| 84483 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
میں ایک کال سینٹر میں ملازمت کرتا ہوں ،لیکن اس میں کچھ ایسی چیز ہیں جس کی وجہ سے مجھے اس کی آمدنی حرام ہونے کا ڈر ہے۔ کال سینٹر مختلف کمپنیوں سے کنٹر کٹ کرتا ہے، جس میں ان کی مخصوص چیزوں کو بیچنا ہوتا ہے، جس میں حلال چیزیں بھی ہوتی ہیں اور حرام بھی جیسے کہ انشورنس ،لون، سولر پینل وغیرہ۔ میں جس سیکٹر میں کام کر رہا تھا وہ ایجوکیشن سے متعلق تھا ، ہم لوگوں کو یونیورسٹیوں میں ایڈمیشن لینے کی ترغیب دیتے،جس پر اگر وہ ایڈمیشن لے لیتے ہیں تو ہمیں کمیشن ملتاہے۔یہاں دو مسائل ہیں:
۱۔ مجھے جو کمپنی کی طرف سے تنخواہ ملتی ہے وہ ایڈمشن کے بدلے ملتی ہے، لیکن کمپنی کے ٹوٹل ریوینیو میں انشورنس والے لوگوں کے پیسے بھی شامل ہوں گے، کیا میری تنخواہ حلال رہے گی؟
۲۔ مجھے اپنا نام اور شہریت غلط بتانی پڑتی ہے،میرا نام روجر سائن ہوگیا ، مجھے کال کے دوران اپنا نام اور شہریت غلط بتانی پڑتی ہے ، کیا اس پہلو سے میری آمدنی حلال رہے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کال سینٹر میں کمیشن پر جو کام کیا جاتا ہے ،اس کا حکم یہ ہے کہ اگر کمیشن جائز اشیاءو خدمات کی مارکیٹنگ پر لی جائے تو وہ حلال ہےاور اگر ناجائز چیزوں کی مارکیٹنگ پر لی جا ئے تووہ حرام ہے۔ مذکورہ صورت آپ کی خدمات بھی چونکہ ا یجوکیشن فیلڈ سے متعلق ہیں، اور آپ کو کمیشن ایڈمشن کے بدلے میں ملتی ہے ، کمیشن میں بذات خود کوئی قباحت نہیں،لہذا آپ کی آمدن حلال ہے۔
چونکہ اس ملازمت میں آپ کو اپنا نام تبدیل کرکے اپنی شناخت ایک غیر مسلم نام کےساتھ ظاہر کرنی پڑتی ہے،جو ایک طرح کا جھوٹ اور دھوکہ ہے، اس وجہ سے آپ کے لیے اس ملازمت او رکام کوجاری رکھنا جائز نہیں ۔
اگر آپ کےپاس کوئی اور ذریعہ آمدن ہے اور اس ملازمت پر آپ کے خرچے منحصر نہیں ہیں تو فورا ہی اس کام کو چھوڑ دیں ۔ اگر آپ کے پاس کوئی اور زریعہ آمدن نہیں ہے، تو جب تک کوئی دوسری ملازمت نہیں مل جاتی، آپ یہ کام جاری رکھیں ،اور اس کے ساتھ ساتھ بے روزگار آدمی کی طرح کوئی اور ذریعہ آمدن بھی تلاش کریں ،اس کے ساتھ ساتھ کثرت سے استغفار بھی جاری رکھیں
حوالہ جات
البخاري(1/ 16):
حدثنا سليمان أبو الربيع قال: حدثنا إسماعيل بن جعفر قال: حدثنا نافع بن مالك بن أبي عامر أبو سهيل، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «آية المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان.
حاشية ابن عابدين (6/ 63):
مطلب في أجرة الدلال [تتمة]
قال في التتارخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة۔
محمد سعد ذاكر
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
06/صفر /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعد ذاکر بن ذاکر حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


