03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر کا عدالتی خلع کے فیصلے پر دستخط کر کے مہر واپس لینے کا حکم
84595طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

میری ایک سہیلی نے گیارہ سال پہلے اپنی پسند اور والدین کی اجازت سے ایک شخص سے شادی کی، مہر چھ تولہ سونا مقرر کیا گیا جو نکاح کے وقت ادا کردیا گیا۔ رخصتی کے بعد ایک دفعہ لڑکی کے خاندان میں شادی تھی، دونوں اس میں شریک ہوئے، وہاں شوہر نے سب کے سامنے اپنی بیوی کو جلد تیار ہو کر جانے کا کہا، بیوی نے اس کو برا محسوس کیا، شادی سے والدین کے گھر آنے کے بعد اس نے شوہر کے پاس جانے سے مکمل انکار کردیا۔ شوہر نے ہر ممکن طریقے سے صلح اور اس کو راضی کرنے کی کوشش کی، مگر وہ راضی نہ ہوئی، اس کے دل میں لڑکے سے سخت نفرت پیدا ہوئی اور عدالت میں خلع کا کیس دائر کیا، جس میں تشدد، مارپیٹ، گھر سے نکالنے وغیرہ جیسے سراسر جھوٹے الزامات لگائے اور خلع کا مطالبہ کیا، یہ سب الزامات وکیل نے کیس مضبوط کرنے کے لیے اپنے پاس سے لگائے، لڑکی نے پڑھے بغیر اس پر دستخط کیے اور پھر عدالت کے سامنے وہی الزامات دہرائے۔ لڑکے نے جوابِ دعویٰ میں لکھا کہ یہ سب الزامات بے بنیاد اور جھوٹے ہیں، وہ اپنی بیوی سے محبت کرتا ہے، اس کے تمام شرعی حقوق ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور کبھی بھی اس سے علیحدہ نہیں ہونا چاہتا۔ مگر جج نے اپنے قلم سے مہر کے بدلے میں خلع دینے کا فیصلہ لکھا اور شوہر اور بیوی دونوں کو دیا، ان دونوں نے اس پر دستخط کردیے۔ شوہر کہتا ہے کہ میں نے اس کو حاضری کے دستخط سمجھ کر کیے، اگر یہ کہا جاتا کہ آپ اس کو پڑھ لیں اور اس کو قبول کرلیں تو پھر بات اور ہوتی۔ بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر (جو قانونی طور پر یونین کونسل کا سربراہ ہوتا ہے) کی ہدایت پر لڑکی کے والدین نے مہر کا زیور واپس کردیا، شوہر نے مہر لے لیا اور وصولی کے دستخط کردیے۔ شوہر کہتا ہے میں نے اس وقت بھی یہ نہیں کہا کہ میں خلع قبول کرتا ہوں۔ یونین کونسل نے ملکی قانون کے مطابق خلع کا سرٹیفیکیٹ جاری کردیا۔ لڑکی نے کچھ عرصہ بعد دوسری شادی کرلی۔

اب دس سال بعد لڑکی کے والد کے انتقال کے موقع پر لڑکے نے ان کے خاندان سے تعزیت کی تو لڑکی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، نیز مقامی علما نے بتایا کہ یہ طلاق/ خلع سرے سے ہوا ہی نہیں تھا، اس سے لڑکی مزید پشیمان ہوئی۔ لڑکی اپنی دوسری شادی سے خوش نہیں، اب اس مسئلے نے کہ یہ خلع نہیں ہوا، اور پریشان کردیا ہے۔ لڑکا کہتا ہے کہ وہ آج بھی اس کو بسانے کے لیے تیار ہے، یہ خلع قانونی تو ہو سکتا ہے، شرعی نہیں، اب تک وہ صرف لڑکی اور اس کے خاندان کی عزت کی خاطر خاموش رہا۔

اب سوال یہ ہے کہ اس خلع کا کیا حکم ہے؟ کیا ان دونوں کا سابقہ نکاح بر قرار ہے؟  موجودہ نکاح کا کیا حکم ہے؟ اس کو کیسے ختم کیا جائے؟ کیا موجودہ شوہر سے طلاق یا خلع لینا ہوگا یا یہ نکاح باطل ہے اور خود بخود ختم تصور ہوگا؟ اگر یہ لڑکا اور لڑکی دوبارہ گھر بساتے ہیں تو تجدیدِ نکاح کرنا ہوگا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کی سہیلی کا اپنے پہلے شوہر پر جھوٹے الزامات لگا کر خلع کے لیے عدالت جانا سخت ناجائز تھا، اس پر لازم ہے کہ توبہ و استغفار کرے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا پکا عزم کرے۔ جہاں تک اس خلع کے درست ہونے یا نہ ہونے کا تعلق ہے تو شوہر نے اگرچہ عدالت میں بیوی کے الزامات تسلیم کرنے اور اس کو چھوڑنے سے انکار کیا ہو، لیکن جب اس نے مہر کے بدلے خلع کے فیصلے پر عدالت میں دستخط کردیے اور بعد میں یونین کونسل سے اپنا مہر واپس لے لیا تو یہ اس کی طرف سے خلع کے اس فیصلے کو قبول کرنا تھا، جس کی وجہ سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی تھی اور ان دونوں کا نکاح ختم ہوگیا تھا۔ شوہر کی اس بات کا کوئی اعتبار نہیں کہ اس نے حاضری کے دستخط سمجھ کر فیصلے پر دستخط کیے، حاضری رجسٹر میں لی جاتی ہے، فیصلے پر نہیں۔ لہٰذا اس کے بعد جب لڑکی نے عدت گزار کر دوسرے شخص سے نکاح کرلیا ہے تو یہ نکاح شریعت کی رو سے درست ہوا ہے، اس حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اب وہ اپنے موجودہ شوہر کے حقوق اور عفت و پاک دامنی کا خیال رکھتے ہوئے اس کے ساتھ زندگی گزارے، پہلے شوہر کے پاس واپس جانے کے لیے اس سے خلع یا طلاق کا مطالبہ کرنا جائز نہیں۔    

حوالہ جات

۔

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       11/صفر المظفر/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب