03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چھوٹی بیٹی کی شادی کے لیے وکیل کو دی گئی رقم واہب کےترکہ میں شامل ہوگی
84596میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسائل کے بارےمیں کہ

میرے والد مرحوم میری چھوٹی بہن کی شادی کے لیے مبلغ ایک لاکھ اٹھاسی ہزار روپے (188000)دے کر فوت ہوئے تھے، یہ بات میرے سوا کسی کو  معلوم نہیں تھی، والد صاحب کے انتقال کے بعد میں نے یہ بات بہنوں اور بھائی کو بتادی، میری چھوٹی بہن کی شادی ابھی تک نہیں ہو ئی،جبکہ میری بڑی بہن اور چھوٹے بھائی انتقال کر چکے ہیں، اب ہم دو بہن بھائی حیات ہیں، اب میری چھوٹی بہن جس کی شادی کے لیے والدمرحوم نےپیسے رکھوائے تھے کہہ رہی ہیں کہ وہ رقم اس کو دے دی جائے،جبکہ والد صاحب مرحوم نے یہ رقم صرف چھوٹی بہن کی شادی کے لیے دی تھی، یہ نہیں کہا تھا کہ یہ رقم اس بہن کو دینی ہے،آپ سے التماس ہے کہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں یہ بتائیے کہ اس رقم کی شرعی طور پر کیا حیثیت ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جب یہ پیسہ والد نے ہبہ کرکےاپنی چھوٹی بیٹی کےقبضہ میں نہیں دیا اوربیٹے کے پاس رکھوایا تو بیٹاتو والد کا وکیل ہے، اس کے پاس رکھوانے سےبہن کاقبضہ نہیں ہوا، لہذاوالد کے فوت  ہونے پر یہ رقم ترکہ میں شامل ہوکرسب ورثہ میں ان کے شرعی حصوں کے حساب سے تقسیم ہوگی جس میں اس بہن کو بھی اپنا شرعیحصہ ملے گا،لیکن پوری رقم اس کی نہیں ہے،البتہ  بھائی یعنی آپ کا اخلاقی فریضہ بنتا ہےکہ اس بہن کی شادی میں اپنی جیب خاص سےرقم خرچ کرنے میں بھر پور حصہ لیں۔

حوالہ جات

شرح المجلۃ رستم اتحاد( ۱/۶۱۰، رقم المادۃ: ۱۰۹۲):

أن أعیان المتوفی المتروکۃ عنہ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصہم.

فتاویٰ عالمگیریہ، کتاب الشرکۃ:

ولایجوز لأحدھما أن یتصرف فی نصیب الآخر إلا بأمرہ وکل واحد منہما کالأجنبی فی نصیب صاحبہ.

  ردالمحتار:

”(ولایخرج عن العھدۃ بالعزل)فلوضاعت لاتسقط عنہ الزکاۃ ،ولومات کانت میراثا عنہ بخلاف مااذا ضاعت فی یدالساعی لان یدہ کیدالفقراء (ردالمحتار،جلد3،صفحہ225،مطبوعہ کوئٹہ)

البحر الرائق: (443/5):

" وبه يعلم حكم من يجمع للفقراء ، ومحله ما إذا لم يوكلوه فإن كان وكيلاً من جانب الفقراء أيضاً فلا ضمان عليه، فإذا ضمن في صورة الخلط لاتسقط الزكاة عن أربابها، فإذا أدى صار مؤدياً مال نفسه، كذا في التجنيس".

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

13/02/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب