| 84547 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
اگر کوئی زمین شاملات ہو ،بعض لوگ مسجد یا مدرسے کے لیے وقف کرنے پر راضی ہوں اوربعض نہ دینا چاہتے ہو ں تو اس زمین پر مسجد یا مدرسہ بنانا کیسا ہے؟
تنقیح : سائل نے زبانی بتایا کہ گاؤں والے یہاں تبلیغی مرکز بنانا چاہ رہےتھے جس میں رائیونڈ کے حضرات نے تبلیغی مرکز اور مسجد بنانی تھی ، لیکن اختلاف کا علم ہونے کے بعد انہوں نے انکار کیا ۔گاؤں والوں کو نئی مسجد کی ضرورت نہیں ، پہلے سے مسجد موجود ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شاملات کی زمین کسی کی ملکیت نہیں ہوتی ،بلکہ یہ تمام گاؤں والوں کی مشترکہ زمین ہوتی ہے،اس پر گاؤں کے تمام باشندوں کاحق ہوتاہےاور اس کو تمام گاؤں والوں کے مشترکہ مصالح اور مقاصد میں ہی استعما ل کیا جاسکتا ہے۔ صورت مسئولہ میں مسجد یا مدرسہ گاؤں کی ضرورت نہیں ،اس لیے اس زمین کو مدرسہ یا مسجد کےلیے وقف کرنے کےلیے گاؤں کے تمام باشندوں کی اجازت شرط ہے ، اور اگر ان میں سے کوئی بھی کسی وجہ سے راضی نہیں تو اس کو وقف کرنا ناجائز ہے ۔
واضح رہے کہ مشترکہ استعمال کےلیے چھوڑی گئی شاملات کی زمین میں دائمی اور مضر تصرف کےجواز کےلیے دو باتیں شرط ہیں : پہلی شرط یہ ہےکہ انتظامیہ کمیٹی ہو تو اس کےسارے یا اکثر ارکان اس پر متفق ہوں ، لیکن اگر وہ نہ ہوتو گاؤں کے سارے یا اکثر باشندے اس پر متفق ہوں ۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ تصرف اصالتا متعلقہ گاؤں کے باشندوں کی مصلحت اور ضرورت کےلیے کیا جارہا ہو ، اگرچہ ضمنا تمام اہل علاقہ کو بھی فائدہ پہنچ رہا ہو۔صورت مسئولہ میں گاؤں میں مسجد پہلے سے موجود ہے ،جس میں بنیادی دینی تعلیم کی ضرورت پوری ہوسکتی ہے، جیسا کہ عموما گاؤں اور دیہاتوں میں ہوتاہے اور تبلیغی مرکز بنانے میں دراصل پورے اہل علاقہ کی ضرورت اور مصلحت پیش نظر ہوتی ہے ، اس لیے دوسری شرط نہ پائے کی وجہ سے اس زمین کو تبلیغی مرکز و مسجد یا مدرسہ کے لیے سب کی رضامندی کے بغیر وقف کرنا جائز نہیں۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص: 244):
المادة (1271) الأراضي القريبة من العمران تترك للأهالي على أن تتخذ مرعى أو بيدرا أو محتطبا وتدعى هذه الأراضي الأراضي المتروكة.
درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 280):
المحلات التي يصل إليها صوت جهير الصوت عند صياحه من أقصى العمران تعد قريبة من العمران وحريما للعمران فلا تعد مواتا ولو لم يكن لها صاحب، أما الأراضي الواقعة فيما وراء وصول الصوت فتعد مواتا إذا تحققت القيود المذكورة في المادة الآنفة، كما أن الأراضي الواقعة داخل العمران أي في داخل القصبة والقرية لا تعد مواتا وتدعى هذه الأراضي الأراضي المتروكة فلا يجوز إحياء هذه الأراضي ولا تمليكها لآخر لأنه إذا كان الناس يستعملونها في الحال فهم محتاجون إليها تحقيقا وإذا كانوا لا يستعملونها فهم محتاجون إليها تقديرا وهذه الأراضي هي كالطريق والنهر (الطوري بزيادة) . مثلا: لو ملك والي ولاية عرصة مستعملة من القديم لوقوف مركبات أهل قصبته، وأحدث المشتري عليها بناء فيقلع بناؤه وتبقى العرصة كالأول.
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
11 /صفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


