03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والدکی پراپرٹی پر کسی ایک بھائی کا قبضہ کرنا اور والدہ کے وراثتی زیورات کا حکم
84560غصب اورضمان”Liability” کے مسائل متفرّق مسائل

سوال

ہم تین بھائی اور ایک بہن ہے،ہماری والدہ صاحبہ کاا نتقال ہو گیا، والد صاحب حیات ہیں، والد صاحب کا ایک گھر تھا جو فروخت کر دیا گیا، اب والد صاحب ایک بھائی کے ساتھ رہتے ہیں، بقیہ دوبھائیوں اور بہن نے فروخت شدہ گھر میں سے اپنا حصہ مانگا تو والد صاحب نے کہا کہ گھر آ کر لے جاؤ، جب گھر گئے تو جس بھائی کے ساتھ والد صاحب رہتے ہیں وہ حصہ دینے کے لیے تیار نہ ہوا اور دھمکیاں دینے لگا، گالم گلوچ کرنے لگا، اسی بھائی کے پاس ہماری مرحومہ والدہ صاحبہ کے زیورات بھی ہیں، جن کی قیمت کروڑوں میں ہے، والد صاحب ضعیف ہیں، وہ کچھ نہیں کر سکتے، اس مسئلے کا حل  کیا ہے؟ شرعی رہنمائی فر کر ممنون فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اصولی طور پر زندگی میں آدمی اپنے مال کا خود مالک ہوتا ہے اور وہ اپنے مال کو کسی بھی جائز مصرف پر خرچ کرنے میں شرعاً بااختیار ہوتا ہے، لہذاآپ کے والد صاحب کو اختیارہے کہ وہ فروخت شدہ  گھرکی رقم میں سے جتنی چاہیں اپنے پاس رکھیں اور جتنی چاہیں اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کریں، تاہم  بطورِ ہبہ (ہدیہ) اولاد  کے درمیان تقسیم کرنے کی صورت میں بیٹے اور بیٹیوں کو برابر حصہ دینا یا کم از کم بیٹی کو بیٹے کی بنسبت آدھا حصہ دینا ضروری ہے، نیز کسی بیٹے یا بیٹی کو اس کی خدمت، دینداری یا مالی تنگی کے باعث کچھ زیادہ حصہ دینے کی بھی گنجائش ہے، بشرطیکہ دوسرے ورثاء کو محروم کی نیت نہ ہو، لہذا اگر آپ کے والد صاحب اپنی مرضی سے مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق فروخت شدہ پلاٹ کی قیمت اپنی سب اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے بھائی کو ہرگز یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ والدصاحب کو  آپ لوگوں کو حصہ دینے سے منع کرے یا خود اس رقم پر قابض ہو کر بیٹھ جائے، ایسا کرنے کی صورت میں وہ سخت گناہ گار ہو گا۔

اسی طرح آپ کے بھائی کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ والدہ مرحومہ کا زیور سب ورثاء کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم کرے، جس میں سب سے پہلے مرحومہ کے شوہر (آپ کے والد صاحب) کو چوتھائی حصہ دےاور  بقیہ رقم سب بہن بھائیوں میں اس طرح تقسیم کی جائے کہ ہر بھائی کو بہن کی بنسبت دوگناہ حصہ آئے ۔باقی اس سے اپنا حق وصول کرنے کے لیے خاندان کی بااثر شخصیات کے ذریعہ اس پر دباؤ بھی ڈالا جا سکتا ہے اور اگر بالفرض پھر بھی  وہ آپ لوگوں کا   زیورات میں وراثتی حصہ دینے پر تیار نہ ہو تو اس کے خلاف عدالتی کاروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

یاد رہے کہ کسی کے مال پر ناحق قبضہ کرنے پر قرآن وحدیث میں جگہ جگہ سخت وعیدیں آئی ہیں، نیز آخرت کے دردناک عذاب کے علاوہ حرام مال کی نحوست کا اثر دنیا میں بھی انسان کی زندگی اور اس کی اولاد وغیرہ پر پڑتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کبھی خطرناک حادثہ یا کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے، اس لیے آپ کے بھائی کو چاہیے کہ خدا سے ڈرے اور جلد ازجلد آپ لوگوں کا حصہ آپ حضرات کے حوالے کرے،  ورنہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ بہت سخت ہے۔

حوالہ جات

القرآن الكريم [النساء: 29]:

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ }

صحيح البخاري (1/ 24) دار طوق النجاة:

عن عبد الرحمن بن أبي بكرة، عن أبيه، ذكر النبي صلى الله عليه وسلم قعد على بعيره، وأمسك إنسان بخطامه - أو بزمامه - قال: «أي يوم هذا»، فسكتنا حتى ظننا أنه سيسميه سوى اسمه، قال: «أليس يوم النحر» قلنا: بلى، قال: «فأي شهر هذا» فسكتنا حتى ظننا أنه سيسميه بغير اسمه، فقال: «أليس بذي الحجة» قلنا: بلى، قال: «فإن دماءكم، وأموالكم، وأعراضكم، بينكم حرام، كحرمة يومكم هذا، في شهركم هذا، في بلدكم هذا، ليبلغ الشاهد الغائب، فإن الشاهد عسى أن يبلغ من هو أوعى له منه»

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

11/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب