| 84514 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیا وراثت کا کچھ حصہ انہیں بتائے بغیر ہدیہ کی شکل میں دےسکتےہیں؟مثلا کچھ پیسے یا کوئی چیز ان کودےدی جائےاوراس پردوگواہ بھی بنالیےجائیں ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ شرعی حصےکےمطابق وراثت کی تقسیم ضروری ہوتی ہے،لہذابتائےبغیر صرف کچھ پیسےیاکوئی چیزہدیہ کرناکافی نہیں ہوگا،بلکہ ہدیہ کےوقت یہ بتاناضروری ہوگاکہ آپ اپناحصہ وصول نہیں کررہے،اس کےبدلےمیں یہ ہدیہ ہےاوردادادادی کی طرف سےباقاعدہ کہہ دیاجائےکہ ہم اس ہدیہ کےبدلےاپناحصہ معاف کرتےہیں تویہ تخارج(کسی ایک وارث کاکچھ حصہ لےکراپنےمیراث کےمکمل حصےسےدستبردارہونا)کی صورت ہوگی،جوشرعادرست ہے۔
دادادادی میں سےکوئی ایک یادونوں اگراپنےحصےسےمذکورہ بالا طریقہ کےمطابق دستبردارہوجاتےہیں تو پھران کی میراث کاحصہ آپ اورآپ کی والدہ میں شرعی طریقہ کےمطابق تقسیم ہوگا،یعنی کل میراث کاآٹھواں حصہ آپ کی والدہ کا ہوگا،باقی میراث آپ کی ہوگی۔
حوالہ جات
"العناية شرح الهداية" 12 / 120:
( فصل في التخارج ) التخارج تفاعل من الخروج ، وهو أن يصطلح الورثة على إخراج بعضهم من الميراث بمال معلوم ۔
" مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر"6 / 488:
والأصل في جواز التخارج أثر عثمان رضي الله تعالى عنه فإنه صالح امرأة عبد الرحمن بن عوف رضي الله تعالى عنه عن ربع الثمن - وكان له أربع نسوة - على ثمانين ألف دينار بمحضر من الصحابة رضي الله تعالى عنهم من غير نكير۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
06/صفر 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


