03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین طلاقوں کو کسی شرط سے مشروط کرنے کا حکم اور اس سے بچنے کی تدبیر
84551طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

سائل کا نکاح ہوا ہے اور خلوت صحیحہ بھی ہوچکی ہے ، لیکن رخصتی ابھی تک نہیں ہوئی ہے ۔ سائل اپنے والدین کے ساتھ رہائش پذیر ہے ۔ کچھ دن قبل سائل کا اپنی والدہ کے ساتھ کسی بات پر جھگڑا ہوا ، جس پر سائل نے غصے کی حالت میں یوں طلاق دی کہ " اس ماہ کے بعد اگلے مہینے سے میں آپ لوگوں کے ساتھ نہیں رہوں گا ، اگر اگلے مہینے سے میں آپ لوگوں کے ساتھ رہا تو فلاں کی بیٹی (سائل کیی بیوی)ایک دو تین طلاقوں سے مجھ سے طلاق ہوگی " یہ الفاظ سائل نے دو مرتبہ دہرائے  ہیں ۔ پوچھنا یہ ہے کہ اس صورت میں اگر سائل اگلے مہینے سے اپنی والدہ کے ساتھ رہا تو کیا شرعاً ان کی بیوی پر طلاق واقع ہوگی ؟ اگر طلاق واقع ہوگی تو پھر اس سے بچنے کی کیا صورت ہوگی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ  الفاظ "اس ماہ کے بعد اگلے مہینے سے میں آپ لوگوں کے ساتھ نہیں رہوں گا اگر اگلے مہینے سے میں آپ لوگوں کے ساتھ رہا تو فلاں کی بیٹی ایک دو تین طلاقوں سے مجھ سے طلاق ہوگی" کہنے کے بعد اب اگر سائل مذکورہ شرط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اگلے مہینے اپنے گھر میں ہی قیام کرتا ہے تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی اوراس کی بیوی اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی پھر نہ رجوع جائز ہوگا اور نہ دوبارہ نکاح ہو سکے گا  ،البتہ تین طلاقوں سے بچنے کی صورت یہ اختیار کی جا سکتی ہے کے سائل اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دے دے اور عدت کے دوران کسی قسم کا قولی یا فعلی رجوع نہ کرے اسی طرح اگلے ماہ کی ابتداء سے پہلے اپنے  گھر سےاپنے ساز و سامان سمیت علیحدہ ہوجائے، پھرجب بیوی کی عدت ختم ہو جائے (یعنی تین ماہواریاں گزر جائے یا حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل ہو جائے )تو سائل اپنے گھر چلا جائے ،ایسا کرنے سے شرط پوری ہو جائے گی لیکن اس کی بیوی چونکہ اس وقت اپنے شوہر کے نکاح میں نہیں ہوگی اس لیے تین طلاقیں واقع نہیں ہوں گی ،پھر دونوں میاں بیوی دوبارہ باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر سکتے ہیں اور اس کے بعد اگر سائل اپنے گھر میں رہتا ہے تو کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ،لیکن آئندہ کے لیے سائل کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 416):

وزوال الملك بعد اليمين بأن طلقها واحدة أو ثنتين لا يبطلها فإن وجد الشرط في الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فدخلت وهي امرأته وقع الطلاق ولم تبق اليمين وإن وجد في غير الملك انحلت اليمين بأن قال لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق فطلقها قبل وجود الشرط ومضت العدة ثم دخلت الدار تنحل اليمين ولم يقع شيء كذا في الكافي.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 355):

(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها

اسامہ مدنی

دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی

11/ صفر/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسامہ بن محمد مدنی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب