03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹیوں کو مال سے محروم کرنے کا حکم
84641میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے دادا اپنی بیٹیوں کو حصہ نہیں دے رہے اور بیٹوں کو بھی منع کر رہے ہیں،تین بیٹے بہنوں کا حق دینے کے لیے تیارنہیں، البتہ دو بیٹےکہہ رہے ہیں کہ ہم اپنے حصے میں سے بہنوں کو ان کا حق دے دیں گے، تو ایسی صورت میں وہ دو بھائی اپنے حصے میں سے کیسے تقسیم کریں گے اور ان بہنوں کو کیسے حق دیں گے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرچہ شریعت نے انسان کو اختیار دیاہے کہ وہ زندگی میں اپنا مال کسی بھی جائز مصرف میں خرچ کر سکتا ہے، لیکن اگر آدمی زندگی میں اپنا مال اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو ا اولاد کو دی جانے والی جائیداد کا شرعی حکم ہبہ یعنی گفٹ کا ہے اور اولاد کو ہبہ کرنے کے بارے میں شریعت عدل وانصاف کا حکم دیتی ہے اور عدل کا تقاضا یہ ہے  کہ سب اولاد یعنی بیٹے اور بیٹیوں کو برابر حصہ دیا جائےیا کم از کم بیٹیوں کو بیٹوں کی بنسبت  آدھا حصہ دیا جائے، لیکن اگر کسی بیٹےیا بیٹی کی خدمت، دینداری یا مالی تنگی کے باعث اس کو کچھ حصہ زیادہ دےدیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے، بشرطیکہ دیگر ورثاء کو محروم کرنے کا ارادہ نہ ہو۔

لہذا آپ کے دادا کا بیٹیوں کو مال سے محروم کرنا  اور بیٹوں کو بھی اس سے منع کرنا شرعاً ہرگز جائز نہیں، بلکہ آپ کے دادا پر لازم ہے کہ وہ زندگی میں جائیداد دینے کی صورت میں مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق بیٹے اور بیٹیوں کو دونوں کو حصہ دے اور اگر وہ زندگی میں کسی کو نہیں دینا چاہتا تو اس کو شرعا یہ اختیار حاصل ہے، البتہ پھر وفات کے بعد یہ سب جائیدادیں اور بینک بیلنس وغیرہ مرحوم کی وراثت شمار ہو گی اور اس میں سب ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق شریک ہوں گے، لہذا تین بیٹوں کا یہ کہنا کہ ہم بیٹیوں کو حصہ نہیں دیں گے ہرگز جائز نہیں، بلکہ دادا کی وفات کے بعد ان سب بیٹوں  پر لازم ہو گا کہ بیٹیوں سمیت سب ورثاء کا  شرعی حصہ ان کے  سپرد کریں اور اگر بالفرض یہ تین بیٹے بیٹیوں کو حصہ دینے پر رضامند نہ ہوں تو بقیہ دو بیٹے اپنے حصے میں آنے والی میراث میں سے بیٹیوں کا حصہ ادا کر دیں تو یہ دو بیٹے برئ الذمہ ہو جائیں گے، باقی  اپنے پاس آنے والی میراث میں بیٹیوں کا حصہ معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہر بیٹی کو ہر بیٹے کی بنسبت آدھا حصہ دیا جائےگا، مثلا  اگر کل ترکہ سو(100) روپیہ ہو اور ورثاء میں چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہوں تو ہر بیٹے کو بیس(20) روپے اور ہربیٹی کے حصہ میں دس (10)روپے آئیں گے، اب اگر دو بھائی اپنی بہنوں کو حصہ دینے پر تیار نہ ہوں اور وہ کل ترکہ کو چار حصوں میں تقسیم کرکے آدھا حصہ یعنی پچاس روپے لے لیں اور بقیہ پچاس روپےبقیہ دو بھائیوں کو دے دیں تو یہ دونوں بھائی  دس روپے اپنی بہنوں کو ادا کریں گے، کیونکہ بہنوں کے کل حصہ میں سے ان دونوں کے پاس دس روپے آئے ہیں، لہذا یہ دس روپے ادا کر کے برئ الذمہ ہو جائیں گے اور بقیہ دس روپے بقیہ دونوں بھائیوں کی طرف چلے گئے ہیں جس کی ادائیگی ان پر لازم ہو گی۔

یاد رہے کہ کسی کے مال پر ناحق قبضہ کرنے پر قرآن وحدیث میں جگہ جگہ سخت وعیدیں آئی ہیں، نیز آخرت کے دردناک عذاب کے علاوہ حرام مال کی نحوست کا اثر دنیا میں بھی انسان کی زندگی اور اس کی اولاد وغیرہ پر پڑتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کبھی خطرناک حادثہ یا کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے، اس لیے  دادا اور تینوں بھائیوں پر لازم ہے کہ وہ بہنوں کو ان کا حق ادا کریں، ورنہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ بہت سخت ہے۔

حوالہ جات

القرآن الكريم [النساء: 29]:

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ }

موطأ مالك ت الأعظمي (4/ 1106) مؤسسة زايد بن سلطان، الإمارات:

 مالك عن ابن شهاب عن عامر بن سعد بن أبي وقاص، عن أبيه؛ أنه قال: جاءني رسول الله صلى الله عليه وسلم يعودني عام حجة الوداع. من وجع اشتد بي. فقلت: يا رسول الله قد بلغ بي من الوجع ما ترى. وأنا ذو مال. ولا يرثني إلا ابنة لي. أفأتصدق بثلثي مالي؟قال  رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا».فقلت: فالشطر؟

قال: «لا». ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الثلث. والثلث كثير. إنك أن تذر ورثتك أغنياء، خير من أن تذرهم عالة يتكففون الناس. وإنك لن تنفق نفقة تبتغي بها وجه الله، إلا أجرت. حتى ما تجعل في في امرأتك».

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 127) دار الكتب العلمية، بیروت:

(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل  بعضهم على بعض.وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي- عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة۔

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

14/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب