03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نانا کی جائیداد میں نواسےاور نواسیوں کے حصۂِ میراث کا حکم
84544میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

  کیا میرے والد کی جائیداد میں میری مرحوم بہن کے بچوں کا کوئی حصۂ میراث  بنتا ہے،جبکہ میری بہن کا انتقال میرے والد ین سے پہلے ہوا تھا؟مہربانی فرما کرکچھ  تفصیل سے جواب دیں کہ ہم اعتراض کرنے والوں کو سمجھا سکیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شرعی اعتبار سے میراث کا مستحق بننے کے لیے مورِث کی وفات کے وقت وارث کا  زندہ ہونا شرط ہے،جو رشتہ دار مرحوم کی وفات کے وقت زندہ نہ ہو وہ مستحق نہیں ہوتا،صورتِ مسئولہ میں آپ کی بہن کا انتقال والدین  کی زندگی  میں ہی ہواہے، لہٰذاان یتیم بچوں کی ماں کا اپنے  والدین  کے ترکہ میں حصہ نہیں ہے،جب ان کی والدہ کا حصہ نہیں تو بچوں کو بھی نہیں ملے گا ۔

تاہم اگر تمام ورثہ  عاقل اور بالغ ہوں اور وہ اپنی رضا مندی اور خوشی سےاپنے مشترکہ حصے میں سے، یا کوئی ایک وارث اپنے حصے سےمیت کی فوت شدہ  بیٹی کی اولاد کو کچھ مال دے تو یہ باعثِ ثواب ہے،اسی طرح  اگر بیٹی کی ملکیت میں پہلےسے   کوئی اور  جائیداد تھی تو اس کی جائیداد میں ان نواسے  اور نواسیوں   کا بحیثیت اولاد شرعی حصہ ہوگا۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:6/ 758):

وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه

عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه.

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

    دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

         7 /صفر/1446ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب