| 84688 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے متفرق احکام |
سوال
میں ایک کال سینٹر میں جاب کر رہا تھا ،لیکن اس میں کچھ ایسی چیز یں ہیں، جن کی وجہ سے مجھے اس کی آمدنی حرام ہونے کا ڈر تھا۔ پہلے تو کال سینٹر کے بارے میں آپ کو بتا دوں، یہ ایک کمپنی سے کنٹرکٹ کرتے ہیں ،جس میں ان کی سپیسفک چیزوں کو بیچنا ہوتا ہے، جیسے: انشورنس جو کہ اسلام میں حرام ہے، لیکن اس کے ساتھ کچھ اور چیزیں بھی ہیں ،جیسے : سولر پینل انسٹالمینٹس پر اور لون وغیرہ ،لیکن جس سیکٹر میں، میں کام کر رہا تھا وہ ایجوکیشن ریلیٹڈ ہے، مطلب ہمیں لوگوں کو یونیورسٹیوں میں ایڈمیشن دینا ہوتا ہےجس پر اگر وہ ایڈمیشن لیتے ہیں تو ہمیں کمیشن ملتا ہے۔ اب مجھے جو انکم ملے گی کمپنی کی طرف سے وہ ہے تو ایجوکیشن بیچنے کی ،لیکن جو ٹوٹل ریونیو ہے کمپنی کا اس میں انشورنس والے لوگوں کے پیسے بھی انوال ہوں گے، مطلب اس سے میری انکم حلال رہے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگرکمپنی کی کل یا غالب آمدنی حرام کاروبار کی ہو تو ایسی صورت میں سائل کے لئے وہاں ملا زمت اختیار کر نا اور تنخواہ لینا جائز نہیں،البتہ اگر غالب آمدنی حلال اشیاء کی ہویا اسے علم ہے کہ ہمیں ایجوکیشن کی آمدنی سے تنخواہ دی جارہی ہےتو ایسی صورت میں سائل کے لئے وہاں ملازمت اختیار کر نے اور اس سے حا صل شدہ آمدنی کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجا ئش ہوگی۔
حوالہ جات
فی فقہ البیوع(2/986) :
فالعبرة عند الحنفیہ للغلبہ،فان کان الغالب فی مال المعطی الحرام ،لم یجزلہ وإن کان الغالب فی مالہ الحلال وسع لہ ذلک۔اھـ
وفی الرد(9/87) :
وفي الحاوي : سئل محمد بن سلمۃ عن أجرۃ السمسار فقال : أرجو أنہ لا بأس بہ ، وإن کان في الأصل فاسدًا لکثرۃ التعامل ، وکثیر من ھذا غیر جائز فجوزوہ لحاجۃ الناس إلیہ کدخول الحمام۔
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
22/صفر 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


