03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جنرل پراویڈنٹ فنڈ  کا حکم
84681سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

جنرل پراویڈنٹ فنڈ  کا حکم

 ایک ملازم کسی ادارے میں کام کرتا ہے، اور  اس کی تنخواہ میں سے  جی پی فنڈ کی کٹوتی ہوتی ہے ،جو آخر میں انٹرسٹ کے ساتھ ملتی ہے۔ اور وہ اس انٹرسٹ کوختم بھی نہیں کروا سکتا، تو کیا وہ سود کے زمرے میں آتی ہے ؟اور اس کو لینا جائز ہے؟ نیز اگر اس جی پی فنڈ سے انٹرسٹ ختم کروا سکتا ہے، اور زیادہ پیسے کے لالچ میں وہ انٹرسٹ ختم نہیں کرواتا، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سرکاری و نجی اداروں کی طرف سے ملازمین کے لیے پراویڈنٹ فنڈ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے ، جس میں ملازمین کی تنخواہ سےرقم کاٹ کر سال کے بعد یا ملازمت ختم ہونے کے بعد اضافی رقم دیناسود نہیں ،بلکہ  یہ بھی ملازمین کی تنخواہ  کا حصہ ہے،لہذااس کا لینا اور استعمال میں لانا جائز ہے۔

البتہ اپنے اختیار سے اگر رقم کٹوائی جائے تو اس پر جو اضافی رقم ادارےکی طرف سے دی جاتی ہے،اگرچہ یہ بھی سود نہیں، تاہم  اس کو ختم کرنا یا لے کر صدقہ کرنا بہتر ہے ۔ختم کروانا اس لیے بہتر ہےکہ چونکہ ادارہ نے ملازم کی رضامندی سے اس کی رقم  سے کٹوتی کی ہے،اور اس پر اس کو اضافہ دے رہا ہےاس لیے  سود کے ساتھ ظاہری  مشابہت پائی جارہی ہے، البتہ لے کر استعمال کرنے پر سود لینےکا گناہ نہیں ہوگا۔

واضح رہےکہ یہ حکم تب ہےجب  متعلقہ ادارہ اس فنڈ کی رقم اپنے اکا ونٹ میں رکھتا ہو یا ملازم کی اجازت کے بغیر کسی  دوسری جگہ انویسٹمنٹ  کررہا ہو۔

اگر ملازم کی رضامندی سے اس  فنڈ کی کسی سودی کاروبار میں سرمایہ کاری کی جا رہی ہو،  تو یہ ایسا ہے جیسے  ملازم نے یہ فنڈازخود وصول کرکے کسی سودی کاروبار میں لگا دیا ہو، کیونکہ اس صورت میں مذکورہ سودی ادارہ ملازم کا وکیل بن جاتا ہے اور وکیل کا قبضہ شرعاً مؤکل کا قبضہ شمار  ہوتا ہے ،اس لیے اس رقم پر جو سود لگایا جائے گا وہ شرعاً سود ہے اور اس کا لینا قطعاً حرام ہے ۔

اور اگر یہ فنڈ ملازم کی اجازت سے مستند مفتیان کرام کی نگرانی میں جا ئز و حلال کاروبار کرنے والے ادارے  میں انویسٹمنٹ کرکے اس کے نفع میں سےایک متعین حصہ  ملازم کو دیا جاتا ہوتواس صورت میں یہ اضافہ  لینا جائز ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 203):

 فالأجرة وإن كانت تجب شيئا فشيئا فقد شرط تأجيل الأجرة، والأجرة كالثمن فتحتمل التأجيل كالثمن.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 300):

(قوله بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك كما أشار إليه القدوري في مختصره لأنها لو كانت دينا لا يقال أنه ملكه المؤجر قبل قبضه وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس المستأجر عليها وحبس العين عنه وله حق الفسخ إن لم يعجل له المستأجر كذا في المحيط لكن ليس له بيعها قبل قبضها۔

البحر الرائق (8/ 5):

قال رحمه الله ( والأجرة لا تملك بالعقد بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن منه ) يعني الأجرة لا تملك بنفس العقد سواء كانت عينا أو دينا وإنما تملك بالتعجيل أو بشرطه أو باستيفاء المعقود عليه وهي المنفعة أو بالتمكن من الاستيفاء بتسليم العين المستأجرة في المدة ۔

البناية شرح الهداية (8/ 260):

(الربا)۔۔في الشرع فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال.

صحیح فقہ السنۃ وأدلتہ و توضیح مذاھب الأئمۃ (304\4):

لیس کل زیادۃ ربا فی الشرع، ولیس کل زیادۃ فی بیع ربا۔

عبدالرحمٰن جریر

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

21/صفر المعظم/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالرحمن جریر بن محمد شفیق

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب