03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
لفظ “طلاق سمجھو” سےطلاق کاحکم
84593طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

میں نے گھر سے چھپ کر دوسری شادی کررکھی ہے ،ہمارے درمیان صرف یہ شرط تھی کہ حق زوجیت کے لیے کرایہ کے مکان میں ملاقات ہواکرے گی ،باقی میری بیوی اپنے پہلے مرحوم شوہر کے گھر اپنے بچوں کے ساتھ رہے گی اورمیں اپنے گھر اپنے بچوں کے ساتھ رہوں گا ،تقریبا 5سال یہ سلسلہ بڑی خوشی سے چلتارہا، لیکن پھر اچانک میری بیوی نے مجھ سے فون پر رابطہ ختم کردیا  اورمجھے اپنے حق سے بھی محروم رکھنے لگی تو میں نے مجبورا بیوی کو غصہ سے کہا کہ "اگر مجھ سے تین دن تک رابطہ بند رکھا تو میری طرف سے طلا ق سمجھو"،بیوی نے اس کے بعدتین ماہ تک  رابطہ صحیح رکھا، مگر پھر رابطہ مسلسل ایک ماہ بند رکھا بوجہ کسی مجوری کے ،توپوچھنایہ ہےکہ

آیا  طلاق واقع ہوگئی  ہے یا نہیں؟ کیونکہ میں نے بغیرقسم کے صریہ کہا تھاکہ "تین دن رابطہ بند رکھا تو میری طرف سے طلاق سمجھو" اوراس کے بعد ہم نے رجوع بھی ایک ماہ بعد کرلیا تھا۔

پھر کچھ عرصہ بعد اس نے رابطہ بند کیا تقریبا تین ماہ، جب ہم ملے تو میں نے غصہ میں یہ کہا کہ" تم اپنے رشتہ داروں کے گھر غمی خوشی میں جاتی ہو،اس لیے رابطہ بند کردیت ہو، اس کے بعد اگر تم میری جازت کے بغیر گھر سے نہیں نکلوگی ،صرف اپنے مرحوم شوہر کی پنشن لینے اوربیماری میں ڈاکٹرکےپاس جانے کی جازت ہے، اس کے علاوہ میری اجازت کے بغیر گھر سے نہیں نکلوگی ورنہ میری طرف سے تین طلاق سمجھو" ،یہ طلاق ولاجملہ تقریباً تین باردہرایا لیکن کوئی قسم وغیرہ نہیں کھائی، پھر بھی وہ تقریبا تین ماہ بعد بلااجازت اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے گھر گئی ،میں نے خود نہیں دیکھاتھا، اس کے داماد نے باتوں باتوں میں کہاکہ شادی وغمی میں ہمارے ساتھ بھی گئی تھی اوربہنوں کے ساتھ بھی جب میں نےاس سے پوچھا اتو اس نے قسم اٹھاکر کہا کہ میں کہیں بھی نہیں گئی، ہاں بغیرمیری اجازت کے گندم کی کٹائی کی مزودری پر اپنے بچوں کے ساتھ گئی تھی،لیکن گھر کے تمام افراد کے ساتھ تھی،کیونکہ پھر یہ اکیلی گھر میں رہتی ہے تو مشکلات پیش آتی ہیں کہ سودا سلف اورحفاظت کی وجہ سے مجبورتھی۔

 آیا یہ تین طلاقیں واقع ہوگئیں  ہیں یا کچھ گنجائش ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چھپ کرشادی کرنا شرعا اچھاعمل نہیں ہے، نکاح علی الاعلان اور ظاہر میں ہونا چاہئے، تاکہ کسی کو غلط گمان اور وہم نہ پیدا ہو، اس کے باوجود اگرمسئولہ صورت میں دو گواہوں کی موجودگی میں شرعی قانون کے مطابق ایجاب و قبول کرکے نکاح کیاگیا تھا تو وہ نکاح صحیح اور منعقد ہوگیاتھا،اورآپ دونوں میاں بیوی بن گئے تھے۔

جمہورعلماء کے نزدیک "طلاق سمجھو" کے لفظ سے طلاق نہیں ہوتی،جیسے کہ "امدادالاحکام"2/432،"خیر الفتاویٰ"5/147،" نجم الفتاوی"6/58،فتاوی دارالعلوم کراچی ابراہیم عیسی،"فتاوی دارالافتاء بنوری ٹاؤن اور"فتاوی دار الافتاءجامعة الرشید42/599 وغیرہ میں ہے، لہذا مسئولہ صورت میں بیوی کے آپ سے رابطہ نہ رکھنے پر راجح قول کے مطابق اس پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

حوالہ جات

عن عائشۃ رضي اللّٰہ تعالیٰ عنہا قالت: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لا نکاح إلا بولي وشاہدي عدل، وما کان من نکاح علی غیر ذٰلک فہو باطل الخ۔ (أخرجہ ابن حبان في صحیحہ رقم: ۷۵، والدار قطني في سننہ ۳؍۲۲۶، والبیہقي في السنن الکبریٰ ۷؍۱۲۵، إعلاء السنن ۱۱؍۲۵)عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما قولہ: لا نکاح إلا ببینۃ۔ (سنن الترمذي ۱؍۱۴۰ المکتبۃ الأشرفیۃ دیوبند)عن أبي الزبیر أن عمر رضي اللّٰہ عنہ أتی برجل في نکاح لم یشہد علیہ إلا رجل وامرأۃ، فقال عمر: ہٰذا نکاح السرّ ولا نجیزہ، ولو کنت تقدمت فیہ لرجمت۔ (رواہ محمد في المؤطا ۱؍۲۴۱ وہو مرسل صحیح)

وفي الکافي: رکن النکاح: الإیجاب والقبول … وقبول النکاح في المجلس۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۴؍۳ رقم: ۵۳۶۱ زکریا)من شرائط النکاح الشہادۃ عندنا۔ (الفتاویٰ التاتارخانیۃ ۴؍۳۶ رقم: ۵۴۵۳ زکریا)

وفی البحر الرا ئق (۴۱۸/۸):

مسا ئل متفر قۃ:( ولو قال الزوج داده أنكار وكرده أنكار ) لا يقع الطلاق ( وإن نوى الوقوع ) والفرق بينهما

أن في الأولى إخبارا عن وقوع فيقع الطلاق وفي الثاني ليس بأخبار لأن معنى قوله داده أنكار افرضي أنه وقع أو احسبي  فلا يقع به شيء وأنكار بفتح الهمزةوسكون النون وفتح الكاف الصماءوفي آخره راءمهملة ومعناه افرضي وقدري۔

فی الخانیۃ(۲۱۴/۲):

ولو قیل لرجل أطلقت امرأتک فقا ل:عدّھامطلقۃ أواحسبھامطلقۃ لا تطلق امرأتہ۔

وفی مجمع الا نھر(۴۷۸/۴):

مسائل متفر قۃ:ولو قالت المرأة مراطلاق ده فقال الزوج داده كير أو کردہ كير أو داده باد أو کردہ باد معناه أعطني طلاقا فقال افرضي وقدري أنه قد أعطى أو أنه قد فعل أو أنه كان أعطى أو أنه كان قد فعل لأن قوله كير معناه الأصلي أمسك لكن معناه هنا افرضي وقدري إن نوى الطلاق يقع وإلا أي وإن لم ينو فلا يقع لاحتمال الوعد والإيقاع فيحتاج إلى نية الإيقاع ولو قال الزوج داده است في جواب قولها مراطلاق ده أو کردہ است يقع الطلاق وإن لم ينو لأنه لا يحتمل غير الإيقاع فلا يحتاج إلى النية ولو قال داده آنكار و کردہ آنكار لا يقع الطلاق  وإن نوى الوقوع والفرق بينهما أن في الأول إخبارا عن الوقوع فيقع مطلقا وفي الثانية ليس بإخبار لأن معنى قوله داده آنكار افرضي أنه وقع أو احسبي فلا يقع به شيء۔

وفی الولو الجیۃ(۱۵/۲):

امرأۃ قالت لزوجھا مرا طلاق دہ فقال الزوج بالفارسیۃ دادہ کیر فھھناأربعۃ ألفاظ۔[إحداھا:دادہ کیر وکردہ کیر]،[والثانیۃ:دادہ باذہ ،باذ،وکردہ کیر] ، [والثالثۃ: دادہ است ،وکیردہ است]،[والرا بعۃ:دادہ انکار، وکردہ انکار]ففی الو جہ الأ ول والثانی :ینوی إن نوی الإیقاع یقع وإلا فلا لأنہ یحتمل الإیقاع والوعدوفی الو جہ الثالث :یقع نویٰ أو لم ینو ولا یصدق فی تر ک النیۃ قضاء لأ نہ تحقیق ظاھر وفی الو جہ الرا بع لا یقع نوی أو لم ینو لأنھافارسیۃ قو لہ عدی أنک طا لق ولو قال ذلک ونوی لا یقع۔الخ

قال العلامۃ ابن عابدینؒ: سئل فی الرجل اذا شک انہ طلق امرأتہ ام لا فھل لایقع علیہ الطلاق الجواب نعم لایقع الطلاق۔ (تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ:ج؍۱،ص؍۳۷، کتاب الطلاق)

قال مشایخنا رحمہم اﷲ تعالیٰ: ویحتاط في باب الفروج في جمیع المواضع نحو العتق في الجواري والطلاق في النساء في الشہادۃ وغیر ذلک۔ (الفتاوی الہندیۃ، کتاب أدب القاضي، قبیل الباب الثالث والعشرون، مکتبہ زکریا دیوبند قدیم ۳/۳۸۰، زکریا جدید ۳/۳۳۴)المحیط البرہاني، کتاب القضاء، الفصل الثاني والعشرون، المجلس العلمي۱۲؍۳۱۵، رقم:۱۴۴۵۴الفتاوی التاتارخانیۃ، کتاب أدب القاضي، الفصل الثاني والعشرون، مکتبہ زکریا دیوبند۱۱؍۱۹۷                                                                                                                                                                                 

وفی امدادالاحکام :

"ان الفاظ میں باوجود نیت کے فقہاء نے عدمِ وقوعِ طلاق کی تصریح فرمائی ہے، کیوں کہ یہ لفظ معنی وعدہ میں صریح ہے،جس کی نظیر یوں ہے کہ کوئی سوالِ طلاق کے بعد یوں کہے "طلاق کنم طلاق کنم" تو اس سے بمعنی وعد کے وقوع نہ ہوگا۔"(ج2،ص432، مکتبہ دار العلوم)

خیر الفتاویٰ (ج:۵ ؍ ۱۴۷ ) :

جواب:طلاق ہی سمجھو ’’دادہ انگار‘‘ کے مشابہہ ہے۔ لہٰذا عورت مذکورہ پر طلاق واقع نہیں ہوئی، بلکہ بدستور اپنے خاوند کے نکاح میں ہے‘‘۔

وفی فتاوی دارالعلوم کراتشی:

"تم سمجھوکہ میں نے تمہیں طلاق دیدی" اس قسم کے الفاظ سے بھی طلاق نہیں ہوتی ،چنانچہ آپ دونوں کا نکاح برقرارہےالخ( ابراھیم عیسی/ 2ذیعقدہ 1434)

وفی فتاوی دارالافتاء جامعة العلوم الاسلامیة بنوری ٹاؤن :

 ’’ طلاق سمجھو‘‘ کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ہے([1])

نجم الفتاوی جلد 6 - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع صفحہ نمبر: 58

 ’’سمجھ لے ‘‘مسئلے کا اصل مدا ر اس لفظ پر ہے۔ ’’کا غذ ہے‘‘ وغیر ہ تو کنا ئی الفاظ ہیں لیکن سمجھ لے کے ساتھ مل کر ان کا حکم کیا ہو گا، اصل اس کی تنقیح ضرو ری ہے۔ ’’سمجھ لے ‘‘ کاممکنہ تر جمہ عربی میں  ’’احسبی ‘‘ سے کیا جا سکتا ہے ۔مصبا ح اللغات میں ’’حسب یحسب‘‘ (من باب سمع یسمع ) کا تر جمہ ’’گمان کرنا ‘‘ تحریر ہے۔ اسی سے ملتے جلتے الفا ظ ’’عد ی ‘‘ (شما ر کر) اورافر ضی (فرض کر)  ہیں  ۔احسبی ،عدی یا افرضی (گما ن کر ،شما ر کر ،فر ض کر ) میں  سے احسبی (گمان کر ) ’’سمجھ لے‘‘ کے قریب تر ہے۔فقہا ء نے ان تمام الفا ظ میں  احتما ل طلا ق ہو نے کی نفی کی ہے۔ عمو ما فقہا ء ایک مکا لمے کی صورت میں [جو کہ فا رسی میں  ہے] اس کا عر بی تر جمہ ان الفاظ سے کر کے مع النیۃ بھی عد م وقو ع طلا ق کا حکم لگا تے ہیں  ۔ فا رسی میں  مکا لمہ یوں  ہے کہ بیو ی کہتی ہے کہ ’’مرا طلا ق دہ‘‘ (مجھے طلاق دے ) شو ہر اس کے جوا ب میں  کہتا ہے (دادہ آنکا ر) اس ’’دادہ آنکار ‘‘ کا تر جمہ فقہاء "افر ضی أنہ وقع" "عدی أنک طا لق" اور "احسبی"سے کر تے ہیں  کہ[ شما ر کر لے کہ تو طلاق یا فتہ ہے ]،[فرض کر لے کہ وہ وا قع ہو گئی ہے] یا[ گمان کر لے]وغیر ہ ترا جم کرکے ان الفاظ میں  مع النیہ بھی عدم وقوع کا قو ل کر تے ہیں  ۔

 

البحرالرائق کی عبا رت ہے :

 

"معنى قوله داده أنكار افرضي أنه وقع أو احسبي  فلا يقع به شيء وأنكار بفتح الهمزة وسكون النون وفتح الكاف الصماء وفي آخره راء مهملة ومعناه افرضي وقدري"(البحر ۴۸۱/۸)

 

اسکے مقا بلے میں  اسی مکا لمے میں  شو ہر کا ایک جواب ’’دادہ است ‘‘ (دے دی ہے ) بھی منقو ل ہے ۔اس میں فقہا ء بغیر نیت کے ہی طلا ق کےوقوع کے قائل ہیں ۔ اس کا معنی عر بی میں  ’’اعطیت ‘‘سے کیا جا سکتا ہے ۔فقہاء ان دو نوں  میں  یہ فرق تحریر فرما تے ہیں  کہ یہ[ دا دہ است] طلا ق کی خبر دینا ہے اور یہ اصول ہے کہ طلا ق کی جھو ٹی خبر سے انشا ء بن کر وقوع طلاق ہوجاتا ہے لہذا یہ ’’دادہ است‘‘ خبر کا ذب کی بنا ء پر انشا ء ہے، جبکہ ’’احسبی ،عدی ،افر ضی ‘‘میں  اخبا ر نہیں ،بلکہ یہ حال میں  طلاق کو گمان کر نے کا حکم ہے لہٰذا یہاں  مع النیۃ بھی طلا ق کا وقو ع نہ ہو گا ۔

 

لما فی البحر الرا ئق (۴۸۱/۸):والفر ق بینھما أن فی الأ ولی اخباراعن الو قوع فیقع الطلا ق و فی الثانی لیس باخبارلأن معنی قو لہ دادہ انکا رافرضی۔ الخ ۔

 

جبکہ بعض فقہا ء نے فا رسی مکا لمے کے تر جمے میں  یہ الفاظ ذکر کر نے کے بجا ئے مستقلا بھی ان الفاظ کو ذکر کیا ہے لیکن انہوں  نے بھی نیت کے باوجود ،عد مِ وقوعِ طلاق کاحکم لگایا ہےاور احتمال کی نفی کی ہے۔مثلا خانیہ میں  ہے:

 

"ولو قیل للرجل أطلقت امرأتک فقا ل عدّھا مطلقۃ واحسبھا مطلقۃ لا تطلق امرأتہ" ( الخا نیۃ۲۱۴/۲)

 

 مآل بہر حال ایک ہی ہے کہ طلا ق واقع نہ ہوگی ۔الغرض’’احسبی ،افر ضی اور عد ی‘‘میں  بتصر یح فقہا ء احتما ل طلا ق ہی نہیں  ،لہذا ’’سمجھ لے ‘‘میں  بھی کسی قسم کا احتما ل نہ ہو گا۔ اگر کو ئی نیت بھی کرتا ہے تو طلا ق کا وقوع نہ ہوگا ۔

 


[1] https://www.banuri.edu.pk/readquestion/shohar-ka-ye-kahnay-kay-main-ap-ko-talaq-day-chuka-hn-meri-taraf-say-lakh-talaq-samjho-kahnay-ka-hukum-144209200147/14-04-2021

  سیدحکیم شاہ عفی عنہ

 دارالافتاء جامعۃ الرشید

12/2/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب