03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چھ بیٹے اور تین بیٹیوں میں وراثت کا حکم
84621میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

حسین ولی کے انتقال کے وقت ان کے ورثاء میں پہلی بیوی سے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں اور وہ سب زندہ ہیں،تیسری بیوی سے چار بیٹے اور ایک  بیٹی تھیں اور وہ سب بھی زندہ ہیں،حسین ولی کی وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ وضاحت کے مطابق مرحوم حسین ولی کی میراث تقسیم کرنےکاشرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہوتواسےادا کرنےکےبعد،یامرحومہ نےکوئی جائزوصیت کی ہو تواسےایک تہائی ترکہ میں نافذکرنےکےبعد،باقی میراث کل پندرہ حصوں میں تقسیم کرکے،چھ بیٹوں میں سےہر ایک بیٹے کو دو دو حصے اور تین بیٹیوں میں سےہر ایک بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا جائے۔فیصد کے اعتبار سےمرحوم حسین ولی کی میراث میں سے ان کے ہر ایک بیٹے کو 13.33 فیصد اور ہر ایک بیٹی کو6.67 فیصد حصہ ملے گا۔

مرحوم سے رشتہ

عددی حصہ

فیصدی حصہ

(۱)بیٹا

2/15

13.33فیصد

(۲)بیٹا

2/15

13.33فیصد

(۳)بیٹا

2/15

13.33فیصد

(۴)بیٹا

2/15

13.33فیصد

۵)بیٹا

2/15

13.33فیصد

(۶)بیٹا

2/15

13.33فیصد

(۱)بیٹی

1/15

6.67فیصد

(۲) بیٹی

1/15

6.67فیصد

(۳)بیٹی

1/15

6.67فیصد

مجموعہ

15

99.99فیصد

حوالہ جات

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 238)

(والأحق الابن ثم ابنه، وإن سفل) أي أولاهم بالعصوبة جزء الميت، وإن سفل وغيرهم محجوبون بهم لقوله تعالى {يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 11]

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (6/ 234)

)وعصبها الابن، وله مثلا حظها) معناه إذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين لقوله تعالى {يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين} [النساء: 11] فصار للبنات ثلاثة أحوال النصف للواحدة والثلثان للاثنتين فصاعدا، والتعصيب عند الاختلاط بالذكور.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

         ۱۵.صفر/۱۴۴۶ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب