03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میٹھا ہونے کی بنیاد پر خریدا گیا پھل واپس کرنے کا حکم
84719خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

جب میں بازار فروٹ خریدنے کے لیے جاتا ہوں تو فروٹ بیچنے والا قسم کھا کر کہتا ہے کہ فروٹ میٹھا ہے، جب میں گھر لے جاتا ہوں تو وہ میٹھا نہیں ہوتا، جب میں واپس کرنے کے لیے لاتا ہوں تو پھر وہ کہتا ہے کہ میں اس کے اندر تو نہیں بیٹھا تھا، میں کہتا ہوں آپ نے کہا تھا کہ اگر میٹھا نہ ہوا تو واپس کردینا تو وہ انکار کرتا ہے۔ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ سوال کے جواب سے پہلے بطورِ تمہید دو باتیں ذکر کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے:

  1. جھوٹی قسم اٹھانا یا ایسی بات پر قسم اٹھانا جو معلوم نہ ہو، جائز نہیں، خصوصا اپنی چیز بیچنے کے لیے۔ ایک حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بندوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے ہم کلام نہیں ہوں گے، نہ ان کی طرف دیکھیں گے، نہ ہی انہیں پاک کریں گے، ایک ان میں سے وہ شخص ہے جو اپنے سودے کو بیچنے اور اس کی مارکیٹنگ کے لیے جھوٹی قسمیں اٹھاتا ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے تاجروں کی جماعت! خرید و فروخت کے ان معاملات میں فضول باتیں اور جھوٹی قسمیں (یا قسمیں بہ کثرت)آجاتی ہیں، اس لیے ان کے ساتھ (کفارہ کے طور پر) صدقہ ملایا کرو، یعنی صدقہ دیا کرو۔ لہٰذا پھل یا کوئی بھی چیز بیچنے والے کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنا پھل اور سامان بیچنے کے لیے گاہک کے سامنے بلا وجہ قسمیں اٹھائے، اس سے بچنا لازم ہے۔   
  2. کسی چیز کو کسی صفت کی بنیاد پر خریدنا اور وہ صفت نہ ہونے کی صورت میں واپس کرنے کے اختیار کو فقہی اصطلاح میں خیار الوصف یا خیار الخلف کہا جاتا ہے۔ خیار الوصف ثابت ہونے کی ایک شرط یہ ہے کہ وہ صفت خرید و فروخت کے وقت یقینی طور پر معلوم ہوسکتی ہو، اگر کوئی صفت ایسی نہ، بلکہ خریداری کے وقت اس کا ہونا، نہ ہونا واضح نہ ہو، بلکہ اس میں غرر ہو تو اس صفت کی شرط لگا کر خریداری کرنا جائز نہیں، اس سے بیع فاسد ہوتی ہے،  جس سے بچنا لازم اور ضروری ہے۔  

صورتِ مسئولہ میں مٹھاس پھل کی ایسی صفت ہے جس میں غرر ہے، کیونکہ پھل میٹھا ہوگا یا نہیں؟ یہ بات خریداری کے وقت یقینی طور پر معلوم نہیں ہوسکتی؛ اس لیے اس شرط پر پھل خریدنا کہ اگر میٹھا نہ ہوا تو واپس کروں گا، جائز نہیں، فاسد ہے، اور بیعِ فاسد (ناجائز ہونے کی وجہ سے) ختم کرنا فریقین پر لازم ہوتا ہے۔ لہٰذا آپ آئندہ مذکورہ شرط پر پھل نہ خریدیں، بلکہ خریداری کے وقت تسلی کر کے پھل لیا کریں ، جس کی ایک صورت یہ ہے کہ خریداری سے پہلے بائع کی اجازت سے اس کو چکھ لیا کریں، چکھنے کے بعد اگر پسند آئے تو لے لیا کریں، ورنہ چھوڑ دیا کریں۔  واضح رہے کہ اگر فروخت کنندہ پھل میٹھا ہونے کا ذکر بطورِ شرط نہ کرے، بلکہ ویسے کہے کہ یہ پھل میٹھا ہے اور پھر خریدار پھل لے لے تو اس سے بیع فاسد نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (1/ 102):

عن أبي ذر عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا ينظر إليهم ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم، قال: فقرأها رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث مرار، قال أبو

ذر: خابوا وخسروا، من هم يا رسول الله ؟ قال: المسبل، والمنان، والمنفق سلعته بالحلف الكاذب.

سنن أبي داود (5/ 215):

عن قيس بن أبي غرزة، قال: كنا في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم نسمى السماسرة، فمر بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمانا باسم هو أحسن منه، فقال: "يا معشر التجار، إن البيع يحضره اللغو والحلف، فشوبوه بالصدقة" .

السنن الكبرى للبيهقي (5/ 265):

عن قيس بن أبى غرزة قال : كنا فى عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم نشترى فى الأسواق ونسمى أنفسنا السماسرة، فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمانا باسم هو أحسن منه فقال :« يا معشر التجار إن هذا البيع يحضره الكذب واللغو فشوبوه بالصدقة ».

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (9/ 281):

" إن البيع يحضره اللغو" أي غالبا، وهو من الكلام مالا يعتد به، وقيل: هو الذي يورد لا عن روية وفكر، فيجري مجرى اللغو، وهو صوت العصافير، ذكره الطيبي، والظاهر أن المراد منه ما لا يعنيه وما لا طائل تحته وما لا ينفعه في دينه ودنياه……….. "والحلف" أي إكثاره أو الكاذب منه، "فشوبوه" بضم أوله أي اخلطوا ما ذكر من اللغو والحلف بالصدقة، فإنها تطفىء غضب الرب، وإن الحسنات يذهبن السيئات، كذا قيل.

الفتاوى الهندية (3/ 137):

لو اشترى بطيخة على أنها حلوة أو زيتا أو سمسما على أن فيه كذا منا من الدهن، أو أرزا خاما على أنه يخرج الأرز الأبيض من المائة كذا منا، أو شاة أو ثورا حيا على أن فيه كذا منا من اللحم فسد البيع في الكل؛ لتعذر معرفته قبل العمل، كذا في القنية. ولو باع شاة على أنها تحلب كذا كذا فالبيع فاسد باتفاق الروايات، وكذلك لو اشتراها على أنها تضع بعد شهر فالعقد فاسد، كذا في الذخيرة.

البحر الرائق (6/ 94):

ومن الشروط المفسدة ما في القنية: اشترى بطيخة على أنها حلوة أو شاة على أنها تحلب كذا أو زيتونا أو سمسما على أن فيه كذا منا أو شاة أو ثورا على أن فيه كذا منا من اللحم فسد البيع في الكل؛ لتعذر معرفته قبل العمل وعجز البائع عن الوفاء به، اه.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (1/ 162-160):

( المادة 213 ) : بيع المجهول فاسد فلو قال البائع للمشتري : بعتك جميع الأشياء التي  هي ملكي وقال المشتري اشتريها وهو لا يعرف تلك الأشياء فالبيع فاسد . هذا فيما يحتاج للتسليم والتسلم كبيع شاة غير معينة من قطيع غنم ( الهندية ) ( انظر المادة 200 )؛  لأن جهالة المبيع مؤدية إلى النزاع، والجهالة في المبيع إذا أدت إلى النزاع فهي مفسدة للبيع؛ لأن المقصود من البيع والشراء أن يملك المشتري المبيع والبائع الثمن بلا منازع ولا مزاحم وإذا كان المبيع مجهولا فالبائع يسلم نوعا منه إلى المشتري والمشتري يطالب البائع بأن يسلمه نوعا آخر فيقع النزاع بينهما وعلى ذلك لا يتم العقد بينهما…………. إذا بيع البطيخ على أن يكون حلوا، والسمسم أو الزيتون على أن يكون حاويا لمقدار معين من الزيت، وبيدر الأرز على أن يكون فيه كذا قنطارا من الأرز، وقطيع الغنم أو البقر أو غيرهما ما يباع للذبح على أن يخرج منه كذا رطلا من اللحم، أو البقرة على أن يحلب منها مقدار معين من اللبن فالبيع فاسد؛ لتعذر معرفة المقدار قبل العمل ( الهندية ) .

فقه البیوع (2/877-875):

خیار فوات الوصف: ویقال لهذا الخیار "خیار الخلف" أیضًا. ومعناه أنه إن کان المشتري اشترط في المبیع وصفًا، فوجده فائتًا ذلك الوصف، فإن له الخیار، إن شاء أمضی البیع وإن شاء فسخه…… ذکر الفقهاء لثبوت هذا الخیار شروطًا آتیةً:… ……. 3- أن لایکون في الوصف المشروط غرر، ومثلوه بشراء شاة علی أنها تدر قدرا معینا من اللبن کل یوم، فیه غرر؛ لأنه لایعرف بیقین کم ستدرّ فی المستقبل. أما إذا شرط أنها شاة حلوب، جاز شرط هذا الوصف؛ لأن کونها حلوبًا یمکن التأکد منه. وکذلك لو اشتری بطیخا أو فاکهة أخری علی أن تکون حلوة، فإن فیه غررا. ولکن یجوز أن یشترط کونها من منطقة معینة، مثل أن یکون رمان الطائف، کما یجوز أن یرضی البائع بأنه یذیق المشتري منه، فإن وجده مناسبًا له اشتراه، وهذا لیس خیار الخلف، بل هو شراء بعد التجربة.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       19/صفر المظفر/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب