| 84640 | ہبہ اور صدقہ کے مسائل | ہبہ کےمتفرق مسائل |
سوال
اگر دادا اپنی زندگی میں بیٹیوں کو چھوڑ کرزمین محض بیٹوں کے نام کر دیں تو کیاباپ کے مرنے کے بعد بیٹوں کے نام کی گئی زمین میں بیٹیوں کا حصہ ہوگا ؟ مثلاً رہائش کے لیے پانچ پانچ مرلے سب بھائیوں کو دیے ہیں جو بھائیوں کے نام ہیں؟کیا وہ بھی دادا کی وراثت شمار ہو گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بغیر کسی شرعی عذر کے بیٹیوں کو چھوڑ صرف بیٹوں کو جائیداد کا مالک شرعا ناجائز اور گناہ ہے، لیکن اگر کسی نے زندگی میں اپنی جائیداد قانونی طور پر بیٹوں کے نام کروا کر اس کا مالکانہ قبضہ بھی دے دیا تو بیٹے اس جائیداد کے مالک بن جائیں گے اور ایسی صورت میں اگر دادا کا انتقال ہو جائے تو بیٹیاں اس جائیداد کا مطالبہ نہیں کر سکیں گی، کیونکہ بیٹوں کی ملکیت ہو جانے وکی وجہ سے شرعاً وہ جائیداد دادا کی وراثت شمار نہیں ہو گی، البتہ اگر سب بیٹے اپنی خوشی سے اپنی بہنوں کو وراثتی حصے کے مطابق ان کو حصہ دے دیں تو دادا کے ذمہ سے گناہ ساقط جائے گا۔
حوالہ جات
لسان الحكام (ص: 371) لابن الشِّحْنَةالثقفي الحلبي ، البابي الحلبي – القاهرة:
نوع الأفضل في هبة الابن والبنت التثليث كالميراث وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى التنصيف وهو المختار ولو وهب جميع ماله من ابنه جاز وهو آثم نص عليه محمد رحمه الله تعالى
الفتاوى الهندية (4/ 374) دار الفكر، بيروت:
أما تفسيرها شرعا فهي تمليك عين بلا عوض، كذا في الكنز. وأما ركنها فقول الواهب: وهبت؛ لأنه تمليك وإنما يتم بالمالك وحده، والقبول شرط ثبوت الملك للموهوب له۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وأما حكمها فثبوت الملك للموهوب له غير لازم حتى يصح الرجوع والفسخ وعدم صحة خيار الشرط فيها فلو وهبه على أن للموهوب له الخيار ثلاثة أيام صحت الهبة إن اختارها قبل أن يتفرقا.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
14/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


