| 84580 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | کئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان |
سوال
اللہ کے فضل سے میرے پاس سر چھپانے کے لیے ایک عارضی بسیرا ہے، جو میری ذاتی ملکیت ہے، اس کے چھ وارثین بنیں گے، بیوی، دو بیٹے اور تین بیٹیاں۔ الحمد للہ بیٹے اور بیٹیاں سب شادی شدہ ہیں، ایک بیٹا میرے ساتھ اور دوسرا علیحدہ رہائش پذیر ہے، اب بیٹے مکان کے کاغذات طلب کر رہے ہیں، جبکہ مکان چونسٹھ گز پر مشتمل ہے، صرف دو کمرے ہیں، جن میں سے ایک میں ہم میاں بیوی اور دوسرے میں بیٹا رہائش پذیر ہے۔ اگر ابھی مکان فروخت کر کے سب کو حصہ دیا جائے تو اس کی کیا صورت ہو گی؟ جبکہ بندہ کے پاس اس مکان کے علاوہ اور کوئی جائیداد نہیں ہے۔
نیز یہ بھی بتایے کہ اگر زندگی میں ان کو حصہ نہ دیا جائے تو کیا وصیت نامہ یا کوئی قانونی کاروائی کی جا سکتی ہے کہ جس کے مطابق بیوی اوراولاد کو وراثت میں سے حصہ مل سکے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اصولی طور پر زندگی میں آدمی اپنے مال کا خود مالک ہوتا ہے اور وہ اپنے مال کو کسی بھی جائز مصرف پر خرچ کرنے میں شرعاً بااختیار ہوتا ہے، لہذاآپ کو اختیارہے کہ آپ یہ گھر اپنے پاس رکھیں یا اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کریں، اولاد آپ کو یہ گھر بیچنے پر ہرگز مجبور نہیں کر سکتی، نیز ان کا آپ سے مکان کے کاغذات مانگنا بھی درست نہیں، کیونکہ زندگی میں ان کا آپ کے مال کے ساتھ کوئی حق متعلق نہیں، تاہم اگر آپ اپنی رضامندی سے یہ مکان بیچ کر بطورِ ہبہ (ہدیہ) اپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہیں توایسی صورت میں بیٹے اور بیٹیوں کو برابر حصہ دینا یا کم از کم بیٹی کو بیٹے کی بنسبت آدھا حصہ دینا ضروری ہے، نیز کسی بیٹے یا بیٹی کو اس کی خدمت، دینداری یا مالی تنگی کے باعث کچھ زیادہ حصہ دینے کی بھی گنجائش ہے، بشرطیکہ دوسرے ورثاء کو محروم کی نیت نہ ہو۔ نیز اس صورت میں اولاد کو دینے سے پہلے بیوی کو بھی کم از کم آٹھواں حصہ دینا ضروری ہے، اس کے بعد بقیہ مال اولاد کے درمیان تقسیم کیا جائے۔
اس کےعلاوہ اولاد کے لیے وصیت لکھنے یا قانونی کاروائی کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اولاد کے حق میں شرعاً وصیت نافذ العمل نہیں ہوتی، باقی قانونی کاروائی کی اس لیے ضرورت نہیں کہ آدمی کی وفات کے بعد اس کی جائیداد وغیرہ خودبخود اولاد یعنی بیٹوں اور بیٹیوں کے نام منتقل ہو جاتی ہے۔نیز یہ بھی ممکن ہےکہ زندگی میں قانونی طور پر اولاد کے درمیان نام کروانے کے بعد خدانخواستہ اگر بیوی یا اولاد میں سے کوئی وفات پا جائے تو اس کا حصہ پھر انہی ورثاء کی طرف لوٹ آئے گا اور پھر دوبارہ ان کے نام کروانے کے لیے قانونی کروائی کرنا پڑے گی۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 127) دار الكتب العلمية،بيروت:
(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل بعضهم على بعض.
وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي - عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
12/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


