03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نہری پانی اور ٹیوب ویل سے سیراب شدہ زمین کے عشر کا حکم
84566زکوة کابیانعشر اور خراج کے احکام

سوال

ایک زمین نہری پانی سے سیراب ہوتی ہے، جبکہ دوسری زمین  ٹیوب ویل کے پانی سے سیراب ہوتی ہے، ان دونوں کے عشر کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پانی کے حوالے سے عشر کا اصول یہ ہے کہ اگر بارش کے پانی سے زمین سیراب کی جارہی ہو تو ایسی زمین کی پیداوار پر مجموعی فصل کا دسواں حصہ(دس فیصد)عشر واجب ہوتا ہے، کیونکہ اس میں پانی کے کسی قسم کے اخراجات برداشت نہیں کرنے پڑتے اور اگر بارش کی بجائے نہری یا ٹیوب ویل کے پانی کےزمین سیراب کی جا رہی ہو تو ایسی زمین کی پیداوار پر بیسواں حصہ (پانچ فيصد)عشر نکالنا واجب ہو گا، کیونکہ اس صورت میں پانی پر ہونے والے اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں اور عشر کی مقدار کی کمی بیشی  کا مدار پانی کی مؤنت یعنی خرچہ برداشت کرنے اور نہ کرنے پر ہے، نیز اگر بارش اور ٹیوب ویل دونوں قسم کے پانی سے زمین سیراب کی جارہی ہو تو اس صورت میں غالب کا اعتبار ہو گا، جس پانی سے زیادہ سیراب کی گئی ہو اسی کے حساب سے عشر واجب ہو گا۔

حوالہ جات

الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 136) دار الكتب العلمية:

يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة، وفي كتب الشافعية: أو سقاه بماء اشتراه وقواعدنا لا تأباه، ولو سقى سيحا وبآلة اعتبرالغالب ولو استويا فنصفه وقيل ثلاثة أرباعه (بلا رفع مؤن) أي كلف (الزرع) وبلا إخراج البذر لتصريحهم بالعشر في كل الخارج. 

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

10/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب