| 84526 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
اگر ایک مرد دوسری شادی کرنا چاہتا ہو،جبکہ اس کی ماں بھی راضی نہ ہواور اس کی پرانی ساس اور سسر بھی راضی نہ ہوں ، صرف اس کی پہلی بیوی راضی ہو، اور جو اس عورت کو اس کے ماں باپ اور ساس سمجھاناچاہتے ہوں وہ نہ سمجھ رہی ہو، اور وہ جو کہتے ہوں اس کو نہ مانتی ہو ، تو کیا یہ شادی کرنا ٹھیک ہے یا نہیں ؟جبکہ جس دوسری عورت سے شادی ہو رہی ہے، اس کا خاندان بھی ٹھیک معلوم نہیں ہوتا ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں مرد کو بیک وقت چار عورتوں کو نکاح میں رکھنے کی اجازت ہے،صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص دوسری شادی کے لیے جسمانی اور مالی طاقت رکھتاہے،اور دوسری شادی کے بعد دونوں بیویوں کے حقوق خوش اسلوبی سے برابری کے ساتھ ادا کرسکتاہے ، تواس کے لیے دوسری شادی کرنا جائز ہے،اگرچہ پہلی بیوی کا خاندان اس پر راضی نہ ہو ، باقی مذکورہ شخص اپنے والدین کو ادب و احترام سے سمجھاتا رہے،بے ادبی اور گستاخی نہ کرے، اور والدین کو اعتماد میں لینے کی کوشش کرے لیکن اگر وہ کسی صورت میں آمادہ نہ ہو ں تو اگریہ شخص اپنی ضرورت کی بناء پر دوسرا نکاح کرلیتا ہے تو یہ والد کی نافرمانی میں شمار نہ ہوگا ، والدہ اور ساس سسر کو بھی چاہیے کہ وہ اس شخص کے شرعی حق کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر غیر ضروری یا غیر شرعی طور پر دباؤ نہ ڈالیں ۔
حوالہ جات
عن عبد الرحمن بن أبي بكرة عن أبيه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ألا أحدثكم بأكبر الكبائر؟ قالوا: بلى يا رسول الله، قال: الإشراك بالله، وعقوق الوالدين، قال: وجلس وكان متكئا، قال: وشهادة الزور أو قول الزور، فما زال رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولها حتى قلنا ليته سكت.(وعقوق الوالدين) بضم العين المهملة مشتق من العق وهو القطع والمراد به صدور ما يتأذى به الوالد من ولده من قول أو فعل إلا في شرك أو معصية ما لم يتعنت الوالد، وضبطه ابن عطية بوجوب طاعتهما في المباحات فعلا وتركا، واستحبابها في المندوبات وفروض الكفاية كذلك، ومنه تقديمهما عند تعارض الأمرين، وهو كمن دعته أمه ليمرضها مثلا بحيث يفوت عليه فعل واجب إن أستمر عندها ويفوت ما قصدته من تأنيسه لها وغير ذلك أن لو تركها وفعله وكان مما يمكن تداركه مع فوات الفضيلة كالصلاة أول الوقت أو في الجماعة. (تحفة الأحوذي شرح جامع الترمذي:6/23)
عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "النكاح من سنتي، فمن لم يعمل بسنتي فليس مني، وتزوجوا، فإني مكاثر بكم الأمم، ومن كان ذا طول فلينكح، ومن لم يجد فعليه بالصيام، فإن الصوم له وجاء. (سنن ابن ماجہ ، رقم الحديث:1846، 3/54)
محمد ادریس
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
5 ٖصفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ادریس بن محمدغیاث | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


