03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خفیہ نکاح کا حکم
84706نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

سوال رومن اردو میں ہے،جس کا خلاصہ درج ذیل نکات میں موجود ہے۔

مردشادی شدہ ہے،دو بچے ہیں،پہلی شادی چل رہی  ہے،اگرچہ اہلیہ زبان سے تیز ہے،تاہم شوہر کی برداشت اور صبر سے گذارہ چل رہا ہے۔مرد جاب کرتاہے،وہاں ایک لڑکی کے ساتھ تعلق بن جاتا ہے،لڑکی کی عمر 40 سال ہے،اور اپرمڈل کلاس سے تعلق رکھتی ہے،جبکہ لڑکے کی عمر33 سال ہے اور مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتاہے۔لڑکی بار بار ملنے کا کہتی  ہے،مرد منع کرتاہے ،اور نکاح کا اظہار کرتاہے،جس پر اس کی پہلی بیوی بھی راضی ہے،جبکہ لڑکی اپنی فیملی کی وجہ سے نکاح کرنے سے ڈرتی ہے۔اب پوچھنا یہ ہے کہ

 ایساخفیہ نکاح کرنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 شریعتِ مطہرہ نے لڑکی اور لڑکے دونوں اورخصوصاً لڑکی کی حیاء ،اخلاق ،معاشرت کا خیال رکھتے ہوئے ولی کے ذریعے نکاح کا نظام قائم کیا ہے ،یہی شرعاً ،اخلاقاًاور معاشرۃً پسندیدہ طریقہ ہے ،اسی میں دینی ،دنیوی اور معاشرتی فوائد ہیں،نکاح میں اس قدر اخفاء کہ لڑکا اور لڑکی کے والدین کو بھی خبر نہ ہو یا ان کی اجازت ورضامندی کے بغیر نکاح کرلینا منشأ شریعت ،نیز عرفا شرم وحیاءکے خلاف ہے، اللہ تعالی  نے والدین اور اولاد کے درمیان جو رشتہ محبت قائم کیا ہے اس کی نظیر دنیا میں نہیں، اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اولاد، والدین کی ہر جائزبات میں اطاعت کرے اور ان کے مشورہ سے اپنے اُمور کو سرانجام دے، نہ یہ کہ اولاد ایسے اسباب پیدا کرے جن سے والدین کی عزت و آبرو پہ حرف آئےاور برادری اور خاندان میں رسوائی کا سبب ہو، تاہم اگر اولادوالدین کو اعتماد میں لئے بغیر کورٹ میرج  یا اپنی مرضی سے کہیں اور  خفیہ نکاح کرلے تو اس طرح کیا ہوا نکاح  اخلاق ومعاشرت سے قطعِ نظر قانون ِشریعت کے لحاظ سے کس حد تک معتبر ہے؟ اس  کی تفصیل نمبر2 میں آرہی ہے۔

حوالہ جات

وفی مسند أحمد (5/ 353):

عن ابن عباس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الأيم أولى بنفسها من وليها، والبكر تستأمر في نفسها، وصمتها إقرارها»

وفی سنن الترمذي (2/ 390):

 عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أعلنوا هذا النكاح، واجعلوه في المساجد، واضربوا عليه بالدفوف.

هذا حديث غريب حسن في هذا الباب، وعيسى بن ميمون الأنصاري يضعف في الحديث، وعيسى بن ميمون الذي يروي، عن ابن أبي نجيح التفسير هو ثقة.

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

22/صفر 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب