| 84726 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
اگر کوئی عورت سرکاری اسکول میں ٹیچر ہو اور اس کی پوسٹنگ کسی دوسرے گاؤں میں ہو، جہاں اس کے لیے روزانہ جانا ممکن نہ ہو، کیونکہ اس کا راستہ بہت لمبا ہے، نیز اس گاؤں میں رہائش اختیار کرنا بھی ممکن نہیں، تو کیا وہ ہفتہ میں ایک دن مقرر کر کے جائے اور اسی دن کلاس کو پڑھائے اور باقی ہفتہ نہ جائے تو کیا ایسی صورت میں اس کی تنخواہ حلال ہو گی؟ جبکہ اسکول کا سربراہ اس پر راضی ہے، کیا یہ سربراہ اجر ہے یا گورنمنٹ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال میں اسکول ٹیچر کا معاملہ حقیقت میں اسکول کے سربراہ کے ساتھ نہیں، بلکہ گورنمنٹ کے ساتھ ہے اوراسکول کے سربراہ کی حیثیت صرف منتظم ہونے کی حد تک ہے، لہذا اصولی طور پر اس کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی ملازم کو صرف ایک دن حاضری دینے اور بقیہ پورا ہفتہ چھٹی کرنے کی اجازت دے۔ اس لیے مذکورہ خاتون پر لازم ہے کہ وہ کسی گاڑی وغیرہ کے ذریعہ دوسرے گاؤں جا کر اپنی ڈیوٹی پورا ہفتہ مکمل انجام دے، ورنہ جتنے دن یہ خاتون اسکول سے غیر حاضر رہے گی اتنے دنوں کی تنخواہ اس کے لیے حلال نہ ہو گی، بلکہ اتنی تنخواہ حکومت کو واپس کرنا ضروری ہے، البتہ مجبوری کے پیشِ نظر سفارش وغیرہ کے ذریعہ کسی نزدیکی گاؤں میں اپنا تبادلہ کروانے کی اجازت ہے۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 230) دار احياء التراث العربي – بيروت:
"الإجارة: عقد على المنافع بعوض" لأن الإجارة في اللغة بيع المنافع، والقياس يأبى جوازه؛ لأن المعقود عليه المنفعة وهي معدومة.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
22/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


