03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کا حکم
84659نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

اگر کسی لڑکی نے شادی سے پہلے بھاگ کر کسی لڑکے سے پسند کی شادی کی ہو (کورٹ میرج) جس میں اس لڑکے کے دو دوست گواہ کے طور پر بھی موجود ہوں اور لڑکی کی طرف سے کوئی گواہ موجود نہ ہو تو کیا نکاح ہو جائے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر لڑکی عاقلہ بالغہ ہواور اپنا نکاح ایسی جگہ کرلے جو اس کاکفؤ (ہم پلہ )ہو ،نیز مہر مثل  یا اس سے  زیادہ مہر مقررکیا گیاہو تو اس صورت میں نکاح کی دیگر شرائط کی موجودگی میں لڑکی کا کیا ہوا  نکاح درست ہے،اوراگر وہ اپنا نکاح غیر کفؤ میں کرلے (یعنی لڑکا حسب ونسب ، مال ، دینداری اور پیشہ میں لڑکی سے کم درجہ کا ہو) تو اس صورت میں مفتی بہ روایت  کے مطابق لڑکی کا کیا ہوا نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوتا ۔

حوالہ جات

وفی مسند أحمد (5/ 353):

عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الأيم أولى بنفسها من وليها، والبكر تستأمر في نفسها، وصمتها إقرارها»

وفی سنن الترمذي (2/ 390):

 عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أعلنوا هذا النكاح، واجعلوه في المساجد، واضربوا عليه بالدفوف.

هذا حديث غريب حسن في هذا الباب، وعيسى بن ميمون الأنصاري يضعف في الحديث، وعيسى بن ميمون الذي يروي، عن ابن أبي نجيح التفسير هو ثقة.

وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 55):

(فنفذ نكاح حرة مكلفةبلا) رضا (ولي) والأصل أن كل من تصرف في ماله تصرف في نفسه وما لا فلا۔(وله) أي للولي (إذا كان عصبة) ولو غير محرم كابن عم في الأصح خانية، وخرج ذوو الأرحام والأم والقاضي (الاعتراض في غير الكفء) فيفسخه القاضي ويتجدد بتجدد النكاح (ما لم) يسكت حتى (تلد منه) لئلا يضيع الولد وينبغي إلحاق الحبل الظاهر به (ويفتى) في غير الكفء۔ (بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان) فلا تحل مطلقة ثلاثا نكحت غير كفء بلا رضا ولي بعد معرفته إياه فليحفظ

 (قولہ ولایۃ ندب) أی یستحب للمرأۃ تفویض أمرھا إلی ولیھا کی لا تنسب إلی الوقاحۃ۔۔۔

(قولہ فی غیر الکفء) أی فی تزویجھا نفسھا من غیر کفء، وکذا لہ الاعتراض فی تزویجھا نفسھا باقل من مھر مثلھا حتی یتم مھر المثل او یفرق القاضی ۔۔۔ (وقولہ بعدم جوازہ أصلاً) ھذہ روایۃ الحسن عن ابی حنیفۃ، وھذا اذا کان لھا ولیّ لم یرض بہ قبل العقد فلا یفید الرضا بعدہ ۔۔۔ (قولہ وھو المختار للفتویٰ) وقال شمس الائمۃ وھذا اقرب الی الاحتیاط کذا فی تصحیح العلامۃ قاسم لانہ لیس کل ولیّ یحسن المرافعۃ والخصومۃ ولاکل قاض یعدل۔ ولو أحسن الولي وعدل القاضي فقد يترك أنفة للتردد على أبواب الحكام، واستثقالا لنفس الخصومات فيتقرر الضرر فكان منعه دفعا له فتح۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

15/ صفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب