| 84727 | وصیت کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
مرحوم محمد جاوید نے دو شادیاں کیں، پہلی بیوی سے دو بیٹے پیدا ہوئے، جبکہ دوسری بیوی لبنی جاوید سے کوئی اولاد نہیں ہے، پہلی بیوی مرحوم کی زندگی میں وفات پا گئی، مرحوم نے اپنی وفات سے قبل اپنے تین گھر اور ایک کروڑ روپیہ نقدی اپنی دوسری بیوی کو دیے اور اسٹامپ پیپر پر یہ لکھ کر وصیت کی کہ "میری باقی مانندہ جائیداد یعنی شہر اور گاؤں کی زمین بیچ کر حاصل شدہ رقم میری بیوی لبنی جاوید کو دے دی جائے اور میرے دونوں بیٹوں کو کچھ نہیں دیا جائے، کیونکہ بوجہ نافرمانی میں انہیں عاق کرتا ہوں۔" سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں بیٹے اپنے والد مرحوم کے ترکہ سے کسی حصہ کے حق دار ہیں یا نہیں؟ یہ دونوں بیٹے حیات ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید دو باتیں جاننا چاہیے:
پہلی بات: وراثت کا قانون آدمی کی وفات کے بعد جاری ہوتا ہے اور وراثت ایک شرعی اور جبری حق ہے، چنانچہ آدمی کی وفات کے بعد ورثاء کے لیے یہ حق خود بخود ثابت ہو جاتا ہے، اس لیے انسان زندگی میں اس حق سے کسی کو محروم نہیں کرسکتا، لہذا زندگی میں کسی شخص کا یہ وصیت کر کے جانا کہ میں بوجہ نافرمانی اپنے بیٹوں کو عاق یعنی اپنی جائیداد سے محروم کرتا ہوں شرعا اس کا اعتبار نہیں ہوگا۔
دوسری بات: شرعی اعتبار سے وارث کے لیے وصیت معتبر نہیں، کیونکہ شریعت نے وارث کے لیے میراث میں حصہ مقرر فرما دیا ہے، اس لیے شریعت نے وارث کے لیے وصیت کا اعتبار نہیں کیا، البتہ اگر وارث کے لیے کی گئی وصیت کو دیگر ورثاء نافذ قرار دیں تو یہ وصیت معتبر ہو گی، بشرطیکہ اجازت دینے والے ورثاء عاقل اور بالغ ہوں۔
اس تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں شخصِ مذکور کا اپنی بیوی کے لیے یہ وصیت کر کے جانا کہ"میری باقی مانندہ جائیداد یعنی شہر اور گاؤں کی زمین بیچ کر حاصل شدہ رقم میری بیوی لبنی جاوید کو دے دی جائے" غیر معتبر ہے، لہذا اس وصیت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا، بلکہ مرحوم کی متروکہ جائیداد ان کے تمام ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گی۔
اسی طرح مرحوم کا یہ وصیت کرنا کہ" میرے دونوں بیٹوں کو کچھ نہیں دیا جائے، کیونکہ بوجہ نافرمانی میں انہیں عاق کرتا ہوں۔" درست نہیں، کیونکہ تمہید میں مذکور تفصیل کے مطابق زندگی میں میراث کے حق سے کسی وارث کو محروم اور عاق نہیں کر سکتا، لہذا مرحوم کی جائیداد میں آپ دونوں بھائیوں کا بھی شرعی حصہ ہے، جس کا وصول کرنا آپ دونوں کا حق ہے۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 513) دار احياء التراث العربي – بيروت:
قال: "إلا أن يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار" لأن الامتناع لحقهم وهم أسقطوه"ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته" لأنها قبل ثبوت الحق إذ الحق يثبت عند الموت فكان لهم أن يردوه بعد وفاته، بخلاف ما بعد الموت لأنه بعد ثبوت الحق فليس لهم أن يرجعوا عنه، لأن الساقط متلاش. غاية الأمر أنه يستند عند الإجازة، لكن الاستناد يظهر في حق القائم وهذا قد مضى وتلاشى، ولأن الحقيقة تثبت عند الموت وقبله يثبت مجرد الحق.
لسان الحكام (ص: 236) البابي الحلبي – القاهرة:
وفي جامع الفتاوى ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منه أو من حصتي لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبري لا يصح تركه.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
22/صفر المظفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


