03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹے کومیراث سے عاق کرنے کاحکم
84675میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

میرے دادانے کسی عذرکی وجہ سےمیرے والدکوجائیداد سے عاق کیا اورباقاعدہ طورپراخبارمیں اشتہاردیا،بعدازاں میرے داداکاانتقال ہوگیا اوراس کے بعدمیرے تایااورمیرے والدبھی انتقال کرگئے،اب میرے تایازادبھائیوں نے ہمیں وراثت میں حصہ دینے سے انکارکردیاہے اوروراثت کاحصہ آپس میں تقسیم کرلیا،سوال یہ ہے کہ کیاشرعی طورپرہم وراثت کے حق دار ہیں یانہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

وراثت شریعت کا مقرر کردہ حق ہے، جو کسی کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوسکتا، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر دادانے آپ کے والدکواپنی وراثت سے محروم کردیاتھاتوشرعی طورپراس کی کوئی حیثیت نہیں، شرعی طور پران کا جتنا حصہ بنتا ہے، وہ اس کے مستحق  تھے،مرحوم کی وفات کے بعداس حصہ میں ان کی اولاد کاحق ہےاوراولادکےلئے اس کامطالبہ کرناجائز ہے۔

حوالہ جات

فی تكملة رد المحتار (ج 2 / ص 116):

الارث جبري لا يسقط بالاسقاط.

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

    ۲۰/صفر۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب