03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
موبائل پرریکارڈ شدہ تلاوت سننے اور دورکعت نمازِنفل کی فضیلت  کا حکم
84696قرآن کریم کی تفسیر اور قرآن سے متعلق مسائل کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیا سادہ موبائل پر قرآن کریم کی ریکارڈ شدہ (audio) تلاوت  کا سننا دو رکعات نمازِ نفل  سے افضل ہے ؟                                                                

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 موبائل پر قرآن کریم کی ریکارڈ شدہ (audio) تلاوت  کا سننا باعث ثواب ہے،بشرطیکہ تلاوت کے آداب کا خیال رکھا جائے،مگراس طرح تلاوت سننے سے دو رکعت نفل نماز ادا کرنا افضل ہے،کیونکہ ریکارڈ شدہ تلاوت ایک بے جان اور غیرِ ذی شعورآلے کی آواز ہونے کی وجہ سے تلاوتِ صحیحہ کے حکم میں نہیں ، اس لیے ریکارڈ شدہ آیتِ سجدہ سننے سے سجدۂ تلاوت بھی واجب نہیں ہوتا،جبکہ نمازکئی عبادات کا مجموعہ اور بندے کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والا ایک اہم عمل ہے،جس میں نمازی کا تلاوت  کرنابھی ایک مستقل عمل ہے،لہٰذا ریکارڈ شدہ تلاوت کے سننے سےدو رکعت نمازِ نفل  کا افضل ہونا  ظاہر ہے۔

نیز واضح رہے کہ فرائض کے علاوہ اعمال میں فضیلت کا دارومدار اخلاص ،اتباعِ سنت او ر مختلف حالات و کیفیات وغیرہ پر ہوتا ہے،اس لیے کسی بھی نیک عمل کو چھوٹا سمجھ کر چھوڑنا نہیں چاہیے،بلکہ جب بھی  کسی نیک  عمل کی جس قدر توفیق میسر ہو ، اسے غنیمت سمجھ کر اخلاص  اور سنت کے مطابق  بجا لانا چاہیے۔

حوالہ جات

الموسوعة الفقهية الكويتية (4/ 96):

 من تتبع أقوال الفقهاء يتبين أنهم يرتبون آثارالاستماع على استماع الصوت، أما استماع الصدى فلم يتحدث عنه إلا الحنفية.ويظهر أن الحنفية لا يرتبون آثار الاستماع على استماع الصدى، فقد نصوا على أنه لا تجب سجدة التلاوة بسماعها من الصدى.( مراقي الفلاح بحاشية الطحطاوي ص 264 طبع المطبعة العثمانية)

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 186):

 بخلاف السماع من الببغاء والصدى فإن ذلك ليس بتلاوة وكذا إذا سمع من المجنون؛ لأن ذلك ليس بتلاوة صحيحة لعدم أهليته لانعدام التمييز.

  محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 22 /صفر/1446ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب