| 84747 | نماز کا بیان | نمازمیں وضوء ٹوٹ جانے کا بیان |
سوال
ہماری مسجد میں ظہر کی نماز کے دوران امام صاحب کا وضو ٹوٹ گی،ا تو اس نے کسی اور ساتھی کو اپنا خلیفہ بنایا۔ اب جس کو خلیفہ بنایا، وہ امام صاحب کے پیچھے نہیں تھے، بلکہ چار پانچ ساتھی بائیں جانب کھڑے تھے۔ امام صاحب نے ان کو اشارہ کیاتو وہ محراب کی طرف آگے بڑھے۔ خلیفہ نے سمجھا کہ امام صاحب کا وضو شروع سے نہیں تھا، ابھی مجھے دوبارہ نماز پڑھانی ہے، اس لیے وہ نماز توڑنے کی نیت سے ہاتھوں کو کھول کر بڑے بڑے قدموں کے ساتھ محراب کی طرف آگے بڑھے، اور یہ بھی خیال نہ رکھا کہ اس کا سینہ قبلہ کی طرف رہے، بلکہ سیدھا محراب کی طرف چلے گئے۔ پھر جب وہ محراب میں کھڑے ہوگئے تو تب انہیں سمجھ آیا کہ امام صاحب کا وضو درمیان میں ٹوٹ گیا تھا اور مجھے خلیفہ بنایا۔ اس لیے اس نے دوبارہ ہاتھ باندھ لیے اور بقیہ نماز پڑھائی۔ اب خلیفہ کو درج ذیل وجوہات کی وجہ سے شک ہے کہ یہ نماز ہوگئی یا نہیں:
۱: اس کا سینہ قبلہ کی طرف سے شاید پھر گیا ہو۔
۲: اس نے آگے بڑھتے ہوئے بڑے بڑے قدم لیے، گویا اس نے عمل کثیر کیا۔
۳: وہ خلیفہ بننے کی نیت سے آگے نہیں بڑھا، بلکہ نماز توڑنے کی نیت سے آگے بڑھا اور دو صفوں سے زیادہ فاصلہ طے کیا۔
تو ابھی سوال یہ ہے کہ یہ نماز ہوگئی یا نہیں؟ اگر نہیں تو اب کیا کرنا چاہیے؟ یہ ایک مدرسہ ہے جہاں چند طلبہ مستقل رہائش پذیر ہیں اور مختلف نمازی باہر سے بھی آتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
خلیفہ کے لیے عمل کثیر کے نفی کی شرط نہیں ہے۔اسی طرح اگر قبلہ سے چہرہ پھر جائے ، یا دو صفوں سے زیادہ فاصلہ طے کر لے تب بھی نماز فاسد نہ ہوگی ،البتہ ان کے علاوہ کوئی نماز کے منافی کام کیا تو نماز فاسد ہو جائے گی۔اسی طرح محراب میں پہنچ کے بھی امامت کی نیت کی جاسکتی ہے،لیکن اس کے لیےیہ شرط ہے کہ امام کے مسجد سے نکلنے سے پہلے خلیفہ امامت کی نیت کر لے۔اگر امام کے نکلنے سے پہلےخلیفہ نے امامت کی نیت نہیں کی تو سب کی نماز فاسد ہو جائے گی۔
مذکورہ صورت میں چونکہ نماز کے خلاف کوئی عمل نہیں پایا گیا ،فقظ نماز توڑنے کی نیت کی گئی لہذ اس نیت کا اعتبار نہ ہوگا ، اگر امام کے مسجد سے نکلنے سے پہلے خلیفہ نے نماز کی نیت کر لی تھی تو یہ نماز درست اور صحیح ہے،دوبارا لوٹانے کی ضرورت نہیں۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (1/ 95):
ويقدم من الصف الذي يليه ولا يستخلف بالكلام بل بالإشارة وله أن يستخلف ما لم يجاوز الصفوف في الصحراء وفي المسجد ما لم يخرج عنه كذا في التبيين۔
حاشية ابن عابدين (1/ 599):
اعلم أن لجواز البناء ثلاثة عشر شرطا: كون الحدث سماويا من بدنه، غير موجب لغسل، ولا نادر وجود ولم يؤد ركنا مع حدث أو مشى، ولم يفعل منافيا أو فعلا له منه بد، ولم يتراخ بلا عذر كزحمة، ولم يظهر حدثه السابق كمضي مدة مسحه، ولم يتذكر فائتة وهو ذو ترتيب ولم يتم المؤتم في غير مكانه، ولم يستخلف الإمام غير صالح لها۔
المبسوط» للسرخسي (1/ 173):
(رجل سلم في الركعتين من الظهر ناسيا ثم ذكر فظن أن ذلك يقطع الصلاة فاستقبل التكبير ينوي به الدخول في الظهر ثانية وهو إمام قوم وكبروا معه ينوون معه ذلك فهم على صلاتهم الأولى يصلون ما بقي منها ويسجدون للسهو) لما بينا أن سلام الإمام لا يقطع التحريمة، فهم في التحريمة في صلاتهم بعد قد نووا إيجاد الموجود وذلك لغو. بقي مجرد التكبير وهو لا يقطع الصلاة ۔
محمد سعد ذاكر
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
25/صفر /1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعد ذاکر بن ذاکر حسین | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


