| 84746 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
زید وہمی طالب علم ہے۔اس نے درس کے دوران کلما کی طلاق والی مثال پڑھی، اس کو وہم ہوا کہ اس سے طلاق معلق ہوگی۔ایک دن ساتھیوں کے ساتھ کلما کی طلاق پر تبصرہ چل رہا تھا، زید نے بتایا کہ وہ کلما کی طلاق دے چکا ہے۔ اس سے وہی شک والی طلاق مراد تھی اور ارادہ یہ تھا کہ دوست سے اس مسئلہ کے بارے میں پوچھے گا۔اسی دوران دوسرے ساتھی نے پوچھا :کیا تو دے چکا ہے؟زید تھوڑا رکا،پھر سوچا کہ اس کو کیا بتاؤں گا کہ اصل میں مجھے وہم ہے کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟زید نے کہا کہ ہاں ،دے چکا ہوں۔ذہن میں یہ تھا کہ پتہ نہیں وہ شک والی طلاق واقع ہوئی ہوگی یا نہیں؟بعد میں زید کو معلوم ہوگیا کہ مثال بیان کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔سوال یہ ہے کہ زید نے جو اس شک والی طلاق کی خبر دی تھی کیا اس سے طلاق معلق ہوگئی یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یاد رہے کہ شک ، وسوسہ اور وہم پر مبنی طلاق کا کوئی اعتبار نہیں ،جب تک زبان سے طلاق دینے کا یقین نہ ہو اس وقت تک طلاق واقع نہیں ہو تی، نیز "کلما کی طلاق" نامی کوئی طلاق نہیں ہوتی، البتہ اگر کوئی "کلما" کے الفاظ اپنی جانب سے یوں ادا کرے "کلما تزوجت فهي طالق"، یعنی اردومیں یہ کہے کہ "جب جب میں شادی کروں تو میری بیوی کو طلاق "، تو ہر بار طلاق واقع ہوتی ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ طلاق کے مسائل پڑھتےیاپڑھاتے ہوئے طلاق کے الفاظ کوحکایۃً (یعنی کسی کی گفتگو نقل کرتے ہوئے)اداکرنے سے بھی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں وہم و وسوسہ کی وجہ سے حکایۃً نقل کی گئی طلاق کی خبر یا اطلاع دینے سے طلاق واقع نہیں ہو گی ۔
حوالہ جات
الصحیح لمسلم :کتاب الإیمان، باب تجاوز اللہ عن حدیث النفس والخواطر بالقلب إذا لم یستقر، حدیث: ٣٣١):
عن أبي ہریرۃ رضي اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إن اللہ تجاوز عن أمتي ما وسوست بہ صدورہا، ما لم تعمل بہ أو تتکلم˓˓
) الأشباہ والنظائر: القاعدۃ الثالثبۃ: الیقین لا یزول بالشک، ٥/ ٥٢(:
’’قاعدۃ: من شک ہل فعل شیأا أم لا، فالأصل أنہ لم یفعل۔۔۔۔۔۔ ومنہا: شک ہل طلّق أم لا، لم یقع‘‘.
.( الاشباہ والنظائر ص:۵۲،قاعدۃ من شک ھل فعل ام لا ،):
ومنها:شك هل طلق أم لا لم يقع. شك أنه طلق واحدۃ أو أکثر،بنیٰ علی الأقل کما ذکرہ الإسبیجابي إلا أن یستیقن بالأکثر، أو یکون أکبر ظنه علی خلافه
بدائع الصنائع (3/199) :
ومنها عدم الشك من الزوج في الطلاق وهو شرط الحكم بوقوع الطلاق حتى لو شك فيه لا يحكم بوقوعه حتى لا يجب عليه أن يعتزل امرأته لأن النكاح كان ثابتا بيقين ووقع الشك في زواله بالطلاق فلا يحكم بزواله بالشك ۔۔۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق، کتاب الطلاق، باب ألفاظ الطلاق،ج 3، 278:
"لو كرر مسائل الطلاق بحضرة زوجته ويقول: أنت طالق ولاينوي لاتطلق، وفي متعلم يكتب ناقلًا من كتاب رجل قال: ثم يقف و يكتب: امرأتي طالق و كلما كتب قرن الكتابة باللفظ بقصد الحكاية لايقع عليه."
عبدالرحمٰن جریر
دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی
23/ صفر المعظم /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالرحمن جریر بن محمد شفیق | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


