| 84562 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
گزراش یہ ہے کہ ہمارے دینی ادارے میں شعبہ حفظ کی برانچ مسجد سے الگ بلڈنگ میں بنی ہوئی ہے، جس میں بچوں کی تعداد تقریبا پانچ سو ہے،جس میں اکثر بچے نابالغ ہیں،جبکہ کچھ بالغ بھی ہیں،جمعہ کے دن مدرسہ کی چھٹی نہیں ہوتی،موجودہ حالات کی بناء پر چھٹی اتوار کو ہوتی ہے،اگر اتوار کی چھٹی نہ کی جائے تو طلباء چھٹیاں زیادہ کرلیتے ہیں،اس لئے اتوار کو چھٹی ہوتی ہے اور جمعہ کو پڑھائی کی جاتی ہے۔
کیا جمعہ کے دن اساتذہ کرام کی نگرانی میں ان بچوں کی خاطر دارالقرآن کے ہال میں جمعہ کی نماز قائم کرنے کی گنجائش ہے؟ یا ان بچوں کو مسجد لانا ضروری ہے؟
مسجد لانے سے ایک تو نمازیوں کی گنجائش کے اعتبار سے مسئلہ بنتا ہے،جب نابالغ بچوں کی اتنی بڑی تعداد مسجد آتی ہے تو اس سے اہل علاقہ کے نمازی متاثر ہوتے ہیں اور انہیں جگہ ملنے میں دشواری ہوتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرچہ جمعہ کی نماز صحیح ہونے کے لئے اس کی مسجد میں ادائیگی شرط نہیں،لیکن جمعہ کی نماز جامع مسجد میں پڑھنا افضل ہے،اس لئے مسجد ہی میں بچوں کو جمعہ پڑھوانے کی کوئی ترتیب ممکن ہو تو اسے اپنانا چاہیے،مثلا بچوں کو اساتذہ کی نگرانی میں آخری صفوں کی ایک جانب یا مسجد کی گیلری وغیرہ میں ترتیب سے بٹھادیا جائے،تاہم اگر مسجد چھوٹی ہونے کی وجہ سے یہ صورت بھی دیگر نمازیوں کے لئے مشکلات کا سبب ہو تو پھر مدرسے میں جمعہ کی نماز قائم کرنے کی گنجائش ہوگی۔
حوالہ جات
"حلبی کبیر " (ص:551):
"وفی الفتاوی الغیاثیة: لو صلی الجمعة فی قریة بغیر مسجد جامع،والقریة کبیرة،لھا قری وفیھا وال و حاکم، جازت الجمعة،بنوا المسجدأو لم یبنوا وھو قول أبی القاسم الصفار و ھذاأقرب الأقاویل إلی الصواب... والمسجد الجامع لیس بشرط ولھذا أجمعوا علی جوازھا بالمصلی فی فناء المصر".
"الدر المختار " (2/ 144):
"(وتؤدى في مصر واحد بمواضع كثيرة) مطلقاعلى المذهب وعليه الفتوى،شرح المجمع للعيني". قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:" (قوله: مطلقا) أي سواء كان المصر كبيرا أو لا وسواء فصل بين جانبيه نهر كبيركبغداد أو لا وسواء قطع الجسر أو بقي متصلا وسواء كان التعدد في مسجدين أو أكثر ،هكذا يفاد من الفتح، ومقتضاه أنه لا يلزم أن يكون التعدد بقدر الحاجة كما يدل عليه كلام السرخسي الآتي .
(قوله: على المذهب) فقد ذكر الإمام السرخسي أن الصحيح من مذهب أبي حنيفة جواز إقامتها في مصر واحد في مسجدين وأكثر ،به نأخذ لإطلاق «لا جمعة إلا في مصر» شرط المصر فقط، وبما ذكرنا اندفع ما في البدائع من أن ظاهر الرواية جوازها في موضعين لا في أكثر وعليه الاعتماد اهـ فإن المذهب الجواز مطلقا بحر (قوله دفعا للحرج) لأن في إلزام اتحاد الموضع حرجا بينا لاستدعائه تطويل المسافة على أكثر الحاضرين ولم يوجد دليل عدم جواز التعدد بل قضية الضرورة عدم اشتراطه لا سيما إذا كان مصرا كبيرا كمصرنا كما قاله الكمال ط".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
12/صفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


