03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خاندان کے دباؤپراور والدہ کو نقصان پہنچنے کے ڈر سےتحریری طلاق دینا
84662طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

میری شادی (مسمی محمد عمر فاروق) عرصہ ساڑھے تین سال قبل ہوئی ہے۔ میری اس بیوی سے ایک بچی بھی ہے۔ ابتدائےزمانے میں حالات بڑے سازگار اور پرامن تھے ،کچھ عرصہ گزرنے کے بعد میری اہلیہ اور میری بہن کے درمیان چھوٹی چھوٹی باتوں پر حالات کشیدہ ہونے لگے ۔ میرے والدین بھی حیات ہیں۔ میری والدہ میری بہن کو کافی سمجھاتی رہیں ،تاکہ صلح صفائی ہو جائے ،پھر اس کی شادی ہو گئی ،لیکن حالات بننے کے بجائے بگڑتے رہے جس سے میرے سسرال اور میرے خاندان والوں کے درمیان بھی فاصلے بڑھنے لگے ۔ میری بہن اور میری والدہ کا مسلسل یہ مطالبہ تھا کہ میں یعنی محمد عمر فاروق اپنی بیوی کو طلاق دے دوں، تب ہم اس سے بات کریں گے ۔ اور ہمشیرہ بھی یہی کہنے لگی کہ طلاق دو گے تو میں اپنے والدین کے گھر آؤں گی، ورنہ تاحیات اس گھر میں واپس نہیں آؤں گی ۔ میرے ابو اور امی پہلے کافی معاملہ سلجھاتے رہے ،آخرکار والدین نے بھی میری ہمشیرہ کی جانبداری اور طرفداری شروع کر دی انہوں نے بھی مجھ سے طلاق کا مطالبہ شروع کر دیا، جس سے میری اہلیہ بھی بہت پریشان ہونے لگی ۔ میرے والدین نے مجھے طلاق دینے کے لیے ڈرانا اور دھمکانا شروع کر دیا، اس وجہ سے میں ہر وقت پریشان اور غمگیں رہنے لگا ۔ میری ہمشیرہ سے جب بھی اہلیہ کے متعلق بات ہوتی تو وہ بےہوش ہو جاتی ۔ میرے والد صاحب نے کئی بار مجھے فون پر دھمکی دی کہ اگر تو نے بیوی کو طلاق نہ دی تو ہمارا تعلق آپ سے ختم ہو جائے گا ،میں ایبٹ آباد والا مکان بیچ کر آبائی گاؤں چلا جاؤں گا اور آپ کے ساتھ تاحیات بول چال بند کر دوں گا ۔ یاد رہے کہ میں سعودی عرب میں کام کرتا ہوں اور ان سب لوگوں کو اپنے پاس بلا کر عمرہ بھی کروایا ۔ اپنی والدہ کو حرم شریف لے جا کر وہاں حرم پاک میں بھی بہت سمجھایا ،لیکن میری والدہ بجائے بات سمجھنے اور قبول کرنے کے مجھ پر دباؤ ڈالتی تھیں۔ میری والدہ نے مجھے دماغی طور پر بہت مجبور کیا وہ اس طرح کہ جب بھی مجھے دباؤ کے باوجود طلاق پر آمادہ نہ پاتیں تو وہ بےہوش ہو جاتیں اور ان کے ناک سے خون جاری ہو جاتا تھا مجھے ڈر لگتا کہ اس طرح فوت نہ ہو جائیں ۔ اسی طرح میرا بھائی، والدین اور پورا خاندان بھی مجھے الزام دیتا کہ تمہاری وجہ سے والدہ کا نقصان ہو گا یا خدا نخواستہ فوت ہو جائیں گے تو آپ ذمہ دار ہوں گے۔ ان پیچیدہ حالات کے پیش نظر ایک دن میں گھر آیا تو میرے بھائی نے ایک عام چھوٹے سے ورق پر تین طلاقیں لکھ کر مجھے دستخط کے لیے کہا ۔ والدہ بھی وہاں موجود تھیں ،مجھے یہ علم تھا کہ یہ تحریر طلاق ہی کے متعلق ہو گی ۔میں نے نہ چاہتے ہوئے اس پر دستخط کر دیے اس ڈر اور خوف سے کہ میرے والدین کو کچھ ہو نہ جائے اور میرے لیے ہمیشہ طعنہ رہے گا ۔ اس تحریر کو میں نے غور اور دھیان سے نہیں پڑھا ،بلکہ سرسری پڑھنے کے بعد دستخط کر دیے اس کے بعد اس تحریر کو اپنے ملک پاکستان بھیج دیا گیا ۔ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ اس میں تین طلاقوں کا ذکر تھا ۔ میں نے اپنی زباں سے کسی کے سامنے کبھی بھی طلاق کے الفاظ ادا نہیں کیے ۔ میری اہلیہ پہلے ہی سے والدین کے گھر تھیں ۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں ؟ کیا یہ جبر و اکراہ معتبر ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ زبردستی میں اگرطلاق نامے پرکوئی دستخط کردے اورزبان سے کچھ نہ کہے تووہ تحریری طلاق واقع نہیں ہوتی مگرزبردستی سے مراد یہاں پر شرعی اکراہ ہےجس کی دو قسمیں ہیں :

ایک اکراہ ملجئی جس میں جان سے مارنے یا کسی عضو کے توڑنےیاتلف کرنے کی دھمکی دے کر طلاق دینے پر مجبور کیاجائےاوردوسری اکراہ غیرملجئی ہے،جس میں مارپیٹ ، قید میں رکھنے  یا ترک تعلق وغیرہ کی دھمکی دیکرطلاق پر مجبورکیاجائے،دونوں قسموں میں  جس کو دھمکی دی جارہی ہےاس کو یہ یقین ہونا ضروری ہے کہ اگرمتعلقہ کام نہیں کیاتو دھمکی دینے والااپنی دھمکی (جس  کے کرنے پروہ قادر بھی ہے) نافذ کردے گا۔

تاہم مسئولہ صورت میں قطع تعلقی کےباوجود اگرآپ اپنے سہارےزندگی گزارنے کے قابل تھے(جیسا کہ صورت مسؤولہ سے واضح ہے)توپھرقطع تعلق کی دھمکی کوئی شرعی اکراہ نہیں ہے، اسی طرح والدہ کو نقصان پہنچنے یا فوت ہوجانے کا ڈر اور اس پر خاندان والوں کا آپ کو مورد الزام ٹھہرانے سے اگریہ مراد ہو کہ  آپ گناہ گار یا ملامت زدہ ہونگے(  جیسا کہ مذکورہ صورت سے ظاہر ہوتا ہے) تو یہ حالت بھی شرعی اکراہ میں داخل نہیں ،لہذا مذکورہ صورت  میں سائل کو دستخط کرتے وقت چونکہ تعداد طلاق کا علم نہیں تھا اس لیے ایک طلاق رجعی واقع گئی ہے ۔

جس  کے بعد عدت یعنی مکمل تین ماہواریاں( اگر حمل نہ ہو اگر حمل ہو تو بچے کی پیدائش تک) گزرنے سے پہلے تک سائل کو  رجوع کرنے کا اختیار  ہے، اگر سائل نےعدت گزرنے سے پہلے رجوع کرلیا تو نکاح  برقرار رہے گا، لیکن اگرسائل نے عدت گزرنے سے پہلے رجوع نہیں کیا تو عدت کی مدت پوری ہوتے ہی نکاح ختم ہو جائے گا پھر رجوع کرنا جائز نہیں ہوگا،تاہم عدت گزرنے کے بعد  اگر دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو دوبارہ نئے سرے سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب وقبول کے ساتھ نکاح کرنا ہو گا، اور دونوں صورتوں میں آئندہ کے لیے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔

حوالہ جات

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع "(7/ 175):

"وأما بيان أنواع الإكراه فنقول: إنه نوعان: نوع يوجب الإلجاء والاضطرار طبعا كالقتل والقطع والضرب الذي يخاف فيه تلف النفس أو العضو قل الضرب أو كثر، ومنهم من قدره بعدد ضربات الحد، وأنه غير سديد؛ لأن المعول عليه تحقق الضرورة فإذا تحققت فلا معنى لصورة العدد، وهذا النوع يسمى إكراها تاما، ونوع لا يوجب الإلجاء والاضطرار وهو الحبس والقيد والضرب الذي لا يخاف منه التلف، وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا".

وفی الھندیة: الإكراه بالحبس والتقييد" .(35/5):

"( وأما ) ( أنواعه ) فالإكراه في أصله على نوعين إما إن كان ملجئا أو غير ملجئ فالإكراه الملجئ هو الإكراه بوعيد تلف النفس أو بوعيد تلف عضو من الأعضاء والإكراه الذي هو غير ملجئ هو

البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 16 / ص 253):

والاكراه بحبس الوالدين والاولاد لا يعد إكراها لانه ليس بإكراه ولا يعدم الرضا بخلاف حبس نفسه.

رد المحتار: (باب الرجعة، 576/2، ط):

"والرجعی لا یزیل الملك الا بعد مضی العدۃ".

رد المحتار: (باب الرجعة، مطلب فی العقد علی المبانة، 409/3، ط):

"وینکح مبانته بما دون الثلاث في العدۃ وبعدہا بالإجماع ومنع غیرہ فیها لاشتباہ النسب".

  عبدالرحمٰن جریر

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

15/صفر المظفر/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالرحمن جریر بن محمد شفیق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب