| 84614 | علم کا بیان | تبلیغ کا بیان |
سوال
کیا بے عمل آدمی نیکی کی دعوت دے سکتا ہے؟امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرسکتا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کسی فساد یا فتنے کا خطرہ نہ ہو تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا ہر شخص کے لیے درست ہے،اگرچہ وہ خود اس پر عمل میں سست ہو۔خود عمل میں سستی کے باوجود دوسرے کو دعوت دینے سے عمل کی توفیق بھی ہوجاتی ہے۔حضرت تھانوی رحمہ اللہ نے فرفیق بھی ہوجاتی ہے۔ھوجاتی ہے۔ھمایا کہ مجھے جس عمل میں غفلت محسوس ہوتی ہے،میں اس کی زیادہ دعوت دیتا ہوں تو وہ غفلت دور ہوجاتی ہے۔
حوالہ جات
والصحيح: أن العالم يأمر بالمعروف وإن لم يفعله، وينهى عن المنكر وإن ارتكبه.
(تفسیر ابن کثیر:1/152)
قال العلماء:ولا یشترط فی الآمر والناھی أن یکون کامل الحال ممتثلا ما یأ مر بہ، مجتنبا ما ینھی عنہ ،بل علیہ الأمر وان کان مخلا بما یأمر بہ، والنھی وان کان ملتبسا بما ینھی عنہ.
(المنھاج شرح مسلم:2/23)
يجب الأمر بالمعروف لمن قدر عليه ولم يخف على نفسه منه ضررا ولو كان الآمر متلبسا بالمعصية، لأنه في الجملة يؤجر على الأمر بالمعروف ولا سيما إن كان مطاعا.) فتح الباري: 13/53)
محمد علی
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
15/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد علی ولد محمد عبداللہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


