03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
قبر پر چھوٹے چھوٹے پتھر رکھنے کا حکم
84527جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس قبر کے بارے میں جس پر دریائی گول پتھر سیمنٹ کے ذریعے لگائے گئے ہو ؟ کیا یہ اس پختہ قبر کے حکم میں آتا ہے جس سے احادیث مبارکہ میں منع وارد ہوا ہے ؟ اس قبر کا نقشہ منسلک ہے ،درج بالا نقشے میں دائرے ان گول پتھروں کو واضح کرتے ہیں جس کو سیمنٹ کی مدد سے پیوست کیا گیا ہے،  اور اردگر دبلاک بھی رکھے ہوئے  ہیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں اگر قبر کی حفاظت یا بے حرمتی سے بچنے کے لیے اس کے اوپر بغیر سیمنٹ کے چھوٹے چھوٹے پتھر ڈالے جائیں ،اور قبر کو ایک ڈیڑھ اینٹ سے زیادہ اونچا نہ بنایا جائے تو  شرعاً اس کی گنجائش ہے،البتہ سیمنٹ سے مضبوط کرنا تو تعمیر قبر کے  زمرے میں آتا ہے جسے احتراز کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

عن جعفر بن محمد، عن أبيه: أن النبي صلى الله عليه وسلم رش على قبر إبراهيم ابنه، ووضع عليه حصباء.(السنن الکبریٰ للبیھقی:5/286)

ويكره أن يبنى على القبر أو يقعد أو ينام عليه أو يوطأ عليه وإذا خربت القبور فلا بأس بتطيينها كذا في التاتارخانية وهو الأصح وعليه الفتوى.(الفتاوی الھندیۃ:1/166)

ويوضع عليه حصى صغار محلل به،ليحفظ ترابه ….ولأن ذالك أثبت له،وأبعد لدروسه،وأمنع لترابه من أن تذهبه الرياح،والحصباء صغار الحصا.(کشاف القناع (162/2:                                                

محمد ادریس  

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

5  ٖصفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب