لم تكونوا دخلتم بهن فلا جناح عليكم."

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

06/ صفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب