| 84611 | جائز و ناجائزامور کا بیان | عورت کو دیکھنے ، چھونے اورجماع کرنے کے احکام |
سوال
اگر میں اپنی شرمگاہ میں کنڈوم ڈالوں اور پھر اپنی بیوی کے منہ سے اورل سیکس کروں ،تو کیا یہ جائز ہے؟ جب کہ کنڈوم میں منی منہ کی اندر نہیں جاتا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ شوہر کا اپنا عضو خاص پر کنڈوم لگاکر بیوی کے منہ سے اورل سیکس کرنانہایت قبیح ، غیر فطری اور حیوانی فعل ہے، یہ عمل مکروہ تحریمی اور گناہ ہے ، پاکیزہ زبان جس سے اللہ کا نام لیا جاتا ہے، قرآن کریم کی تلاوت کی جاتی ہے اسے ہمیشہ پاک رکھنا چاہیے لہذا اس سے اجتناب کرنا چاہیےاور غیر فطری طریقہ کو اختیار کرنے کے بجائے تسکینِ شہوت کے لیے فطری طریقہ اختیار کرنا چاہیے، اگر کبھی ایسا عمل ہوگیا ہو تو صدقِ دل سے توبہ واستغفار کیا جائے، تاہم اس عمل کی وجہ سے کوئی کفارہ لازم نہیں۔
حوالہ جات
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (5/ 408):
إذا أدخل الرجل ذكره فم أمرأته فقد قيل: يكره؛ لأنه موضع قراءة القرآن، فلا يليق به إدخال الذكر فيه، وقد قيل بخلافه.
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (4/ 2641):
ويجوز الاستمتاع بها فيما بين الأليتين، لقوله تعالى: {إلا على أزواجهم أو ما ملكت أيمانهم فإنهم غير ملومين} [المؤمنون:6/ 23] ويجوز وطؤها في القبل مدبرة لقول جابر: «يأتيها من حيث شاء مقبلة أو مدبرة إذا كان ذلك في الفرج».
وربما كان أسوأ من الدبر: وضع الذكر في فم المرأة ونحوه، مما جاءنا من شذوذ الغربيين، فيكون ذلك حراماً لثبوت ضرره وقبحه شرعاً وذوقاً.
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
13/ صفر /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


