| 84672 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
میں ایک لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں، لیکن میرے گھر والے اس پر راضی نہیں ہیں، لہذا ہم لڑکی کے گھر والوں کی موجودگی میں صحیح طریقے سے شادی کرنے کا فیصلہ کر رہے ہیں، میری عمر بتیس سال ہےاور وہ تیس سال کی ہے۔ اگر مستقبل میں میرے خاندان والوں نے میری مخالفت چھوڑ دی تو کیا ہم ان کے لیے چند ماہ بعد دوبارہ یہ نکاح کر سکتے ہیں؟ اگر دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں تو حق مہر کیا ہوگا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
لیکن اگرلڑکی کے سرپرستوں کی مرضی سے نکاح کر لیا تویہ صحیح ہوگا،بعد میں تجدید ضروری نہیں،تاہم اپنے خاندان کو اطمینان دلانے کے لیے دوبارہ بھی نکاح کریں،اور اس میں بیوی کے اتفاق سےمحض زبانی جمع خرچ کے طور پر مہر ذکر کریں تو اس میں حرج نہیں، اور اس طریقے کے مطابق دوبارہ نکاح کرنے میں مفتی ٰ بہ قول کے مطابق مہر بھی لازم نہ ہوگا ،البتہ یہ بات واضح رہے کہ والدین کے حقوق کے پیشِ نظر اولادپر والدین کی مرضی اور خواہش کی رعایت رکھنا ضروری ہے،اگرچہ والدین کوبھی یہ حق نہیں کہ وہ اولاد کے پسندیدہ رشتہ کے دیندار اور شریف خاندان سے ہونے کی صورت میں، بغیر کسی معقول وجہ کے زبردستی ان کا نکاح کسی دوسری جگہ کروائیں جہاں وہ راضی نہ ہو، یہ شریعت اور مصلحت دونوں کے خلاف ہے، لہٰذاایسی صورت میں انہیں اس طرف متوجہ کرکے ان کی خوشی اور رضا مندی حاصل کرنے کی کوشش کریں، اور شروع سے ہی نکاح کا درست فیصلہ کریں۔
حوالہ جات
النساء،الآیۃ: 3:
فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً .
التفسير المظهري (5/ 431):
وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا. (الآیۃ:23) او الأف معناه القلة... فيحرم بذلك سائر انواع الإيذاء بدلالة النص بالطريق الاولى... وعن عبد الله بن عمرو رضى الله عنهما عن النبي ﷺ قال رضاء الله فى رضاء الوالد وسخط الله فى سخط الوالد.]رواه الترمذي والحاكم وصححه[
سنن الترمذي ت بشار (2/ 378):
عن علي بن أبي طالب، أن رسول الله ﷺ قال له: يا علي، ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا أتت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفئا.هذا حديث غريب، وما أرى إسناده بمتصل.]والحديث معناه صحيح وإن كان ضعيف السند.( أرشيف ملتقى أهل الحديث ،المكتبة الشاملة الحديثة نقلا عن جامع الاصول، عبد القادر الأرناؤوط: 2/ 234 -3299)[
فتح القدير للكمال ابن الهمام (3/ 291-293):
(قوله:الكفاءة في النكاح معتبرة) قالوا: معناه معتبرة في اللزوم على الأولياء... روى الترمذي من حديث أبي هريرة رضي الله عنه ، عنه ﷺ أنه قال :إذا خطب إليكم من ترضون دينه وخلقه فزوجوه، إلا تفعلوه تكن فتنة في الأرض وفساد كبير. ولولا أن شرط المشروع القطعي لا يثبت بظني لقلنا باشتراط الكفاءة للصحة.ثم هذا الوجوب يتعلق بالأولياء حقا لها وبها حقا لهم على ما تبين مما ذكرناه، لكن إنما تتحقق المعصية في حقهم إذا كانت صغيرة؛ لأنها إذا كانت كبيرة لا ينفذ عليها تزويجهم إلا برضاها: فهي تاركة لحقها، كما إذا رضي الولي بترك حقه حيث ينفذ.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (3/ 137):
وهو حق الولي لا حقها... ودلت المسألة على أن المرأة إذا زوجت نفسها من رجل ولم تشترط الكفاءة ولم تعلم أنه كفء أم لا ثم علمت أنه غير كفء لا خيار لها، وكذلك الأولياء لو زوجوها برضاها ولم يعلموا بعدم الكفاءة ثم علموا لاخيار لهم، وهذه مسألة عجيبة، أما إذا شرطوا فأخبرهم بالكفاءة فزوجوها على ذلك ثم ظهر أنه غير كفء كان لهم الخيار.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 113، 112):
تزوجها في السر بألف ثم في العلانية بألفين ظاهر المنصوص في الأصل أنه يلزم الألفان ويكون زيادة في المهر.... ثم ذكر أن قاضي خان أفتى بأنه لا يجب بالعقد الثاني شيء ما لم يقصد به الزيادة في المهر، ثم وفق بينه وبين إطلاق الجمهور اللزوم بحمل كلامه على أنه لا يلزم عند الله تعالى في نفس الأمر إلا بقصد الزيادة وإن لزم في حكم الحاكم لأنه يؤاخذه بظاهر لفظه إلا أن يشهد على الهزل...[تنبيه] في القنية: جدد للحلال نكاحا بمهر يلزم إن جدده لأجل الزيادة لا احتياطا اهـ .
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
19/صفر/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


