| 84596 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسائل کے بارےمیں کہ
میرے والد مرحوم میری چھوٹی بہن کی شادی کے لیے مبلغ ایک لاکھ اٹھاسی ہزار روپے (188000)دے کر فوت ہوئے تھے، یہ بات میرے سوا کسی کو معلوم نہیں تھی، والد صاحب کے انتقال کے بعد میں نے یہ بات بہنوں اور بھائی کو بتادی، میری چھوٹی بہن کی شادی ابھی تک نہیں ہو ئی،جبکہ میری بڑی بہن اور چھوٹے بھائی انتقال کر چکے ہیں، اب ہم دو بہن بھائی حیات ہیں، اب میری چھوٹی بہن جس کی شادی کے لیے والدمرحوم نےپیسے رکھوائے تھے کہہ رہی ہیں کہ وہ رقم اس کو دے دی جائے،جبکہ والد صاحب مرحوم نے یہ رقم صرف چھوٹی بہن کی شادی کے لیے دی تھی، یہ نہیں کہا تھا کہ یہ رقم اس بہن کو دینی ہے،آپ سے التماس ہے کہ قرآن اور حدیث کی روشنی میں یہ بتائیے کہ اس رقم کی شرعی طور پر کیا حیثیت ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب یہ پیسہ والد نے ہبہ کرکےاپنی چھوٹی بیٹی کےقبضہ میں نہیں دیا اوربیٹے کے پاس رکھوایا تو بیٹاتو والد کا وکیل ہے، اس کے پاس رکھوانے سےبہن کاقبضہ نہیں ہوا، لہذاوالد کے فوت ہونے پر یہ رقم ترکہ میں شامل ہوکرسب ورثہ میں ان کے شرعی حصوں کے حساب سے تقسیم ہوگی جس میں اس بہن کو بھی اپنا شرعیحصہ ملے گا،لیکن پوری رقم اس کی نہیں ہے،البتہ بھائی یعنی آپ کا اخلاقی فریضہ بنتا ہےکہ اس بہن کی شادی میں اپنی جیب خاص سےرقم خرچ کرنے میں بھر پور حصہ لیں۔
حوالہ جات
شرح المجلۃ رستم اتحاد( ۱/۶۱۰، رقم المادۃ: ۱۰۹۲):
أن أعیان المتوفی المتروکۃ عنہ مشترکۃ بین الورثۃ علی حسب حصصہم.
فتاویٰ عالمگیریہ، کتاب الشرکۃ:
ولایجوز لأحدھما أن یتصرف فی نصیب الآخر إلا بأمرہ وکل واحد منہما کالأجنبی فی نصیب صاحبہ.
ردالمحتار:
”(ولایخرج عن العھدۃ بالعزل)فلوضاعت لاتسقط عنہ الزکاۃ ،ولومات کانت میراثا عنہ بخلاف مااذا ضاعت فی یدالساعی لان یدہ کیدالفقراء (ردالمحتار،جلد3،صفحہ225،مطبوعہ کوئٹہ)
البحر الرائق: (443/5):
" وبه يعلم حكم من يجمع للفقراء ، ومحله ما إذا لم يوكلوه فإن كان وكيلاً من جانب الفقراء أيضاً فلا ضمان عليه، فإذا ضمن في صورة الخلط لاتسقط الزكاة عن أربابها، فإذا أدى صار مؤدياً مال نفسه، كذا في التجنيس".
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
13/02/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


