| 84610 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
میرے دادا کی ایک زمین تھی جسے میرے بڑے چچا نے ان کے انتقال کے بعد بیچ دیا اور ایک زمین خریدی جس کی قیمت آج تقریباً ڈیڑھ کروڑ انڈین روپیہ ہوتا ہے۔ میرے والد ،تین بھائی اور ایک بہن ہیں۔ جو زمین چچا نے خریدی وہ مارکیٹ کی تھی ،اس میں انہوں نے کاروبار شروع کیا اور جب وراثت کی تقسیم کی بات آئی تو انہوں نے اس زمین سے ہمارے والد کو دستبردار کر دیا اور اس کے بدلے ایسی زمین دی جس کی قیمت ٢٢لاکھ ہے۔ میرے والد نے اس فیصلے کو نہیں مانا اور کہا کہ میں اسے الله کے یہاں سمجھوں گا (آخرت میں حساب لوں گا)،تو ہمارے چچا ایک عالم کے پاس گئے اور ساری بات بتائی تو اس عالم صاحب نے کہا کہ ان سے کہ دیں کے مجھ سے الله کے یہاں وہ سمجھ لیں گے۔ میں اس زمین سے اپنے والد کا حصہ چاہتا ہوں برائے کرم یہ بتا دیں کیا شرعی طور پرحق لیا جا سکتا ہے یا نہیں؟
تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ موروثی زمین چھوٹی ہونے کی وجہ سے 1987 میں فروخت کی گئی اور اس رقم سے ایک دوسری زمین لی گئی اور باقی ماندہ رقم سے مشترکہ کاروبار کیا جس میں سب بھائیوں نے کام کیا، پانچ سال بعد جب تقسیم کی بات آئی تو بڑے بھائی نے مصلحت کا کہہ کر تقسیم سے انکار کیا اور دونوں بھائیوں کو تھوڑی تھوڑی زمین دلادی جس پر وہ رضامند بھی نہیں تھے، اس کے علاوہ بہن کو بھی کوئی حصہ نہیں دیا گیا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی شخص کے انتقال کے بعد اس کے کل ترکہ میں اس کے تمام ورثاء کا حق متعلق ہوجاتا ہے اور وہ سب اس میں اپنے شرعی حصوں کے تناسب سے شریک ہوجاتے ہیں، اور وہ ترکہ ان سب میں شرکتِ ملک کے طور پر مشترک ہوجاتا ہے۔ صورت مسئولہ میں پانچ سال تک جو بھی جائیداد (منقولہ و غیر منقولہ) تھی وہ سب کے درمیان مشترک تھی ،اسی طرح اس کے ذریعے جو نفع کمایا گیا تھا وہ بھی سب کے درمیان مشترک تھا، البتہ پانچ سال کے بعد جب تقسیم کا مطالبہ ہوا اور آپ کے چچا نے باوجود مطالبے کے جائیداد تقسیم نہ کی جس کے نتیجے میں آپ کے والد اور چھوٹے چچا بھی کاروبار سے الگ ہوگئے تب سے آپ کے چچا نے مشترک منقولہ جائیداد کو بلا اجازت استعمال کرنا شروع کردیا جس کا حکم یہ ہے کہ اس وقت کے بعد چچا کو کاروبار میں جو نفع ہوا وہ انہیں کا شمار ہوگا اسی طرح اگر کوئی نقصان ہوا تو وہ بھی انہیں کا ہوگا، لہذا مذکورہ صورت میں پانچ سال تک جو بھی منقولہ جائیداد تھی اس کا حساب کیا جائے اور اس وقت کی قیمت کے اعتبار سے تمام ورثہ میں اپنے حصوں کے تناسب سے تقسیم کیا جائے ۔ غیر منقولہ جائیداد میں وہ زمین جو موروثی زمین فروخت کرکے لی گئی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ وہ تمام زمینیں جو پانچ سال تک مشترک مال سے لی گئی تھی سب ورثہ کی مشترک ملکیت ہے، لہذا وہ ساری زمینیں بھی تمام ورثہ کے درمیان شرعی اعتبار سے تقسیم ہونگی۔اور پانچ سال بعد چونکہ مال مشترک نہ رہا تھا اس لئے اس کے بعد خریدی گئی زمینیں خریدار ہی کی ملکیت ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 307):
مطلب فيما يقع كثيرا في الفلاحين مما صورته شركة مفاوضة [تنبيه] يقع كثيرا في الفلاحين ونحوهم أن أحدهم يموت فتقوم أولاده على تركته بلا قسمة ويعملون فيها من حرث وزراعة وبيع وشراء واستدانة ونحو ذلك، وتارة يكون كبيرهم هو الذي يتولى مهماتهم ويعملون عنده بأمره وكل ذلك على وجه الإطلاق والتفويض، لكن بلا تصريح بلفظ المفاوضة ولا بيان جميع مقتضياتها مع كون التركة أغلبها أو كلها عروض لا تصح فيها شركة العقد، ولا شك أن هذه ليست شركة مفاوضة، خلافا لما أفتى به في زماننا من لا خبرة له بل هي شركة ملك كما حررته في تنقيح الحامدية.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 325):
مطلب: اجتمعا في دار واحدة واكتسبا ولا يعلم التفاوت فهو بينهما بالسوية [تنبيه] يؤخذ من هذا ما أفتى به في الخيرية في زوج امرأة وابنها اجتمعا في دار واحدة وأخذ كل منهما يكتسب على حدة ويجمعان كسبهما ولا يعلم التفاوت ولا التساوي ولا التمييز.
فأجاب بأنه بينهما سوية، وكذا لو اجتمع إخوة يعملون في تركة أبيهم ونما المال فهو بينهم سوية، ولو اختلفوا في العمل والرأي اهـ وقدمنا أن هذا ليس شركة مفاوضة ما لم يصرحا بلفظها أو بمقتضياتها مع استيفاء شروطها۔
مجلة الأحكام العدلية (ص: 210):
المادة (1090) إذا أخذ الورثة مقدارا من النقود من التركة قبل القسمة بدون إذن الآخرين وعمل فيه فخساره يعود عليه , كما أنه لو ربح لا يأخذ الورثة حصة فيه.
مجلة الأحكام العدلية(1/175):
(المادة 905) المغصوب إن كان عقارا يلزم الغاصب رده إلى صاحبه بدون تغييره وتنقيصه وإذا طرأ على قيمة ذلك العقار نقصان بصنع الغاصب وفعله يضمن نقصان قيمته مثلا لو هدم أحد محلا من الدار التي غصبها أو انهدم بسبب سكناه وطرأ على قيمتها نقصان يضمن مقدار النقصان كذلك لو احترقت الدار من النار التي أوقدها الغاصب يضمن قيمتها مبنية.
اسامہ مدنی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
13/ صفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | اسامہ بن محمد مدنی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


