03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کی وفات کی صورت میں بچوں کی حق پرورش اورسسرال کی طرف سے عائدپابندیوں کاحکم ؟
84489طلاق کے احکامبچوں کی پرورش کے مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میرے شوہر کا ایک حادثےمیں انتقال ہو گیاہے، میرے دو چھوٹے بچے ہیں، ایک بیٹا ہے جس کی عمر چار سال ہے اوردوسری  بیٹی ہے جس کی  عمر 3 سال  ہے ،تو پوچھنا یہ ہے کہ

١۔ان کی پرورش اور ذمہ داری کس پر ہے؟ آیا  ماں کے اوپر ہے یا  داد، دادی  اور چچا  کے اوپر ؟

۲۔اگر پرورش کا اور تربیت کا حق ماں کو ہےتو کیا دادا ، دادی اور چچا کوئی شرط یا پاپندی لگا سکتے ہیں؟ مثلاً: میں ایک اسلامی اسکول میں شرعی پابندیوں کے ساتھ پڑھاتی ہوں،میں چاہتی ہوں کہ میرے بچے میرے زیرِ سایہ تعلیم و تربیت حاصل کریں ، لیکن میرے سُسرال کا اصرار ہے کہ وہ اپنے مرضی کے اسکول میں بچوں کی تعلیم کروائیں گے،تو میں  اس کی وضاحت چاہتی ہوں کہ کیا  اس کا ان کو حق ہے ؟ یا جہاں ماں تعلیم دلواناچاہے دلوا سکتی ہے ؟

۳۔میرے سسرال والے اس بات کی پابندی لگانا چاہتے ہیں کہ ہفتے میں دو دن یا تین دن لازمی اپنے بچوں کو اُن سے ملوانے لے جاؤں، جبکہ میں ان کا گھر چھوڑ چکی ہوں، الگ گھر میں رہائش اختیار کی ہوئی ہے ، میرے اپنی گھریلو اور پڑھائی کی مصروفیات  ہوتی ہیں جن کی  وجہ سےمیرا ہر ہفتے بچوں کو لے کر جانا ممکن نہیں،میں نے اُن سے کہا کہ جب ٹائم ملے گا میں لے کرآیا کروں گی، جبکہ میں نے اُن کو اجازت دی ہوئی ہے کہ جب چاہیں وہ بچوں سے ملنے آ سکتے ہیں ،توپوچھنا یہ ہے کہ سُسرال کا اس طرح شرط لگانا شریعت میں اس کا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

١۔صورتِ مسئولہ میں لڑکی کا حقِ  پرورش اس کی بلوغت تک اور لڑکےکا حقِ پرورش سات سال کی عمر تک بچوں کی ماں کو حاصل رہےگااور اگر دورانِ پرورش بچوں کی ماں سے کوئی ایسا فعل صادر ہوگیاجس سے پرورش کا حق ساقط ہوجاتا ہے،جیسےبچوں کے کسی غیر ذی محرم سے شادی کرنایا یاکوئی ایسی ملازمت اختیار کرلے جس میں طویل وقت گھرسے باہرگزرےاوراس کی وجہ سےبچّوں کی نگہداشت متاثّر ہوتو اس صورت میں بچوں کی نانی کو اس کی پرورش کا حق حاصل ہوگا،اگر ان کی نانی پرورش نہیں کرنا چاہتی یا صحیح طور پر بچوں کی پرورش  نہیں کرسکتی توپھر  بچوں کی دادی کو ان کی پرورش کا حق حاصل ہوگا پھربچوں کی خالہ کوپھر بچوں کی پھوپھی کویہ حق ملےگا۔

ان بچوں کی پرورش کے اخراجات ان کے اپنے حصۂ میراث سے احتیاط کے ساتھ ادا کیے جائیں گے،اگروالد نے ان کے لیے کچھ نہ چھوڑا ہو اوران کے پاس اپنا ذاتی مال بھی موجود نہ ہوتو بالغ ہونے اور شادی بیاہ  تک کا نان و نفقہ اپنی حیثیت اوربچوں کی ضروریات کےمطابق دادا کے ذمہ ہوگا۔

۲۔ جب تک پرورش کا حق ماں کو حاصل رہے گا یہ بچے  ماں کے پاس رہیں گے اورماں جہاں پڑھائے گی وہاں پڑھیں گے،بشرطیکہ وہاں ماحول ٹھیک ہو،سسرال والوں کے لیے کہیں اورپڑھانے کی شرط لگانا صحیح نہیں،کیونکہ ماں بہترجانتی ہے کہ پرورش کے ساتھ وہ ان بچوں کو کہاں بہترطورپر پڑھاسکتی ہے ،ہاں پرورش کی مدت گزرنے کےبعد پھرماں کا یہ حق باقی نہیں رہے گا۔

۳۔ نہیں،سسرال والے اس بات کی پابندی نہیں لگاسکتے کہ ہفتے میں دو  دن یا تین دن لازمی  طورپرماں اپنے بچوں کو ان سے ملوانے لے جائےگی،ہاں یہ ضروری ہےکہ جب بھی وہ چاہیں ملنےکےلیے آسکتے ہوں،ان کو منع نہ کیا جائے۔

حوالہ جات

وفی سنن أبي داود  (2 / 283):

حدثني عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده عبد الله بن عمرو، أن امرأة قالت: يا رسول الله، إن ابني هذا كان بطني له وعاء، وثديي له سقاء، وحجري له حواء، وإن أباه طلقني، وأراد أن ينتزعه مني، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أنت أحق به ما لم تنكحي»

وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3 / 566):

(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب… (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية.

وفي الهداية (٢/٤٣٨):

الأم أحق بالولد...... والنفقة على الأب.....والأم والجدة أحق بالغلام حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويلبس وحده ويستنجي وحده وفي الجامع الصغيرحتى يستغني......والخصاف رحمه الله قدر الاستغناء بسبع سنين اعتبارا للغالب والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض.

الدر المختار ورد المحتار (3 / 566):

 (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية.

وفی الفتاوى الهندية  (1 / 542):

ولا حضانة لمن تخرج كل وقت وتترك البنت ضائعة كذا في البحر الرائق.

وفی حاشية ابن عابدين (رد المحتار) - (3 / 571):

(قوله: كما في جانبها) أي كما أنها إذا كان الولد عندها لها إخراجه إلى مكان يمكنه أن يبصر ولده كل يوم.

وفی المبسوط لشمس الدين السرخسي (ج 27 / ص 336):

(قال) وإذا أرادت المرأة أن تخرج بولدها من مصر إلى مصر فان كان النكاح بينهما قائما فليس لها أن تخرج الا باذنه مع الولدوبغير الولد فان وقعت الفرقة بينهما وانقضت عدتها فان كان أصل النكاح في المصر الذى هي فيه فليس لها أن تخرج  بولدها إلى مصر آخر لما فيه من الاضرار بالزوج بقطع ولده عنه الا أن يكون بين المصرين قرب بحيث لو خرج الزوج لمطالعة الولد أمكنه الرجوع إلى منزله قبل الليل فحينئذ هذا بمنزلة محال مختلفة في مصر.

قال جماعۃ من العلماء رحمھم اللہ تعالی:

 الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده، كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي. (الفتاوی الھندیۃ: 1/543)

وفی الدرالمختار:

وتجب النفقة بأنواعھا علی الحر لطفلہ ……الفقیر الحر الخ(۵: ۳۳۷، مطبوعہ: مکتبہ زکریا دیوبند)

وفی الفتاوى الهندية  (1 / 563):

ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة.

وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3 / 568,567):

 (قوله: ولا خيار للولد عندنا) أي إذا بلغ السن الذي ينزع من الأم يأخذه الأب، ولا خيار للصغير وأفاده بقوله (بلغت الجارية مبلغ النساء، إن بكرا ضمها الأب إلى نفسه) إلا إذا دخلت في السن واجتمع لها رأي فتسكن حيث أحبت حيث لا خوف عليها.

الفتاوى الهندية (1/ 562):

ونفقة الصبي بعد الفطام إذا كان له مال في ماله هكذا في المحيط.

وفی العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 80):

الجد بمنزلة الأب في استحقاق النفقة عليه إذا كان الأب ميتا أو كان الأب حيا إلا أنه فقير لأن الفقير يلحق بالميت في استحقاق النفقة على الموسر. اهـ وصرح بعده بأن هذا هو الصحيح في المذهب خلافا لما ذكره القدوري من أنه لا تفرض النفقة على الجد وإنما يؤمر بالإنفاق ويكون دينا على الأب الفقير ثم قال وإن كان الأب زمنا قضي بنفقة الصغار على الجد ولم يرجع على أحد بالإنفاق لأن نفقة الأب في هذه الحالة على الجد فكذا نفقة الصغار اهـ.

 سیدحکیم شاہ عفی عنہ

 دارالافتاء جامعۃ الرشید

      07/02/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب