| 84625 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
ایک بندہ نے چندغیرشادی شدہ لڑکوں سےزبردستی اس بات پرقسم لی کہ اگرآئندہ کے بعدہم کسی عورت کوغلط نظروں سے دیکھیں یاچھیڑیں یااشارہ کریں یاہروہ ذات جس سے زناہوسکتاہے اس کودیکھیں یاچھیڑیں یااشارہ کریں یابات کریں یاسوچیں توجس عورت سے ہمارانکاح ہواسی جگہ قبول کہنے کے فورابعد اس عورت کوتین طلاق ہوں۔اس صورت میں شرعی حکم کیاہے اوراس کاحل کیاہے؟
تنقیح:سائل سے معلوم ہواکہ ہم گاڑی میں پہاڑ پرسفرکررہے تھے،دونوں طرف کھائیاں تھیں،اچانک ڈرائیورنے گاڑی روک کرکہاکہ یہ قسم کھاؤ،ورنہ میں گاڑی دائیں بائیں گرادوں گااوراس پراصرارکرنے لگا،ہم نے ڈرکر یہ الفاظ زبانی طورپرکہدئیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مجبورشخص حالت جبرمیں تحریری طلاق دیدے تواس کاشرعی طورپرکوئی اعتبارنہیں،لیکن اگرزبانی طورپرطلاق دیدی توشرعاطلاق ہوجاتی ہے،صورت مسؤلہ میں زبانی طورپرطلاق کومعلق کیاگیاہے،اس لئےان شروط کے پائے جانے کی صورت میں نکاح کے فورابعدتین طلاقیں ہوجائیں گی،واضح رہے کہ پہلے نکاح اورطلاق کے بعدقسم ختم ہوجائے گی دوبارہ اسی عورت(شرعی حلالہ اورعدت گزرنے کے بعد) یاکسی اورعورت سے نکاح کرنے کی صورت میں طلاق واقع نہیں ہوگی۔
اس مسئلہ کاحل یہ ہے کہ کسی عورت سے خفیہ نکاح کرلے تاکہ یہ قسم پوری ہوجائے،پھرکہیں اورنکاح کرلے تواس طرح دوسری مرتبہ نکاح کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
وفی رد المحتار (ج 10 / ص 458):
”وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق ، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا
تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا ، كذا في الخانية “
وفی الفتاوى الهندية (ج 9 / ص 174):
ألفاظ الشرط إن وإذا وإذما وكل وكلما ومتى ومتى ما، ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط انحلت اليمين وانتهت ،لأنها تقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وانحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده إلا في كلما، لأنها توجب عموم الأفعال، فإذا كان الجزاء الطلاق والشرط بكلمة كلما يتكرر الطلاق بتكرار الحنث حتى يستوفي طلاق الملك الذي حلف عليه، فإن تزوجها بعد زوج آخر وتكرر الشرط لم يحنث عندنا كذا في الكافي .
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۱۵/صفر۱۴۴۶ ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


