03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ملکیتی اور ٹھیکے پر دی گئی زمین کا عشر کس پر آئے گا؟
84565زکوة کابیانعشر اور خراج کے احکام

سوال

ایک زمین وہ ہے کہ جس کا آدمی خود مالک ہے اور خود ہی کاشت کرتا ہے، اس کا عشر کس پر ہو گا؟ دوسری وہ زمین ہے جس کو اس کا مالک ٹھیکے پر دیتا ہے اور ٹھیکیدار زمین کو کسان کے حوالے کر کے سارا کام کسان سے کرواتا ہے، ٹھیکیدار کسان سے حاصل ہونے والی پیداوار کا آدھا حصہ لیتا ہے، جتنا زمین پر خرچہ ہوتا ہے اس میں بھی کسان اور ٹھیکیدار آدھے آدھے کے شریک ہوتے ہیں، جبکہ مالک زمین اپنا ٹھیکہ پہلے ہی وصول کر لیتا ہے، گویا کہ اس زمین سے تین آدمی نفع اٹھا رہے ہیں، ایک مالک، دوسرا ٹھیکے دار اور تیسرا کسان۔اس صورت میں عشر کس پر آئے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عشر کا اصول یہ ہے کہ جو شخص زمین سے پیداوار حاصل کرتا ہے اسی پر اس زمین کا عشر نکالنا واجب ہوتا ہے، لہذا اگر مالکِ زمین خود کاشت کاری کرتا ہو تو اس پر عشر نکالنا واجب ہو گا اور اگر اس نے ٹھیکے پر زمین دی ہو تو ٹھیکے دار پر عشر نکالنا واجب ہو گا، لہذا سوال میں ذکر کی گئی پہلی صورت میں مالکِ زمین خود عشر نکالنے کا پابند ہو گا، کیونکہ پیداوار اس کو حاصل ہو رہی ہے اور دوسری صورت میں ٹھیکیدار اور کسان یعنی مزارع پر دونوں اپنی اپنی پیدوار کا عشر نکالنا واجب ہو گا، کیونکہ یہ دونوں پیداوار حاصل کر رہے ہیں، باقی اس صورت میں مالکِ زمین پر عشر واجب نہیں ہو گا، کیونکہ اس کو زمین کی پیداوار حاصل نہیں ہو رہی۔

حوالہ جات

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 335) دار الفكر-بيروت:

في البدائع من أن المزارعة جائزة عندهما والعشر يجب في الخارج والخارج بينهما فيجب العشر عليهما اھـ

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 334) دار الفكر-بيروت:

والعشر على المؤجر كخراج موظف وقالا على المستأجر كمستعير مسلم: وفي الحاوي وبقولهما نأخذ.

قال ابن عابدین:وبقولهما نأخذ) قلت: لكن أفتى بقول الإمام جماعة من المتأخرين كالخير الرملي في فتاواه وكذا تلميذ الشارح الشيخ إسماعيل الحائك مفتي دمشق وقال حتى تفسد الإجارة باشتراط خراجها أو عشرها على المستأجر كما في الأشباه، وكذا حامد أفندي العمادي وقال في فتاواه قلت: عبارة الحاوي القدسي لا تعارض عبارة غيره فإن قاضي خان من أهل الترجيح فإن من عادته تقديم الأظهر والأشهر وقد قدم قول الإمام فكان هو المعتمد وأفتى به غير واحد منهم زكريا أفندي شيخ الإسلام وعطاء الله أفندي شيخ الإسلام، وقد اقتصر عليه في الإسعاف والخصاف. اهـ.

قلت: لكن في زماننا عامة الأوقاف من القرى والمزارع لرضا المستأجر بتحمل غراماتها ومؤنها يستأجرها بدون أجر المثل بحيث لا تفي الأجرة، ولا أضعافها بالعشر أو خراج المقاسمة، فلا ينبغي العدول عن الإفتاء بقولهما في ذلك؛ لأنهم في زماننا يقدرون أجرة المثل.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

10/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب