| 84624 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
شادی کے تقریباً پانچ سال بعد لڑکی اور لڑکے کے گھر والوں کے درمیان جھگڑے شروع ہوگئے،ان جھگڑوں کی وجہ سے گھر والوں سے دور کہی کرائے کے مکان میں میاں بیوی رہنے لگے تھے،کچھ مہینوں بعد لڑکی کے گھر والوں نے دھمکیاں دینا شروع کر دی اور ہر بات پر کہتے تھے کہ لڑکی کو طلاق دیدو، لڑکے نے غصے میں آکر کہا کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" اور ایسا اس نے لڑکی کو دو بار کہا،تیسری مرتبہ لڑکی کی والدہ کو پیغام بھیجاکہ میں نے ان کی بیٹی کو طلاق دی ہے اب لے جاؤ یہاں سے اس کو، آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ
١۔ یہ طلاقیں تین ہیں یا دو ؟ جبکہ عورت حاملہ تھی۔
۲۔ غصے میں آکر جو طلاق دی ہے کیا وہ واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت میں شوہر کے جملے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کے دوبارکہنے سے دو رجعی طلاق ہوگئی ہیں،اورتیسرے جملے "میں نے ان کی بیٹی کو طلاق دی ہے،اب لے جاؤاس کو"سے اگرواقعةًشوہرکی مراد لڑکی کی والدہ کو سابقہ طلاق کی خبردیناتھا،کوئی نئی طلاق دینا مقصد نہ تھا تو اس سے تیسری طلاق نہیں ہوئی ۔
اگرابھی عدت باقی ہویعنی وضع حمل نہ ہوا ہوتو میاں بیوی میں مسئولہ صورت میں رجوع ہوسکتاہے اوراگرعدت گزرچکی ہویعنی بچہ پیدا ہوچکاہو تو پھر باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں نیانکاح ہوسکتاہے اورہردوصورتوں میں آئندہ شوہر کوصرف ایک طلاق کا اختیارباقی رہے گا۔
واضح رہے کہ اگر طلاق کے وقت عورت حاملہ ہو تو بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ،البتہ حمل کی صورت میں عدت اس وقت ختم ہوگی جب بچے کی پیدائش ہوجائے گی۔
۲۔غصہ میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،بلکہ عام طورپرطلاق غصے میں ہی دی جاتی ہے، خوشی میں طلاق دینے کا واقعہ
کوئی شاذو نادر ہی پیش آتا ہے،جو حالات غصہ کے شوہرکے متعلق لکھے ہیں وہ غصہ کی حالت میں طلاق کے واقع ہونے میں
مانع نہیں ہے،لہذاایسی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالیٰ: {الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان} [البقرة: 229]
فی الھدایة:
واذا طلق الرجل امراتہ تطلیقة رجعیة او تطلیقتین فلہ ان یراجعھا فی عدتھا.(ج:2، ص:394، کتاب الطلاق)
فی البدائع الصنائع:
فان طلقھا ولم یراجعھا بل ترکھا حتی انقضت عدتھا بانت وھذا عندنا.
فی بدائع الصنائع:
فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد".(كتاب الطلاق، فصل:وأما حكم الطلاق البائن3/ 187، ط:سعید)
قال اللّٰه سبحانه وتعالیٰ : ﴿ وَاُولاَتُ الْاَحْمَالِ اَجَلَهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ﴾ [ الطلاق ، جزء آیت :۴ ]
" عن الحسن ومحمد قالا : إذا کانت حاملاً طلّقها متی شاء "۔ ( المصنف لابن أبي شیبة / ما قالوا في الحامل کیف تطلق،۹؍۵۱۳رقم :۱۸۰۴۵المجلس العلمي )
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 232)
(وحل طلاقهن) أي الآيسة والصغيرة والحامل).
حاشية رد المحتار على الدر المختار - (3 / 295(:
")قوله: فهو إقرار منه بحرمتها) عبارة البزازية: قال في المحيط: فهذا إقرار منه بحرمتها عليه في الحكم اهـ وأفاد قوله: "في الحكم" أي في القضاء أنها لاتحرم ديانةً إذا لم يكن حرمها من قبل كما لو أخبر بطلاقها كاذبًا".
وفی الشامیة:
" قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان، قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادي الغضب بحيث لايتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه، الثاني أن يبلغ النهاية فلايعلم ما يقول ولايريده، فهذا لا ريب أنه لاينفذ شيء من أقواله، الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون، فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله اهـ ملخصاً من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع طلاق من غضب خلافاً لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش". (3/244)
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
14/صفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


