03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کے ساتھ کام میں شریک کاروبار میں بیٹوں کی شرکت کا حکم
84715شرکت کے مسائلشرکت سے متعلق متفرق مسائل

سوال

میرے والد گرامی محمد انور مگو نے 70 ستر کی دہائی میں اپنے سرمایہ سے بیرنگ کا کام شروع کیا، پھر یکے بعد دیگرے ہم بھائی قیصر احمد ، خالد احمد اور تنویر احمد اس کاروبار میں اپنے والد کے ساتھ  کام میں شریک ہو گئے ،اس کا روبار سے والد صاحب نے یکے بعد دیگرے چندد کا نیں  کچھ انہی کی ملکیت تھیں ( جواب قیصر برادر کمپنی کے قبضہ میں ہیں) اور کچھ انہوں نے ملکیتی طور پر اپنے بیٹوں کے نام کیں اور اس کاروبار سے انہوں نے اپنی حیات ہی میں اپنی تینوں بیٹیوں کو ایک ایک مکان ملکیتی طور پر دے کر قبضہ بھی دے دیاتھا۔

1992ء میں والد گرامی کا انتقال ہوا تو ہم بھائیوں ( قیصر احمد ، خالد احمد اور تنویر احمد ) میں اب تک (اگست 2024 ء ) کسی قسم کی وراثت تقسیم نہیں ہوئی، البتہ میرے بڑے بھائی قیصر احمد نے وراثت میں معتد بہ رقم ہماری تینوں بہنوں کو دی تھی۔اسی طرح میری والدہ صاحبہ کے والد ( میرے نانا ) کے انتقال کے بعد ( نانا) کی وراثت کا ایک مکان فروخت کیا گیا، اس میں سے جو میری والدہ صاحبہ کا حصہ تھا اس میں سے ہماری بہنوں کو وراثت کا شرعی حصہ ادا کر دیا گیا، جبکہ ہم بھائیوں ( قیصر احمد ، خالد احمد اور تنویر احمد ) کےحصے کی جو رقم بنتی تھی وہ قیصر برادر کمپنی میں سرمایہ کے طور پر شامل کر دی گئی۔ 2004ءمیں میرا بڑا بیٹا اسامہ احمد پھر 2006ءمیں دوسرا بیٹا بلال احمد پھر 2014ءمیں تیسرا بیٹا حمزہ احمد کا روبار میں شامل ہو گئے، میرے بڑے بیٹے اسامہ احمد کو 2004ء میں تنہا راولپنڈی یہ کہہ کر منتقل کیا کہ اپنے کاروبار کے لیے خود قربانی دینا پڑتی ہے اب پنجاب میں خاص طور پر قیصر برادر کمپنی کا جتنا بھی کاروبار ہے اس میں بنیادی کردار میرے بڑے بیٹے (اسامہ احمد ) کا ہے۔ چونکہ والد گرامی کے انتقال کے بعد کا روبار اور خاندان میں والد کا درجہ ہم اپنے بڑے بھائی ( قیصر احمد ) کو ہی دیتے رہے اس لیے کاروباری کمپنی ( قیصر برادر ) ڈاکومنٹس میں ان کے نام ہے، اسی طرح والد صاحب کی حیات میں بھی کمپنی کا نام قیصر برادر ہی تھا نام شروع میں ان کا ہے، لیکن برادر سے ہم بھائی خالد احمد اور تنویر احمد ہی مقصود ہیں اور کمپنی نے اس کا روبار سے جو پراپرٹیاں خریدیں محض قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے وہ ہمارے بڑے بھائی قیصر احمد کے نام ہیں۔ میرے بڑے بھائی قیصر احمد کے بچوں اور میرے ( خالد احمد ) کے بچوں کے مابین 2021ءمیں اختلافات شروع ہو گئے جو کہ سنگین ہوتے چلے گئے تو میں نے کمپنی قیصر برادر سے اپنا کاروباری حصہ اور اس کاروبار سے حاصل شدہ تمام پراپرٹیاں ، مال تجارت، بینک بیلنس گاڑیوں کی تقسم کا مطالبہ کیا تو میرے بڑے بھائی قیصر احمد نے یہ کہہ کر کہ تمام کاروبار اور مال وغیرہ میرا ہے تمہارا اس میں کسی قسم کاکوئی حصہ نہیں ، مجھے بے دخل کر دیا۔دریں صورت آپ سے شرعی رہنمائی مطلوب ہے کہ میرے والد صاحب کے سرمایہ سے شروع ہونے والے اور پھر میرے اور میرے بیٹوں کی سالہا سال شمولیت کے بعد شرعا میرا کیا حصہ ہے؟ اسی طرح والد صاحب کی وراثت سے میرے حصے میں آنے والی رقم جو اس کمپنی قیصر برادر میں شامل ہوئی اور میری والدہ صاحبہ کی وراثت سے میرے حصے میں آنے والی رقم بھی جو اس کمپنی قیصر برادر کے سرمائےمیں شامل ہوئی، اس میں میرے لیے شرعا کیا حصہ بنتا ہے اور بہنوں کے حصہ کے بارے میں  شرع کیا حکم دیتی ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ میرے بیٹوں نے کاروبار میں اتنا عرصہ جو کام کیا ان کے کام کے عوض ان کو کچھ حصہ یااجرت ملے گی یا نہیں؟

تیسرا سوال یہ کہ والد صاحب کی حیات اور وفات کے بعد بھی کمپنی قیصر برادر ہم سب بھائیوں کو ضرورت کے مطابق گھر کی ضروریات وغیرہ کےلیے خرچ دیتی رہی ہے۔ اسی طرح کمپنی نے ہم سب بھائیوں کو رہائش کے لیے مکانات بھی دیے ہیں، لیکن قیصر بھائی کا مکان 2000 گز کا ہے اور میرا ( خالد احمد ) کا 500 گز کا ہے اور میرے چھوٹے بھائی تنویر احمد کا بھی 500 گز کا ہے۔نوٹ:  اس بات کا اعتراف ہے کہ اس کمپنی میں ہم سب بھائیوں سے زیادہ محنت ہمارے بڑے بھائی قیصر احمد نے کی ہے۔

وضاحت: سائل نے بتایا کہ یہ دوہزار گز اور پانچ پانچ سو گز پر مشتمل  گھر والد صاحب نے دیے تھے، بلکہ والد صاحب کی زندگی کے بعد بنائے ہیں، قیصر کا پہلا گھر ایک ہزار گز پر مشتمل تھا، پھر انہوں نے دوسرا گھر بھی کمپنی کی رقم سے ایک ہزار گز پر مشتمل خریدا تھا، اسی طرح جب حج یا عمرہ کے لیے جانا ہوتا تو ہم ضرورت کے بقدر  کاروبار سے رقم لے لیتے تھے،  نیز یہ بھی بتایا کہ بہنوں کو بھی باقاعدہ میراث تقسیم کر کے حصہ نہیں دیا گیا، بلکہ جس بہن کو جتنی ضرورت پیش پڑتی اتنی رقم اس کو دے دی جاتی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. سوال میں ذکر کی گئی تفصیل سے درج ذیل امور معلوم ہوئے:

الف: کاروبار والد نے اپنے پیسوں سے شروع کیا تھا اور تینوں بیٹے والد کی زندگی میں ہی  ان کے ساتھ کام میں شریک ہو گئے تھے۔

ب: والد کے انتقال کے بعد وراثت تقسیم نہیں کی گئی، چنانچہ کسی بھائی کو والد کی وراثت میں سے کوئی حصہ نہیں

دیا گیا اور کاروبار کو اسی طرح تینوں بھائی چلاتے رہے۔

 ج: والدہ کو ملنے والے پلاٹ میں موجود تینوں بھائیوں کا حصہ کاروبار میں انویسٹمنٹ کے طور پر لگا لیا گیا تھا۔

  د: والد صاحب کی زندگی میں ہی کمپنی کا نام قیصر برادر تھا اور برادر سے سب بھائی مراد تھے، نیز بڑے بھائی قیصر کے نام پر پراپرٹیاں  صرف قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے لگوائی گئی تھیں۔

مذکورہ بالا تمام امور سے معلوم ہوا کہ شرعی نقطہٴ نظر سے والد کی زندگی میں یہ کاروبار والد کا تھا اور ان کی وفات کے بعد سب بہن بھائی اس کاروبار  اور اس سے خریدی گئی پراپرٹیوں میں اپنے وراثتی حصوں کے مطابق شریک تھے، نیزقانونی طور پر کوئی جائیداد وغیرہ کسی کے نام کروانے سے وہ شرعاً مالک نہیں بنتا،  لہذا اب قیصر کا یہ کہنا کہ یہ سب کاروبار اور خریدی گئیں پراپرٹیاں میری ملکیت ہیں بالکل درست نہیں، اس کی شرعی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کاروبار میں سے سب بھائی بہنوں  کو ان کے شرعی حصوں کے مطابق حصہ دے۔ بہنوں کو بھی چونکہ وراثت کی تقسیم اور  تصریح کیے بغیر ویسے ہی بہنوں کو بوقت ضرورت  یہ  رقم دی گئی تھی  اس لیےوہ بھی اپنے والد کاروبار میں وراثتی شرعی حصہ کے مطابق شریک ہوں گی اور بڑے بھائی کی طرف سے ان کو دی گئی رقم اگر بطور تعاون دی گئی تھی تو وہ تبرع اور احسان شمار ہو گا اور اگر واپس لینے کے ارادے سے دی گئی تھی تو وہ  رقم قابلِ واپسی قرض شمار ہو گی اور بہنوں کے وراثتی حصہ سے اس کی کٹوتی کی جائے گا، نیز اگر وہ رقم وراثتی حصہ کے طور پر دی گئی تھی تو بھی ان کی کاروبار سے شرکت ختم نہیں ہو گی، کیونکہ شرکت دوسرے شریک کے علم میں لائے بغیر یک طرفہ طور پر ختم نہیں کی جا سکتی،اس لیےشرکت باقی رہے گی اوردی گئی  رقم  ان کے کاروبار میں وراثتی حصہ سے  منہا کر لی  جائے گی۔

  1. آپ تینوں بھائیوں کے جن بیٹوں نے اس کاروبار میں کام کیا اصولی طور پر وہ اپنے والد کے کاروبار میں شریک شمار نہیں ہوں گے، کیونکہ یہ کاروبار تینوں بھائیوں کے درمیان مشترکہ تھا اور بیٹا جب اپنے والد کے کاروبار میں کام کرے اور وہ والد کے عیال میں بھی شامل ہو تو شرعی اعتبار سے وہ  بیٹا کاروبار میں شریک شمار نہیں ہوتا، بلکہ وہ بطور ِمعاون سمجھا جاتا ہے، البتہ چونکہ آج کل اتنا  عرصہ بلا معاوضہ کوئی شخص کام نہیں کرتا، اس لیے ان کو اتنا عرصہ مذکورہ کاروبار میں کام کرنے پر اجرتِ مثل (تاجروں کے عرف میں اس طرح  کےکاربار میں کام کرنے پر جو اجرت ماہانہ دی جاتی ہو)  دی جائے گی۔
  2. مشترکہ کاروبار سے ابھی تک سب بھائی جو گھریلو اخراجات کرتے رہے ہیں ان کے حساب کی ضرورت نہیں، کیونکہ مشترکہ کاروبار کرتے ہوئےاخراجات میں تھوڑی بہت کمی بیشی عرف کی وجہ سے قابلِ مواخذہ نہیں ہوتی، البتہ رہائشی مکان میں قیصر کا دوہزار گز پر مشتمل مکان بنانا اور باقی بھائیوں کو پانچ  پانچ سو گز  پر مکان بنا کر دینا عدل اور انصاف کے تقاضا کے خلاف ہے،لہذا  اس کا بھی حساب ہو گا، جس کا طریقہ یہ ہے کہ تینوں گھروں کی علیحدہ علیحدہ قیمت لگوا کر جتنی رقم قیصر کے حصے میں زیادہ گئی ہو اس کو کاروبار میں موجود قیصر کے حصہ سے منہا کیا جائے یا اتنی اتنی رقم دیگر بھائی بھی لے لیں،باقی جو مکان والد صاحب نے اپنی زندگی میں سب بیٹوں کو ملکیتا دیے تھے وہ والد صاحب کی طرف سے ہر ایک کے لیے عطیہ تھا، اس لیے ان کا حساب کرنے کی ضرورت نہیں،  اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی اگر کسی نے غیر معمولی رقم لی ہو، مثلااگردو بھائیوں نے مشترکہ رقم سے حج کیا ہو اور ایک بھائی نے حج نہ کیا ہوتو کاروبار کی تقسیم کےوقت ان معاملات کا بھی  اسی طرح حساب کیا جائے گا۔

یہ بھی یاد رہے کہ کسی کے مال پر ناحق قبضہ کرنے پر قرآن وحدیث میں جگہ جگہ سخت وعیدیں آئی ہیں، نیز آخرت کے دردناک عذاب کے علاوہ حرام مال کی نحوست کا اثر دنیا میں بھی انسان کی زندگی اور اس کی اولاد وغیرہ پر پڑتا ہے، جس کی وجہ سے انسان کبھی خطرناک حادثہ یا کسی مہلک بیماری میں مبتلا ہو جاتا ہے، اس لیے آپ کے بھائی  رلازم ہےکہ خدا سے ڈرے اور جلد ازجلد آپ لوگوں کا حصہ آپ حضرات کے حوالے کرے۔

حوالہ جات

القرآن الكريم [النساء: 29]:

{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ }

الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 230) دار الكتب العلمية، بيروت:

 استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم، وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له استأجر شيئا لينتفع به خارج المصر فانتفع به في المصر، فإن كان ثوبا وجب الأجر وإن كان دابة لا.

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (3/ 125) دار الكتب العلمية:

فالعبرة لعادتهم:  أي لعادة أهل السوق فإن كانوا يعملون بالأجر يجب أجر المثل وإن كانوا يعملون بغير أجر فلا يجب أجره؛ وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعينه على بعض أعماله كذا في الولوالجية.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 42) دار الفكر-بيروت:

(قوله فالعبرة لعادتهم) أي لعادة أهل السوق، فإن كانوا يعملون بأجر يجب أجر المثل وإلا فلا. (قوله اعتبر عرف البلدة إلخ) فإن كان العرف يشهد للأستاذ يحكم بأجر مثل تعليم ذلك العمل، وإن شهد للمولى فأجر مثل الغلام على الأستاذ درر۔

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 370، المادة: 1353) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

 (تنفسخ الشركة بفسخ أحد الشريكين، ولكن يشترط أن يعلم الآخر بفسخه، ولا تنفسخ الشركة ما لم يعلم الآخر بفسخ الشريك)....ولا يشترط في حصة الفسخ رضاء الآخر.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (370/3)دار الجيل، بيروت:

تنفسخ الشركة بفسخ أحد الشريكين أو بإنكاره الشركة أو بقول أحدهما للآخر لا أعمل معك فإنه بمنزلة فاسختك وتنفسخ ولو كان مال الشركة موجودا في حالة العروض................. ولكن يشترط أن يعلم الآخر بفسخه لأن هذا الفسخ عزل عن الوكالة. انظر المادة (1523) فلذلك لا تنفسخ الشركة ما لم يعلم الآخر فسخ الشريك لها. وفي هذه الصورة إذا عقد ثلاثة عقد شركة مفاوضة وغاب أحدهما وأراد الحاضران فسخ الشركة فليس لهما فسخها ما لم يعلم الغائب بالفسخ.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 313) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1592) إذا قال أحد في حق الحانوت الذي في يده بموجب سند: إنه ملك فلان , وليس لي علاقة فيه واسمي المحرر في سنده مستعار , أو قال في حق حانوت مملوك اشتراه بسند من آخر: إنني كنت قد اشتريته لفلان , وإن الدراهم التي أديتها ثمنا له هي من ماله , وقد حرر اسمي في سنده مستعارا. يكون قد أقر بأن الحانوت ملك ذلك الشخص في نفس الأمر.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

22/صفر المظفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب